سہ روزہ ادبی وثقافتی میلے کا دوسرا دن

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//کلچرل اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقدہ ’سہ روزہ ادبی وثقافتی میلہ‘کے دوسرے روز محفل موسیقی میں پہاڑی کے فنکاروں نے زبردست کارکردگی پیش کی۔عالمی سطح پر مشہورپہاڑی گلوکار طارق پردیسی، مسرت ناز، راجوری سے پرویز ملک، پونچھ سے پردیپ کھنہ ، فیاض خان، اشفاق میر، ساہل مہرا نے اپنی شاندارپرفارمنس سے حاضرین سے بھر پور داد حاصل کی۔گوجری کے بشیر مستانہ، پروینہ بانو، ڈوگری سریندر منہاس، رومیش چندر، انیتا شرما، سمیتہ بینرجی، ٹی سیوانگ سورجے نے بھی شاندار پرفارمنس پیش کی۔ غزل گائیکی کے راجکمار کہے جانے والے درمیش نرگوترہ نے ندا فاضلیؔکا کلام پیش کر کے داد تحسین بٹوری۔قریباًتین گھنٹے سے زائد’’محفل موسیقی ‘‘ چلی جس دوران ابھینو تھیڑبھر ا رہا۔محفل موسیقی کے دوران کلچرل سیکریٹری ڈاکٹر عزیز حاجنی، ایڈیشنل سیکریٹری شکیل الرحمن، پہاڑی شعبہ کے مدیر اعلیٰ فاروق انور مرزا، کلچرل افسرشاہ نواز چوہدری، ڈاکٹر علمدار عدم حسین، راجہ نذر بونیاری، کے ڈی مینی ، پردیپ کھنہ کے علاوہ زبان وادب اور فن سے دلچسپی رکھنے والوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔اس دوران جموں وکشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لانگویجز کے زیر اہتمام منعقدہ3روزہ ’ادبی وثقافتی میلہ‘کے دوسرے روز دار الحکومت جموں میں متعدد مقامات پر رنگا رنگ تمدنی وثقافتی پروگرام منعقد ہوئے جن میں بڑی تعداد میں شائقین نے شرکت کی۔ سہ روزہ ادبی وثقافتی میلہ کے تحت کلچرل اکیڈمی کے ابھینو تھیڑ، کے ایل سہگل ہال، پرکھو کیمپ، جموں یونیورسٹی، باغ بہو، کلاکیندر اور رانی پارک میں منعقد ہوئے۔زراعت کے وزیر غلام نبی لون ہانجورہ نے کلا کیندر جموں میں مصوری نمائش کا افتتاح کیا ۔اس موقعہ پر وزیر موصوف نے کہا کہ ریاست کے گونا گوں ثقافتی اور ادبی ورثے کو نئی پود میں عام کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے مستقبل کے لئے بھی تحفظ دیاجانا چاہیئے۔ وزیر نے مصوری فن پاروں کا غور سے معائینہ کیا ۔انہوں نے ریاست کے تینوں خطوں میں ثقافتی سرگرمیاں عمل میں لانے اور مقامی ٹیلنٹ کو اُجاگر کرنے کے لئے اکیڈیمی کی ستائش کی۔اس دوران کلچرل اکیڈیمی کے سیکرٹری ڈاکٹر عزیز حاجنی نے کہا کہ اکیڈیمی ریاست بھر میں اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد کر رہی ہے تاکہ ثقافتی ورثے کو تحفظ دیا جاسکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اکیڈیمی کشمیرمیں عنقریب ہی ایک آر گیلری قائم کرے گی۔اس موقعہ پر کئی اہم دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ ابھینو تھیڑ میں فلم دیو آف انڈیا کی طرف سے کے ایل سہگل پر بنائی گئی فلم دکھائی گئی۔ جموں وکشمیر ریاست میں تھیڑ کی مجموعی صورتحال، مشکلات اور امکانات ‘ موضوع پر پینل مباحثہ ہوا، پینلسٹ میں راویندر کول، بشیر بھوانی، دیپک کمارل، میپم اوٹیل، موہن سنگھ تھے جبکہ نظامت کے فرائض امین بھٹ نے انجام دیئے۔نوجوان مقررین کے لئے ’جموں وکشمیر میں ادب کا مستقبل‘موضوع پر کے ایل سہگل ہال میں سمپوزیم ہوا جس کی صدارت مرغوب بانہالی، این ڈی جموال نے کی ۔ مقررین میں نصار ندیم نے کشمیری، مرتضیٰ فاضلی نے بالٹی، عادل محی الدین نے کشمیری، شبیر ماگامی نے انگریزی، پرشوتم لال نے ہندی ، راجیشور سنگھ راجو نے ڈوگری، دھیرج کیسر ڈوگری، سمی اللہ نے کشمیری ، سمیر محی الدین نے اردو زبان پر بولا۔ ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی کی طرف سے دینو بھائی پنتھ پر بنائی گئی فلم دکھائی گئی۔ابھینو تھیڑ میں ہی جموں وکشمیر میں ویژول آرٹس کی صورتحال موضوع پر پینل مباحثہ ہوا جس میں سمن گپتا، راجندر ٹکو، راج بھارتی، ویر منشی واور انورادھا ریشی نے بطور پینلسٹ حصہ لیا۔ مختصر پڑھنے کا دور بھی ہوا جس کی صدارت خالد حسین، رتن لال شاد اور چھترپال نے کی جبکہ رائٹرز میں رفیع ولی (اردو)، ایم کے وقار (گوجری)، رحیم رہبر(کشمیری)، طوہا مغل (انگریزی)، سونیتابھوال (ڈوگری)، نیر وشرما (ہندی)، محمد علی اشکور(بالٹی)، سریندر نیر(پنجابی)، راجہ نذربونیاری نے پہاڑی اور عبدالحاد حاجنی نے کشمیری کی نمائندگی کی۔ پرکھو کیمپ، جموں یونیو رسٹی، باغ بہو، رانی پارک میں نکڈناٹک کھیلے گئے۔ پرفارمنگ اور ویژول آرٹس کا جموں وکشمیر میں مستقل موضوع پر کے ایل سہگل ہال میں مباحثہ ہوا جس کی صدارت مشتاق کاک، فاروق نازکی اور جنگ ایس ورمن نے کیا۔ مقررین میں مشتاق علی احمد خان، حسرت، سپنا سونی، روہت بھٹ، شاہی بوشن شرما، نہا لکھوترہ شامل تھے۔شامل کو کلچرل پروگرام/اپنے فن کا مظاہرہ کرؤ پروگرام بھی ہوا جس کی میزبانی انیل چنگاری نے کی۔ادبی وثقافتی میلے کے دوران کلچرل اکیڈمی کے پہاڑی، گوجری، ڈوگری، لداخی، اردو، پنجابی، انگریزی شعبوں کی طرف سے کتابوں کے اسٹال بھی لگائے گئے تھے ۔ابھینو تھیڑ ہال میں ہی ریاست جموں وکشمیر کی سیاسی، اقتصادی، سماجی ، ادبی، ثقافتی تاریخ سے متعلق نایاب تصاویر کی بھی نمائش لگائی گئی ہے۔