تازہ ترین خبر
Home / فرنٹ پیج / مرکز دنیشور شرما کی نامزدگی پر ابہام ختم کرے : ڈاکٹر فاروق کوشش اسی صورت میں کامیاب اگر رپورٹ پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش کی جائے

مرکز دنیشور شرما کی نامزدگی پر ابہام ختم کرے : ڈاکٹر فاروق کوشش اسی صورت میں کامیاب اگر رپورٹ پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش کی جائے

نیوز ڈیسک
سرینگر // نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ مرکزی خصوصی نمائندے دنیشور شرما کی کوششیں اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہیں جب ان کی حتمی رپورٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث کے لئے پیش کی جائے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ نئی دہلی کو بھی واضح کر نا چاہئے کہ وہ شرما کو کشمیر میں مذاکرات کے لئے نامزد کر کے کیا حاصل کر نا چاہتا ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے مطابق اقتدار کے گلیاروں سے نکلنے والے بیانات نے مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی ان کی حیثیت صفر کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی بات چیت کے خلاف نہیں رہے لیکن مرکز کی طرف سے روا رکھے گئے ابہام سے پریشان ہیں ۔ ان کے مطابق ابھی دنیشور شرما نے وادی کا دورہ شروع بھی نہیں کیا تھا کہ نئی دہلی سے متضاد بیانات آنا شروع ہو گئے جن میں وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ( ڈاکٹر جتیندر سنگھ ) بھی شامل تھے جب انہوں نے کہا کہ وہ ( دنیشور شرما ) مذاکرات کار نہیں ہے ۔ ڈاکر فاروق عبداللہ کے مطابق دنیشور شرما کا منڈیٹ وادی میں کسی پر بھی واضح نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا ’’ ہم تذبذب میں ہیں کہ وہ ( شرما ) کیا ہیں اور اس کا ایجنڈا کیا ہے ‘‘۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ دنیشور شرما سے کیوں نہیں ملے تو ان کا کہنا تھا ’’ میں نے سوچا اس کا کوئی فائدہ نہیں جب تک کہ نئی دہلی یہ واضح نہ کر دے کہ اس کے پاس کچھ اختیارات ہیں اور وہ جو سفارشات کرے گا ، انہیں پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا ۔ یہی آگے بڑھنے کا طریقہ ہے ‘‘۔ این سی صدر نے ماضی میں ایسی کوششوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا ’’ ماضی سے واضح ہو تا ہے کہ ایسی کوئی بھی کوشش مخلصانہ نہیں تھی۔ کیا کوئی دلیپ پڈ گائونکر اور ان کی ٹیم رادھا کمار و ایم ایم انصاری کی طرف سے تیار کی گئی رپورٹ کی بات کر تا ہے ‘‘ ۔ یہ رپورٹ ابھی تک تاریکیوں میں پڑی ہے اور وزارت داخلہ میں دھول چاٹ رہی ہے ۔ بہتر ہو تا اگر یہ رپورٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کی گئی ہو تی ‘‘۔دنیشور شرما کے مشن پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا ’’ جب تک حکومت ہند اپنا ذہن صاف نہ کر لے اور اسے رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اختیار نہ دے ، مجھے اس میں کوئی پیش رفت نہیں دکھائی دیتی ۔ بصورت دیگر وہ ڈوول ( نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول )کے تابع ہو ں گے ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کر نے کے لئے پاکستان کو شامل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا ’’ جب میں کشمیر مسئلے کی بات کر تا ہوں ، اس کا مطلب پورا جموں ، کشمیر اور لداخ ہو تا ہے ۔ یہ نہ صرف ترقی کا مسئلہ ہے بلکہ سیاسی مسئلہ بھی ہے اور اس میں پاکستان بھی شامل ہے کیونکہ ریاست کا ایک حصہ اس کے پاس بھی ہے ‘‘۔ ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق’’ جب تک پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا ، جو فیصلہ ہم کریں گے ، اس کا کوئی مطلب نہیں ہو گا ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر گولہ باری موت و تباہی کی طرف لے جاری ہے اور اسے بند کرنے کی ضرورت ہے ۔ این سی صدر نے کہا کہ ان کی سمجھ کے مطابق اٹانومی دینا بہترین حل ہو گا کیونکہ یہ آئین کے دائرے کے اندر ہے ۔ ان کے مطابق ’’ جہاں تک اٹانومی کا تعلق ہے ، کچھ مسائل ہیں لیکن ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہم ان پر بحث کے لئے تیار ہیں۔ اگر اٹانومی رپورٹ میں کوئی ایسی بات ہے ، جس کا فائدہ نہیں ہو گا تو ہم اسے دیکھ سکتے ہیں ۔ یا تو مرکز ہمیں قائل کرے یا ہم انہیں قائل کریں گے ‘‘۔ ڈاکٹر عبداللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی پارٹی نے بھارتی وفاق سے الحق کے خلاف کچھ بھی نہیں کہا ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ہم نے کبھی آزادی کی بات نہیں کی ‘‘۔ آنجہانی وزیر اعظم پی وی نرسمہا رائو کے ایک بیان کا حوالہ د یا جس میں انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ آزادی کو چھوڑ کر اٹانومی کے لئے آسمان حد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے لوگ آر ایس ایس اور بی جے پی کے دفعہ 370کو ختم کر نے کے ایجنڈے سے واقف ہیں ۔ اہوں نے کہا ’’ میں آپ کو وارننگ دیتا ہوں ، اس سے حالات مزید خراب ہو ں گے ۔ پھر ہر کوئی آزادی کے نعرے لگائے گا ۔ اس وقت مجھے الزام نہ دینا ‘‘۔انہوں نے کہا کہ وزیر نریندر مودی کے ساتھ وہ کئی بار ملاقات کر چکے ہیں ۔ یوم آزادی پر لال قلعہ سے ان کی تقریر ، جس میں انہوں نے ملک کے لوگوں سے کشمیریوں کو گلے لگانے کے لئے کہا تھا ، ایک اچھی ادا تھی ۔ لیکن ان کی ٹیم ان الفاظ کو عملی جامعہ نہیں پہنا رہی ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے فوج کے سربراہ جنرل بپن رائوت کو قابو میں رکھنے کی بھی اپیل کی جو بقول ان کے سیاسی بیانات بھی دینے لگے ہیں جو جمہوریت کے لئے اچھا شگون نہیں ۔

Loading...