تازہ ترین خبر
Home / فرنٹ پیج / توی مصنوعی جھیل پروجیکٹ پربھاجپا لیڈران کے متضاد بیانات

توی مصنوعی جھیل پروجیکٹ پربھاجپا لیڈران کے متضاد بیانات

 

توی مصنوعی جھیل پروجیکٹ پربھاجپا لیڈران کے متضاد بیانات
عوامی حلقے تذبذب کا شکار، کس کو غلط ما نیں تو کس کو صحیح….؟
الطاف حسین جنجوعہ
جموں// پی ڈی پی اور بی جے پی کے وزرا ¿ ، ممبران قانون سازیہ اور لیڈران کے سیاسی، انتظامی یا پھر ترقیاتی معاملات پر متضاد بیانات گزشتہ 3سال سے مخلوط حکومت کا خاصہ بن چکے ہیںلیکن اب خود بھاجپا کے اندر ہی اس طرح کا تضاد دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جموں میں دریائے توی پر بنائی جا رہی جھیل سے متعلق مخلوط حکومت کی اکائی بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزراءاور اراکین قانون سازیہ کی طرف سے علیحدہ علیحدہ بیانات سے لوگ تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ کس کو صحیح مانیں اور کس کو غلط۔جموں کو آزاد سیاحتی مرکز بنانے کی غرض سے بلندخواہشاتی منصوبہ مانے جانے والی مجوزہ” مصنوعی جھیل“کی تعمیر پربھاجپا کے دو وزرا کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں جس سے لوگوں میں کنفیوژن پیدا ہو گیا ہے۔ حالیہ دنوں نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کہا تھاکہ مصنوعی جھیل پروجیکٹ تعمیر نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ قابلِ عمل نہیں۔ انہوں نے اس کو ترک کرنے کی بات کہی تھی جس پر جموں کی تجارتی، سیاسی وسماجی تنظیموں نے سخت رد عمل کااظہار کر کے احتجاج کا بھی انتباہ دیا تھا۔ تاہم گزشتہ روز وازیر صحت عامہ، آبپاشی او ر انسداد سیلاب شیام چوہدری ،جن کا تعلق بھی بی جے پی سے ہے، نے دعویٰ کیا کہ جموں کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل اس پروجیکٹ کو اگلے چار ماہ میں مکمل کر لیاجائے گا۔ توی مصنوعی جھیل پروجیکٹ کو ترک کرنے سے متعلق میڈیا رپورٹوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شیام چوہدری نے کہا ”میں متعلقہ وزیر ہوں اور توی جھیل کی تعمیر سے براہ راست محکمہ آبپاشی اور انسداد سیلاب وابستہ ہے، حکومت کا توی جھیل پروجیکٹ کو بندکرنے کاکوئی منصوبہ نہیں ہے ، یہ دور اندیشی نہیں ہوگی کہ پروجیکٹ کو بند کیاجائے جب کہ 90فیصدی کام مکمل ہوچکاہو“۔وزیر موصوف نے یہ بھی بتایاکہ تکمیل کے بعدپہلے ایک سال تک اس پروجیکٹ کو ایم ایس جی وی آر انفرا پروجیکٹ لمیٹیڈ نامی کمپنی چلائے گی پھر اس کے بعد محکمہ کے سٹاف کو تربیت دیکر اس کو ان کے حوالہ کیاجائے گا۔ اس حوالہ سے کمپنی کے ساتھ پہلے ہی معاہدہ ہوا ہے۔ 2014میں سیلاب کی وجہ سے اس کو نقصان پہنچا تھا اور اس کی سرنوتعمیر کی ذمہ داری بھی کنٹریکٹنگ ایجنسی پر ہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڈی توی کی طرف سے 11گیٹ ڈھانچے کھڑے کر دیئے گئے ہیں اور نِکی توی کی طرف 20گیٹ ڈھانچے فیبری کیٹ کئے گئے ہیں۔شیام چوہدری کے مطابق انہیں مکمل ہونے میں ایک سے ڈیڑھ ماہ لگے گا۔ ستونوں کی دو ماہ کے اندر مرمت کر دی جائے گی۔اگر سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا تو بقیہ سول اور میکانیکل کام 3-4ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔ توی مصنوعی جھیل پروجیکٹ کو 1000کروڑ روپے کے سابر متی پروجیکٹ کی طرز پر ضم کرنے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شام چوہدری نے بتایاکہ اس کا فیصلہ تو اس وقت لیاجائے گا جب مرکز اس کو منظوری دے گا۔ اس وقت ان کی ترجیحی اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی ہے جس پر بقول وزیر موصوف کے 60کروڑ روپے خرچ کئے جاچکے ہیں، اس پروجیکٹ کو راستے میں چھوڑا نہیں جاسکتا۔نہوں نے پروجیکٹ میں کی گئی بے ضابطگیوں کی انکوائری کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ پی ایچ ای وزیر کا یہ بیان بدھ کو جموں میں عوامی وسیاسی حلقوں میںکافی موضوعِ بحث رہا۔کچھ نے خوشی
ظاہر کی تو کچھ اس بات کو لیکر پریشان نظر آئے کہ کیا ایسا ہوگا۔سدیش جموال نامی ایک شخص کا کہناتھا”موجودہ حکومت کو لیکر لوگوں میں بد اعتمادی بڑھ گئی ہے اور اب وزرا ءکے کسی بیان پر بھروسہ ہی نہیں رہا۔بالخصوص بی جے پی سے وابستہ وزرا کی بیان بازیاں اور طرز عمل دیکھ ایسا لگتا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ نہیں، حزب اختلاف میں ہیں“۔جموں کے جیول علاقہ میں چائے کی دکان کرنے والے رمیش چندر، جن کی دکان پر اکثر سیاسی موضوعات پر خوب محفل جمتی ہے ، اور وہ ملکی وریاستی سطح پر ہونے والی سیاسی سرگرمیوں سے واقف رہتے ہیں، کا اس ضمن میں کہنا ہے ”اچھی بات ہے کہ آرٹی فیشل لیک کاپروجیکٹ مکمل ہوگا، اس سے جموں شہر بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے گا، تجارت کو فروغ ملے گا لیکن ایسا ہوگا یا نہیں ، کچھ کہہ نہیں سکتے، کیونکہ ایک دن حکومت کا ایک وزیر کہتا ہے نہیں بنے گا، تو پھردوسراوزیر دعویٰ کرتا ہے کہ نہیں بنے گا، وہ جو کہتے ہیں صحیح ہے، اب صحیح کون ہے ، غلط کون ہے، اس کی وضاحت کون کرے“۔جموںچیمبرآف کامرس نے مصنوعی جھیل پروجیکٹ سے متعلق صحت عامہ، آبپاشی اور انسداد سیلاب کے وزیر شام لال چوہدری کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ چیمبرصدر راکیش گپتا نے وزیر موصوف کی یقین دہانی پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے امیدظاہر کی ہے کہ متعلقہ تعمیراتی ایجنسی پروجیکٹ کی تعمیر کے لئے اہم اداروں بشمول آئی آئی ٹی سے صلاح ومشورہ لے گی تاکہ اس پروجیکٹ کی تکمیل میں مزید کوئی رکاوٹیں حائل نہ ہوں۔

Loading...