وادی کشمیر میں دن کے درجہ حرارت میںمتواتر اضافہ جموں میں پارہ 42ڈگری سے تجاوز کرگیا، سڑکوں نے آگ اُگلنی شروع کی

سرینگر؍؍وادی میں رات اور دن کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور بدھ کو بھی دن بھر گرمی برابر جارہی رہی ۔ ادھر جموں میں پارہ 42ڈگری سے تجاوز کرگیا جس کے نتیجے میں جموں ڈویژن میں سڑکیں جہنم کی آگ اُلگ رہی ہے ۔ آنے والے دنوں میں یہ 44 ڈگری کو عبور کرنے کی توقع ہے خاص کر شاید 27-28 مئی تک درجہ حرارت مزید بڑھے گاادھر شدید گرمی کے پیش نظر محکمہ موسمیات اور محکمہ صحت نے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ اس میں بچوں اور خاص طور پر بزرگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کھلی دھوپ میں باہر جانے سے گریز کریں اور گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے زیادہ سے زیادہ سیال کا استعمال کریں۔ یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہلکے رنگ کے اور سوتی کپڑے پہنیں اور سر کو دھوپ سے بچانے کے لیے تولیہ، ٹوپی اور چھتری کا استعمال کریں۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر میں موسم گرما نے اپنا سخت رُخ دکھانا شروع کر دیا ہے۔ بدھ کوسرینگر سمیت وادی کے متعدد علاقوں میں مطلع صاف رہا اور دن بھر دھوپ کھلنے کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔ جبکہ جموں میں دن کا درجہ حرارت 42 ڈگری سے تجاوز کر گیا ہے۔ جموں میںبدھ کو سیزن کا اب تک کا گرم ترین دن رہا۔جب درجہ حرارت 42.2ریکارڈ کیا گیا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جموں و کشمیر 23 سے 25 مئی تک موسم عام طور پر صاف رہنے کی توقع ہے۔ 25 مئی تک موسم کی کوئی خاص سرگرمی متوقع نہیں ہے۔ادھر ریاست کے بیشتر حصوں میں دن کا درجہ حرارت معمول سے 3 سے 6 ڈگری زیادہ ہے۔ جموں میں صاف موسم کے ساتھ دن کا آغاز ہوا۔ دوپہر میں چلچلاتی گرمی سے ہر کوئی پریشان تھا۔ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھ گئی ہے جس کے باعث لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ کئی مقامات پر ٹرانسفارمر جلنے کی اطلاعات ہیں۔شدید گرمی میں شہر کی بیشتر سڑکیں دن کے وقت سنسان ہو گئیں۔ لوگ اب زیادہ تر شام کو ضروری خریداری کے لیے نکل رہے ہیں۔ایک اہلکار نے کہا، “چونکہ دن کا درجہ حرارت 41 ڈگری سے 42 ڈگری کے درمیان ریکارڈ کیا گیا ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں یہ 44 ڈگری کو عبور کرنے کی توقع ہے خاص کر شاید 27-28 مئی تک درجہ حرارت مزید بڑھے گا۔ سال وار تفصیلی آئی ایم ڈی امیج کے مطابق جموں میں 26 مئی 1984 کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 47.4 ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا اور یہ اب تک کا ریکارڈ تھا۔تصویر کے مطابق، 23 مئی 2023 کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42.0 ریکارڈ کیا گیا تھا۔ 15 مئی 2022 کو یہ 43.9 تھا۔ 27 مئی 2021 کو، یہ 41.6 تھا؛ 28 مئی 2020 کو یہ 42.6 تھا؛ 31 مئی 2019 کو یہ 44.1 تھا؛ 30 مئی 2018 کو، یہ 43.5 تھا؛ 27 مئی 2017 کو، یہ 41.7 تھا؛ 20 مئی 2016 کو یہ 43.2 تھا۔ 26 مئی 2015 کو یہ 40.5 اور 29 مئی 2014 کو 41.8 ڈگری سیلسیس تھا۔عہدیدار نے کہا کہ 21 سے 28 مئی تک عام طور پر خشک موسم کے ساتھ الگ تھلگ مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا جبکہ مجموعی طور پر 28 مئی تک کوئی خاص موسمی سرگرمی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جموں ڈویڑن کے میدانی علاقوں میں گرمی کی لہر جموں ڈویڑن کے پہاڑی اضلاع اور کشمیر ڈویڑن کے میدانی علاقوں میں گرم اور خشک موسم کے ساتھ اگلے 5 دنوں کے دوران جاری رہنے کا امکان ہے۔دریں اثنا جموں کے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے سکول کے اوقات میں تبدیلی کی ہے۔ گرمی کی موجودہ لہر کے پیش نظر اسکول اب صبح 8 بجے سے دوپہر 12 بجے تک کام کریں گے۔لیہہ میں موسمیاتی مرکز کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے کہا، “سوموار کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 42.3 ڈگری ریکارڈ کیا گیا اور منگل کو یہ 42.5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پارہ مزید اوپر جائے گا۔