نریندر مودی نے گجر برادری کو ترجیح اور وقار دیا:ڈاکٹر جتیندر سنگھ

 

اُڑان نیوزسروس
کشتواڑ//مرکزی وزیر اور بی جے پی کے اودھم پور لوک سبھا نشست کے امید وار ڈاکٹر جتندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ماضی میں کانگریس حکومتوں نے اپنے ووٹ بینک مفادات کے حصول کے لئے گجر برادری کا استحصال کیا۔انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ آزادی کے بعد پہلی بار ایسا ہوا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے گجر برادری کو جموں وکشمیر میں ترجیح دی اور ان کو سیاسی حقوق دئے۔موصوف وزیر نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز کشتواڑ کے دور افتادہ علاقہ مغل میدان میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘کانگریس کی سابق حکومتوں نے گجر برادری کو نظر انداز کیا تھا اور انہیں اپنے حال پر اور بے گھر زندگی گذارنے پر چھوڑ دیا تھا لیکن وزیر اعظم نریندر مودی ہی وہ لیڈر ہیں جنہوں نے عقیدے یا مذہب سے قطع نظر گجر برادری کے ہر کنبے کو پکا مکان فراہم کیا’۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے اسی کارنامے کے نتیجے میں آج گجر برادری کے لوگ مکانوں میں رہ رہے ہیں جو پہلے عارضی ٹنٹوں میں رہا کرتے تھے۔ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ کشتواڑ جو ایک نظر انداز کیا گیا دور افتادہ علاقہ تھا، نے گذشتہ دس برسوں سے حیران کر دینے والی تبدیلی دیکھی ہے اور آج بجلی کا مرکز بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کا کشتواڑ شمالی ہندوستان کا ایک بڑا ‘بجلی مرکز’ بننے کے لئے تیار ہے جو یہاں بجلی کے منصوبوں کی تکمیل کے بعد تقریباً 6 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ نو یا دس برسوں کے دوران اس خطے میں 6 سے 7 بڑے ہائیڈرو بجلی پورجیکٹ تیار ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان پرجیکٹوں سے نہ صرف بجلی کی پیدا وار میں اضافہ ہوگا بلکہ یونین ٹریٹری میں بجلی کی کمی کو دور کرنے میں بھی کافی مدد ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ دس دہائیوں تک بر سر اقتدار رہنے والی مرکزی و ریاستی حکومتوں نے کشتواڑ کو ووٹ بینک سیاست کے لئے نظر انداز کیا لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے جب سے زمام اقتدار سنبھالی تب سے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ تمام نظر انداز شدہ خطوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ وہ بھی باقی خطوں کے ساتھ ساتھ یکساں ترقی کر سکیں۔