بلراج بخشی’’مٹی کے موسم‘‘ کے تناظر میں

ڈاکٹر جگ موہن سنگھ
نام کتاب : مٹی کے موسم
شاعر: بلراج بخشی
ضخامت: 202 صفحات
قیمت: 300 روپے
ناشر: اوشین پبلشنگ ہاوس ادہم پور (جموں کشمیر)
بلراج بخشی اُردو کے ایک جانے مانے شاعر، افسانہ نگار، محقیق اور نقاد ہیں۔ ان کی تازہ ترین تصنیف (شعری مجموعہ) “مٹی کے موسم” کے نام سے 2021 ء میں منظر عام پر آئی ہے۔
زیر بحث کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلراج بخشی کی شاعری کسی خاص رجحان یا نظریہ تک محدود نہیں ہے۔ “مٹی کے موسم” میں شامل غزلیں اور نظمیں اْردو غزل و نظم کے ہر موسم کا ساتھ نبھاتی نظر آتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، ان کے یہاں کلاسیکیت بھی ہیترقی پسندی بھی اور جدید و ما بعد جدید ادبی تصورات کے سائے بھی۔ جس کا اندازہ اس کتاب میں شامل درج ذیل اشعار سے بخوبی لگایا
جاسکتاہے:
رقیب ہو گیا میرا ہی پیرہن آخر
نہ آشکار ہوا مجھ پر وہ بدن آخر
(کلاسیکی)
اب وہ پہلے سے مراسم تو نہیں ہیں لیکن
جہاں جاتا ہوں میں اکثر وہ وہیں ہوتا ہے
(کلاسیکی)
میں بھی کہ سکتا ہوں بلراج فسانہ اپنا
پاسداری ہے روایت کی جو خاموش رہوں
(کلاسیکی)
گھنے درخت کا سایہ ہٹا گیا کوئی ہوا کیبھیس مین پتے گرا گیا کوئی
(جدید)
لاکھ سمجھائے کوئی سمت و نشان منزل کے
آئے دن لٹتے ہی رہتے ہیں مسافر دل کے (جدید)
اس طرح زندگی گزار آئے
اب کسی پر نہ اعتبار آئے
(جدید)
میرے ہاتھوں کی لکیروں سے نکل کر آئے
وہ اگر میرا مقدر ہے تو چل کر آئے
(جدید)
ماضی و حال کے ہر غم سے سبکدوش رہوں
ہوش میں آنے سے بہتر ہے کہ بے ہوش رہوں
(مابعد جدید)
جان کر بھی نہیں پہچانتے ہیں لوگ اگر
یہی اچھا ہے کہ میں خود سے بھی روپوش رہوں
(مابعد جدید)
’’مٹی کے موسم ‘‘میں نظمیں بھی ہیں اور غزلیں بھی۔ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی بحر میں غزلیں ملتی ہیں۔ زبان و بیان پر بے پناہ قدرت کے سبب بلراج بخشی کے شعر میں معنی کے علاوہ کیفیت اور تاثر کے بھی دائرے بنتے ہیں۔ بلراج بخشی یہ جانتے ہیں کہ کس طرح کے موضوع کے لیے کیسے الفاظ کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اس لیے کتاب میں شامل غزلوں میں اور نظموں میں موضوعاتی تنوح بھی ہے اور اسلوبیاتی انفرادیت بھی۔
بلراج بخشی نے اپنی نظموں میں عصری مسائل کو علامتی اور استعاراتی اسلوب میں پیش کیا ہے کیا ہے۔زیر بحث کتاب ’’مٹی کے موسم‘‘میں غزلوں کی طرح نظموں میں بھی انفرادیت ہے۔ موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے ان کی ایک نظم ” قرض ” بے حد اہم ہے۔ جس میں انھوں نے آج کے انسان کو اپنے اجداد کے اعمال کا قرض دار بتایا ہے اور یہ تاثر دیا ہے کہ اپنے آبا و اجداد کے نقش قدم پر چل کر ہی ہم اپنی آئندہ نسلوں کے لیے کوئی روشن راہ کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔بلراج بخشی کی ایک نظم ’’ میرے گناہ سبھی‘‘پابند نظم کی عمدہ مثال ہے۔ لیکن اس نے نظم میں غزل کا انداز بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ نظم کے یہ چار مصرع قابل توجہ ہیں :
دعائیں آپ کی ہیں بدعائیں میری ہیں
جفائیں آپ کا حق ہے وفائیں میری ہیں
خلوص و دوستی اور اعتماد و پاس قرار
یہ لغزشیں ہیں مری یہ خطائیں میری ہیں
بلراج بخشی کی نظم “مٹی کے موسم ” کا موضوع زندگی کی یکسانیت سے اکتاہٹ اور بیزاری سے عبارت ہے۔ موسم کا استعارہ انھوں نے اس خوبی سے استعمال کیا ہے کہ اس دائرے میں سماجی اور سیاسی ہر طرح کی تبدیلیاں سمٹ آئی ہیں۔ موسم کے بدلنے سے انسان کے حالات نہیں بدلتے۔ اسی لیے بلراج بخشی یہ کہتے ہیں کہ وقت کوشش کے باوجود اپنی بے رنگی کو چھپا نہیں پائے گا اور ایک وقت آئے گا جب انسان موسموں کی لایعنیت کا شعور حاصل کرلے گا۔ اس نظم کے آخر کے ان مصرعوں پر غور کریں کہ صاحب کتاب کیا کہنا چاہتے ہیں، اچھی طرح واضع ہو جائیگا۔
بدلتے ہوئے موسموں سے میری التجا ہے
اگر ہو سکے تو مرے گھر کے آنگن میں
ہر روز ایسی شعائیں اتاریں
جو پہلے کی ساری شعاؤں سے ہوں مختلف اور نئی
میری آنکھوں میں بھر دیں نئے رنگ جو سات رنگوں
کی فہرست میں بھی نہ ہوں
رات دن کا یہ لا انتہا سلسلہ
اپنے چہرے پہ
ان سات رنگوں کی
بے رنگ سی یہ نقاب اوڑھ کر،
ایسی یک رنگئی زندگی،
موسموں کے بدلتے تناظر میں
کب تک چھپائے گا
بلراج راج بخشی کی کتاب پر میرا یہ مختصر سا تبصرہ “مٹی کے موسم” کی خوبیوں کا احاطہ نہیں کرتا لیکن یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اکیسویں صدی کی تیسری دہائی تک آکر جن گنے چنے شاعروں کی غزلیں اور نظمیں اردو شاعری کے لیے سرمایہ ثابت ہوں گئیں۔ ان میں سے ایک بلراج بخشی بھی ہے۔بحیثیت مجموعی بلراج بخشی کا یہ شعری مجموعہ “مٹی کے موسم” بحیثیت شاعر ان کا مقام و مرتبہ قائم کرنے کے لیے کافی ہے۔