پائیدار جیٹ ایندھن کی ترقی معیشت کو کارن سے پاک بنانے کے لئے بہت ضروری ہے:مرمو

نئی دہلی// صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے آج کہا کہ آب وہوا میں تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر، پائیدار جیٹ ایندھن کی ترقی معیشت کو کارن سے پاک بنانے کے لئے بہت ضروری ہے۔جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے ’2047 میں ایرو اسپیس اور خلابازی‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس اور نمائش میں شرکت کی جس کا اہتمام ایروناٹیکل سوسائٹی آف انڈیا نے آج (18 نومبر 2023کو) نئی دہلی میں اپنی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کیا تھا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ 1948 میں اپنی معمولی شروعات سے لے کر آج تک، ایروناٹیکل سوسائٹی آف انڈیا نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتھک محنت کی ہے کہ ایروناٹکس نے نہ صرف ایک علمی نظام کے طور پر ترقی کی ہے بلکہ لوگوں کی زندگیوں پر بھی اس کا خاطر خواہ اثر مرتب ہوا ہے۔ انہوں نے ایروناٹیکل سائنسز اور طیارہ انجینئرنگ کے علم کی ترقی اور پھیلاو میں شاندار شراکت داری کے لیے ان سبھی کی کوششوں کی ستائش کی جنہوں نے ایروناٹیکل کے پیشے کو سب سے زیادہ مطلوب اور دلکش کریئر بنا دیا ہے۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہوابازی انسانی ذہانت کا ایک قابل ذکر کارنامہ ہے جو تکنالوجی کے ہموار امتزاج کے ساتھ تخیلاتی قوت کو حقیقت کی شکل دیتا ہے۔ ایرو اسپیس اور ہوابازی بیک وقت ایک عام اور تقریباً مافوق الفطرت سرگرمیاں ہیں جو ہمیں کرہ ارض کے وسیع عالمی کنکشن اور خلاء￿ اور اس سے آگے کی تلاش کا متحمل کرتی ہیں۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ اب جبکہ ہم ایروناٹیکل سوسائٹی آف انڈیا کے سفر کا جشن منا رہے ہیں، تو ہم ہوابازی اور ایرواسپیس، خلائی تکنالوجی، میزائل تکنالوجی اور ہوائی جہاز کی تکنالوجی کے شعبوں میں اپنی قوم کی کامیابیوں کو دیکھ کر حیران ہو سکتے ہیں۔ خواہ وہ مریخ کے مشن کی کامیاب تکمیل کا کارنامہ ہو یا چاند کے قطب جنوبی کے قریب محفوظ لینڈنگ اور رووِنگ کا مظاہرہ ہو- ایک ایسی جگہ جسے انسانی کوششوں سے بالاتر سمجھا جاتا ہے، ہندوستان نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے پاس قوت ارادی ہے ، اہلیت ہے اور اس کو پورا کرنے کی صلاحیت ہے جو اسے حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔معیار، لاگت کی تاثیر اور وقت کی پابندی کے اعلیٰ ترین معیار ہمارے تمام تر پروجیکٹوں کی شناخت رہے ہیں۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ اگرچہ ہم نے طویل پیش رفت کی ہے تاہم بہت سی چنوتیاں ابھی باقی ہیں۔ ایرواسپیس سیکٹر دفاعی مقاصد، فضائی نقل و حرکت اور نقل و حمل کے لیے رفتار اور رَن وے سے آزاد تکنالوجیوں کو تیار کرکے ایک تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انسانی وسائل کو اچھی طرح سے تیار کرنا اور صحیح معنوں میں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار ہونا بھی ضروری امر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ افرادی قوت کی ہنرمندی ترقی اور ازسر نو ہنرمندی بھی ضرورت ہے۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ ایرو پرو پلشن میں کاربن اخراج میں تخفیف ایک مشکل کام ہے جسے ہمیں انجام دینا ہوگا کیونکہ موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ سے انسانوں کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار طیارہ ایندھن کی ترقی معیشت کو کاربن اخراج میں تخفیف لانے کے لیے انتہائی ضروری اقدامات میں سے ایک ہے ، تاہم اسے حاصل کرنا سب سے مشکل ہے کیونکہ روایتی ایندھن بہت زیادہ کثافت کے حامل ہوتے ہیں۔ غیر حجری پائیدار وسائل کی تلاش جو ان روایتی ایندھن کی جگہ لے سکیں، ترجیحی مقصد ہونا چاہئے کیونکہ ہم آب و ہوا کے ایک نازک موڑ پر پہنچ رہے ہیں۔ اپنے کاربن اخراج کو کم کرنے کے لیے ہمیں بڑے پیمانے پر الیکٹرک، ہائیڈروجن اور ہائبرڈ جیسی نئی پروپلشن تکنالوجیوں کو تیزی سے اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ کانفرنس متعدد چنوتیوں کا قابل قدر حل فراہم کرے گی۔یو این آئی۔