کوکر ناگ جنگل میں انکائونٹر تیسرے روز بھی جاری رہا سیکورٹی فورسز نے موٹار شیلوں اور اسرائیلی ساخت کے ڈرونز کا استعمال کیا

ANANTNAG, SEP 15 (UNI):- Security personnel in action at the encounter site after fresh firing resumes near the encounter site at Godole area of Kokarnag in Anantnag district on Friday. UNI PHOTO-13U

یو این آئی
سرینگر//جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گنڈول کوکرناگ کے جنگل علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان جمعہ کو مسلسل تیسرے دن بھی تصادم آرائی جاری ہے۔ادھر ذرائع کے مطابق جمعہ کو ایک اور فوجی جوان زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا جس سے اس انکائونٹر میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 4 ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق گنڈول جنگل علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان جمعہ کو تیسرے روز بھی تصادم آرائی جاری رہی اور طرفین کے درمیان شدید فائرنگ اور بموں کی آوازیں بھی سنائی دی جا رہی تھیں۔معلوم ہوا ہے کہ گھنے جنگلی علاقے میں محصور ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کی خاطر فوج کی خصوصی ونگ’مونٹین بریگیڈ‘ جنہیں پہاڑوں پر چڑھنے کی مہارت حاصل ہے کو طلب کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ فوج، پولیس ، سی آر پی ایف کی اضافی نفری نے جنگلی علاقے کو پوری طرح سے سیل کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر مکمل طورپر پابندی عائد کی ہے۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس فوج اور پولیس کی خصوصی ٹیمیں جنگلی علاقے میں خیمہ زن ہے۔بتادیں کہ بدھ کے روز ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے گڈول کوکر ناگ کے جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا تھا جس دوران تاک میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی ہمایوں بٹ، کرنل منپریت سنگھ اور میجر آشیش دھونک سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔جنوبی کشمیر کے گڈول کوکر ناگ کے پہاڑی علاقے میں تیسرے روز بھی سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین شدید گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔معلوم ہوا ہے کہ فوج نے کمین گاہ کو تباہ کرنے کی خاطر موٹار شیلوں، راکٹ لانچروں اور ڈرون کے ذریعے بم گرائے جس وجہ سے پورا علاقہ شدید دھماکوں سے لرز اٹھا۔ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے ایک وسیع علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے جبکہ گڈول پہاڑی علاقے کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات کی اور منتقل کیا گیا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جنگلی علاقے میں چھپے بیٹھے ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کی خاطر جمعے کے روز موٹار شیلوں ، راکٹ لانچروں کا استعمال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی ساخت کے ڈرونز کے ذریعے جنگلی علاقے میں بم بھی گرائے گئے۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ محصور ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کی خاطر جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کارلایا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ساخت کے ڈرونز کی بھی خدمات حاصل کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ ابھی تک جنگلی علاقے میں کسی ملی ٹینٹ کی لاش برآمد نہیں کی جاسکی ہے۔اس سلسلے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔