پرگتی میدان نئی دہلی میں جی 20 چوٹی کانفرنس متفقہ طور’نئی دہلی اعلامیہ‘ منظور

PM’s remarks at G20 Summit on ‘One Earth’ at Bharat Mandapam, in Pragati Maidan, New Delhi on September 09, 2023.

وزیر اعظم کا ہمدردی، یکجہتی، اعتما د‘ کا منتر، 10نکاتی صدارتی خطاب،کہاجی20 کو اعتماد کے بحران کو دور کرکے عالمی چیلنجوں کا حل تلاش کرنا چاہئے
اُڑان نیوز نیٹ ورک
نئی دہلی//انسانیت کی فلاح و بہبود اور خوشی کو یقینی بنانے کے ہندوستان کے پیغام کے ساتھ کل یہاں جی 20 چوٹی کانفرنس شروع ہوئی، جس میں ہر قسم کے باہمی بداعتمادی کو دور کرکے تمام عالمی چیلنجوں کے ٹھوس حل کی طرف بڑھنے کی اپیل کی گئی۔دارالحکومت نئی دہلی کے پرگتی میدان میں نوتعمیر شدہ بھارت منڈپم میں ہندوستان کی صدارت میں 19 ممالک، یورپی یونین، 9 خصوصی مہمان ممالک، تین علاقائی اور 11 بین الاقوامی تنظیموں کے رہنما حصہ لے رہے ہیں۔ ون ارتھ کے تھیم پر منعقد ہونے والے اس سیشن میں افریقی یونین کو باضابطہ طور پر مکمل رکن کے طور پر تسلیم کیا گیا!ہفتہ کو جی-20 سربراہی اجلاس کے مشترکہ بیان میں تمام ترقیاتی اور جغرافیائی سیاسی مسائل پر اتفاق رائے ہو گیا اور ‘نئی دہلی اعلامیہ’ کو سرکاری طور پر قبول کر لیا گیا۔جی-20 میں ہندوستان کے شیرپا امیتابھ کانت نے یہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر بتایا “تمام ترقیاتی اور جیو پولیٹیکل ایشوز پر 100 فیصد اتفاق رائے کے ساتھ تاریخی اور راہ ہموار کرنے والا جی 20 اعلامیہ۔ جیو پولیٹیکل ایشوز پر نئے جملے آج کی دنیا میں دنیا، لوگوں، امن اور خوشحالی کے لیے ایک طاقتور اپیل ہے۔ یہ آج کی دنیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کی متاثر کن قیادت کو ظاہر کرتا ہے۔”مسٹر کانت نے کہا، ’’نئی دہلی اعلامیہ کو سرکاری طور پر جی-20 لیڈروں کی چوٹی کانفرنس میں قبول کر لیا گیا ہے۔ “آج کے دور کو انسانیت پر مرکوز عالمگیریت کے سنہری دور کے طور پر نشان زد کیا جانا چاہئے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی جی-20 صدارت نے اس ہدف کے لیے انتھک کوششیں کی ہیں۔”انہوں نے کہا، “ہندستان کی جی-20 صدارت جامع، مہتواکانکشی، فیصلہ کن، ایکشن پر مبنی اور جمود کو چیلنج کرنے میں بے خوف رہی ہے۔ مسٹر مودی کی قیادت میں ہم نے جی-20 کو آخری سرے تک لے جانے کے لیے لیڈروں سے قدم اٹھانے کی پرزور اپیل کی ہے۔کانت نے کہا، “ہندوستان کی صدارت جی -20 کے چیئرپرسنز کی تاریخ میں سب سے زیادہ مہتواکانکشی رہی ہے۔ “کل ملاکر 112 نتائج اور صدارتی دستاویزات کے ساتھ، ہم نے سابقہ صدارت کے مقابلے میں اصل کام کو دوگنا سے بھی زیادہ کر دیا ہے۔”انہوں نے کہا کہ ‘نئی دہلی اعلامیہ’ کے اہم نکات ہیں – مضبوط، پائیدار، متوازن اور جامع ترقی،ایس ڈی جی پر پیشرفت کو تیز کرنا، پائیدار مستقبل کے لیے سبز ترقی کا معاہدہ، 21ویں صدی کے لیے کثیر جہتی ادارے اور کثیرالجہتی کو پھر سے زندہ کرنا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے مہمان رہنماؤں کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے افتتاحی بیان میں سب سے پہلے مراکش میں زلزلے میں ہونے والی ہلاکتوں پر تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی اور بحران کی اس گھڑی میں مراکش کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔مودی نے کہا، ’’جی-20 کے سربراہ کے طور پر، ہندوستان آپ سب کا پرتپاک خیر مقدم کرتا ہے۔ اس وقت جس جگہ ہم جمع ہوئے ہیں یہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تقریباً ڈھائی ہزار سال پرانا ستون ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ اس ستون پر پراکرت زبان میں لکھا ہے ’’ہیوم لوکسا ہتمکھے تی، اتھ ایم ناتیسو ہیوم‘‘ یعنی انسانیت کی فلاح و بہبود اور خوشی ہمیشہ یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی ہزار سال پہلے، ہندوستان کی سرزمین نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیاتھا۔ آئیے اس پیغام کو یاد کرکے اس جی-20 سربراہی اجلاس کا آغاز کریں۔ اکیسویں صدی کا یہ وقت پوری دنیا کو نئی سمت دینے والا ایک اہم وقت ہے۔مودی نے کہا کہ یہ وہ وقت ہے جب برسوں پرانے چیلنجز، ہم سے نئے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنی تمام ذمہ داریوں کو انسانوں پر مرکوز رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے بعد دنیا میں ایک بہت بڑا بحران اعتماد کی کمی کا آیا ہے۔ جنگ نے، اس اعتماد کے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ جب ہم کووڈ کو شکست دے سکتے ہیں تو ہم باہمی اعتماد کے اس بحران پر بھی قابو پا سکتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج، جی-20 کے صدر کے طور پر، ہندوستان پوری دنیا سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم سب مل کر سب سے پہلے اعتماد کے اس عالمی بحران کو ایک یقین، ایک بھروسے میں تبدیل کریں۔ یہ سب کے ساتھ مل کر چلنے کا وقت ہے اور اس لیے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس‘ کا منتر ہم سب کے لیے مشعل راہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت میں اتھل پتھل ہو، شمال جنوب کی تقسیم ہو، مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہو، خوراک، ایندھن اور کھادوں کا انتظام ہو، دہشت گردی اور سائبر سیکیورٹی ہو، صحت، توانائی اور پانی کی حفاظت ہو! موجودہ اور آنے والی نسلوں کی خاطر ہمیں ان چیلنجوں کے ٹھوس حل کی طرف بڑھنا ہی چاہیے۔مسٹرمودی نے کہا کہ ہندوستان کی جی-20 صدارت ملک کے اندر اور باہر شمولیت کا، “سب کا ساتھ” کی علامت بن گئی ہے۔ ہندوستان میں یہ عوام کا جی-20 بن گیا ہے۔ کروڑوں ہندوستانی اس میں شامل ہوئے۔ ملک کے 60 سے زیادہ شہروں میں ملک میں 200 سے زیادہ میٹنگیں منعقد ہوئیں۔ سب کا ساتھ کے جذبے کے تحت ہندوستان نے افریقی یونین کو جی-20 کی مستقل رکنیت دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ مانا جاتا ہے کہ اس تجویز پر ہم سب کی اتفاق رائے ہے۔اس کے بعد مسٹر مودی نے افریقی یونین کے چیئرمین کو جی 20 کے مستقل رکن کے طور پر اپنی نشست سنبھالنے کی دعوت دی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کوجی- 20 ممالک کے 18 ویں دو روزہ سربراہی اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے یہاں آئے مختلف ممالک کے سربراہان مملکت کا استقبال کیا اور کہا کہ موجودہ عالمی منظر نامے میں دنیا کو ایک ساتھ اور صحیح سمت میں لے جانے کیلئے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا پریاس‘ کی سوچ اہم ہے۔بھارت منڈپم میں جی 20 ممالک کے سربراہی اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے مسٹر مودی نے موجودہ عالمی ماحول میں ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا پریاس‘ کے منتر کو دہرایا اور کہا کہ ہندوستان میں یہ ’پیپلز جی- 20 ‘ بن گیا ہے۔ دنیا میں اعتماد کے فقدان کا بحران ہے اور سب کو مل کر اس بحران پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا کے صدیوں پرانے مسائل کو حل کرنے کا وقت آگیا ہے اور 21ویں صدی کی جی- 20 کانفرنس پرانے چیلنجوں کے نئے حل تلاش کا مطالبہ کررہی ہے۔ یہ وقت ایک ساتھ چلنے کا ہے کیونکہ 21ویں صدی کا یہ وقت دنیا کو ایک نئی سمت دینے والا ہے۔وزیر اعظم نے کہا ’’آج، جی- 20 کے صدر کے طور پر، ہندوستان دنیا سے عالمی اعتماد کی کمی کو اعتماد اور خود کفیلی میں بدلنے کی اپیل کرتاہے۔ یہ ہم سبھی کے لئے ایک سالت مل کر آگے بڑھنے کا وقت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس‘ کے منتر کے ساتھ چیلنجوں سے نمٹنے کا وقت بن سکتا ہے۔ چاہے وہ چیلنجز شمال اور جنوب کے درمیان تقسیم کے ہں، مشرق اور مغرب کے درمیان فرق کے ہوں، خوراک اور ایندھن کا انتظام کے ہوں، دہشت گردی، سائبر سیکیورٹی، صحت، توانائی یا پانی کی حفاظت کے ہوں، ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے ان ان سب چیلنجوں کا ٹھوس حل تلاش کرنا ہو گا۔

ہندوستان اور امریکہ کا مشترکہ بیان
نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان قریبی اور پائیدار اشتراک کو ایک بار پھر مستحکم کرتے ہوئے امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا ہندوستان میں خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے جون 2023 میں وزیر اعظم مودی کے تاریخی دورہ واشنگٹن کی اہم کامیابیوں کو عملی جامہ پہنانے پر جاری خاطر خواہ پیش رفت کی ستائش کی۔دونوں رہنماؤں نے اپنی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ہند -امریکہ کے مابین اعتماد اور باہمی افہام و تفہیم پر مبنی کثیر جہتی عالمی ایجنڈے کے تمام پہلوؤں میں اسٹریٹجک ساجھیداری کے تبادلہ کا کام جاری رکھیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی، جمہوریت، انسانی حقوق، شمولیت، تکثیریت اور تمام شہریوں کے لیے مساوی مواقع کی مشترکہ اقدار ہمارے ممالک کی کامیابی کے لیے اہم ہیں اور یہ اقدار ہمارے تعلقات کو مضبوط کرتی ہیں۔صدر بائیڈن نے ہندوستان کی جی 20 صدارت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح جی 20 ایک فورم کے طور پر اہم نتائج دے رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے جی 20 کے ساتھ اپنے عزم صمیم کا اعادہ کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نئی دہلی میں جی 20 کے رہنماؤں کے سربراہان کے اجلاس کے نتائج پائیدار ترقی کو تیز کرنے ، کثیر ملکی تعاون کو فروغ دینے اور ہمارے سب سے بڑے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جامع اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں عالمی اتفاق رائے پیدا کرنے کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھائیں گے۔وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے آزاد، کھلے، جامع اور لچکدار بحرہند و بحرالکاہل کی حمایت میں کواڈ کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم مودی سال 2024 میں ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے آئندہ کواڈ رہنما سمٹ میں صدر بائیڈن کا خیرمقدم کرنے کے متمنی ہیں۔ ہندوستان نے جون 2023 میں آئی پی او آئی میں شامل ہونے کے امریکی فیصلے کے بعد تجارتی رابطے اور سمندری نقل و حمل پر ہندبحرالکاہل اوشینز انیشی ایٹو پلر کی مشترکہ قیادت کرنے کے امریکی فیصلے کا خیرمقدم کیا۔صدر بائیڈن نے کہا کہ بین الاقوامی ادارے کو زیادہ جامع اور نمائندہ ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور اس تناظر میں 2028-29 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کے لیے ہندوستان کی امیدواری کا ایک بار پھر خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک بار پھر کثیر ملکی نظام کو مضبوط بنانے اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ اصل حقائق کی بہتر عکاسی کرسکے اور اقوام متحدہ کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے عزم بستہ رہے، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل اور غیر مستقل رکنیت کے زمروں میں توسیع بھی شامل ہے۔وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے اپنی اسٹریٹجک ساجھیداری کو مزید مضبوط کرنے میں ٹکنالوجی کے اہم کردار کا اعادہ کیا اور ہند -امریکہ کے ذریعہ باہمی اعتماد اور بھروسے کی بنیاد پر کھلے، قابل رسائی، محفوظ اور لچکدار ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام اور ویلیو چینز کی تعمیر کے لیے اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی (آئی سی ای ٹی) پر پہل، جو ہماری مشترکہ اقدار اور جمہوری اداروں کو تقویت دیتی ہے، کی جاری کوششوں کی ستائش کی۔ امریکہ اور ہندوستان ستمبر 2023 میں آئی سی ای ٹی کا وسط مدتی جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ 2024 کے اوائل میں دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی مشترکہ قیادت میں اگلے سالانہ آئی سی ای ٹی جائزے کی طرف تیز رفتار پیش رفت جاری رہے۔صدر بائیڈن نے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں چندریان-3 کی تاریخی لینڈنگ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے پہلے شمسی مشن آدتیہ-ایل 1 کی کامیاب لانچ پر وزیر اعظم مودی اور ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کے سائنسدانوں اور انجینئروں کو مبارکباد دی۔ خلائی تعاون کے تمام شعبوں میں نئی سرحدوں تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنے کے بعد دونوں رہنماؤں نے موجودہ ہند -امریکہ کے تحت تجارتی خلائی تعاون کے لیے ورکنگ گروپ کے سول اسپیس جوائنٹ ورکنگ گروپ قیام کی پہل کا خیرمقدم کیا۔ بیرونی خلائی تحقیق میں اپنی اشتراک کو مزید بہتر کرنے کے لیے پرعزم اسرو اور نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) نے 2024 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں مشترکہ کوششوں کی توسیع کے طریقہ کار، صلاحیت سازی اور تربیت کے امور پر بات چیت شروع کردی ہے اور سال 2023 کے آخر تک انسانی خلائی پرواز سے متعلق تعاون کے لیے اسٹریٹجک فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہندوستان اور امریکہ سیاروں کے دفاع میں تعاون بڑھانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں تاکہ کرہ ارض اور خلائی اثاثوں کو سیارچوں اور زمین کے قریب کے منفی اثرات سے بچایا جا سکے، جس میں مائنر سیارہ مرکز کے ذریعے سیارچوں کا پتہ لگانے اور ٹریکنگ میں ہندوستان کی شرکت کے لیے امریکی مددبھی شامل ہے۔دونوں رہنماؤں نے لچکدار عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کی تعمیر کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ اس سلسلے میں مائیکروچپ ٹکنالوجی انکارپوریٹڈ کی ایک طویل مدتی پہل کا ذکر کیا ، جس کا مقصد ہندوستان میں اپنی تحقیق و ترقی کی موجودگی کو بڑھانے میں تقریبا 300 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا اور ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائس تحقیق ، ہندوستان میں ترقی، اور انجینئرنگ آپریشن کو وسعت دینے کے لیے اگلے پانچ برسوں میں ہندوستان میں 400 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان شامل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے جون 2023 میں امریکی کمپنیوں، مائیکرون، ایل اے ایم ریسرچ اور اپلائیڈ مٹیریلز کی جانب سے کیے گئے اعلانات پر جاری عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا۔محفوظ اور قابل اعتماد ٹیلی مواصلات، لچکدار سپلائی چین اور عالمی ڈیجیٹل شمولیت کے وڑن کا اشتراک کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے ہندوستان 6 جی الائنس اور نیکسٹ جی الائنس کے درمیان مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ یہ الائنس فار ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری سلوشنز کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔ انھوں نے اوپن آر اے این کے شعبے میں تعاون اور فائیو جی/6جی ٹیکنالوجیوں میں تحقیق و ترقی پر توجہ مرکوز کرنے والی دو مشترکہ ٹاسک فورسز کے قیام کی بھی ستائش کی۔ ایک معروف ہندوستانی ٹیلی کام آپریٹر میں 6 جی اوپن آر اے این پائلٹ یو ایس اوپن آر اے این مینوفیکچرر فیلڈ تعیناتی سے پہلے کرے گا۔ دونوں رہنما امریکہ میں رپ اینڈ ری پلیس پروگرام میں ہندوستانی کمپنیوں کی شرکت کے منتظر ہیں۔ صدر بائیڈن نے امریکہ میں رپ اینڈ ری پلیس پائلٹ کے لیے ہندوستان کی حمایت کا بھی خیرمقدم کیا۔امریکہ نے کوانٹم شعبے میں ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، دوطرفہ طور پر اور کوانٹم انٹیگلمنٹ ایکسچینج کے ذریعے، جو بین الاقوامی کوانٹم تبادلے کے مواقع کو آسان بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے، نیز کوانٹم اکنامک ڈیولپمنٹ کنسورشیم کے رکن کے طور پر ہندوستان کے ایس این بوس نیشنل سینٹر فار بیسک سائنسز، کولکاتا کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔ اس امر کی بھِی ستائش کی گئی کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) ممبئی شکاگو کوانٹم ایکسچینج میں ایک بین الاقوامی پارٹنر کے طور پر شامل ہوا۔دونوں رہنماؤں نے امریکہ کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (این ایس ایف) اور ہندوستان کے بائیو ٹیکنالوجی شعبے کے درمیان تعاون کے معاہدے پر دستخط کی ستائش کی جس سے بائیو ٹیکنالوجی اور بائیو مینوفیکچرنگ اختراعات میں سائنسی اور تکنیکی تحقیقی تعاون کو ممکن بنایا جاسکے گا۔ انھوں نے سیمی کنڈکٹر ریسرچ، اگلی نسل کے مواصلاتی نظام، سائبر سیکورٹی، پائیداری اور سبز ٹکنالوجی، اور ذہین نقل و حمل کے نظام میں تعلیمی اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے این ایس ایف اور ہندوستان کی الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کی طرف سے جاری کردہ تجاویز کا خیرمقدم کیا۔لچکدار ٹیکنالوجی ویلیو چین تیار کرنے اور دفاعی صنعتی ایکو سستمز کو جوڑنے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں لیڈروں نے اپنی انتظامیہ کے ذریعہ ایسی پالیسیوں کو فروغ دینے اور ایسے ضابطوں کو اختیار کرنے کے لئے عہد بندی کا اعادہ کیا جو ہندوستانی اور امریکی صنعت حکومت اور تعلیمی اداروں کے درمیان ٹیکنالوجی کی زیادہ شیئرنگ ، مشترکہ ترقی اور مشترکہ پروڈکشن کے مواقع کی سہولت فراہم کرائیں۔ انہوں نے جون 2023 میں شروع کئے گئے دوطرفہ اسٹریٹجک تجارتی مذاکرات کے زیراہتمام ایک بین ایجنسی مانیٹرنگ میکانزم کے ذریعے مسلسل کام جاری رکھنے کا خیرمقدم کیا۔دونوں لیڈروں نے ہندوستانی یونیورسٹیوں ، جن کی نمائندگی کونسل آف انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی کونسل) نے کی اور ایسوسی ایشن آف امریکن یونیورسٹیز (اے اے یو)کے درمیان کم از کم 10 ملین امریکی ڈالر کی ابتدائی مشترکہ عہد بندی کے ساتھ ہند-امریکہ گلوبل چیلنجز انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کے مقصد سے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے جانے کا خیر مقدم کیا۔ یہ گلوبل چیلنجز انسٹی ٹیوٹ سائنس اور ٹیکنالوجی کے نئے شعبوں کو فروغ دینے، پائیدار توانائی اور زراعت، صحت اور عالمی وبا کی تیاری، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ ، ایڈوانسڈ میٹیریل، مواصلات ، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم سائنس کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے میں دینے کے لئے ایاے یو اور آئی آئی ٹی رکنیت کیعلاوہ دونوں ملکوں کے ممتاز تحقیقی اور اعلی تعلیمی اداروں کو ایک مقام پر لائے گا۔دونوں رہنماؤں نے کثیر ادارہ جاتی تعاون پر مبنی تعلیمی اشتراک کی بڑھتی ہوئی تعداد کا خیرمقدم کیا، جیسا کہ نیویارک یونیورسٹی-ٹنڈن اور آئی آئی ٹی کانپور ایڈوانسڈ ریسرچ سینٹر اور بفیلو میں اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک کے جوائنٹ ریسرچ سینٹرز اور آئی آئی ٹی دہلی، کانپور، جودھپور اور بی ایچ یو کے درمیان اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکناکوجیز کیشعبوں میں شراکت داری کی گئی۔دونوں لیڈروں نے ڈیجیٹل صنفی خلا کو نصف کرنے کے لئے جی 20 کی عہد بندی کے پیش نظر ڈیجیٹل معیشت میں صنفی ڈیجیٹل فرق کو ختم کرنے کی کوششں کی اہمیت کی تصدیق کی اور ڈیجیٹل معیشت کی پہل میں خواتین کے لئے تعاون کا اظہار کیا جو حکومتوں ، نجی شعبے کی کمپنیوں ، فاؤنڈیشنز، سول سوسائٹی اور کثیر جہتی تنظیموں کو یکجا کرے گا تاکہ ڈیجیٹل صنفی فرق کو ختم کرنے کے لئے بڑھتے ہوئے قدموں کو تیز کیا جاسکے۔وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے خلاف اور اے آئی میں تعاون کو وسعت دے کر اور متحرک دفاعی صنعتی تعاون کے ذریعہ ہند-امریکہ بڑی دفاعی شراکت داری کو گہرا اور متنوع بنانے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے 29 اگست 2023 کو کانگریشنل نوٹیفکیشن عمل کے مکمل ہونے اور ہندوستان میں جی ای ایف – 414 جیٹ انجنوں کو تیار کرنے کے لئے جی ای ایرو اسپیس اور ہندوستان ایروناٹیکل لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کے درمیان ایک کمرشیل معاہدے کے لئے بات چیت شروع کرنے کا خیر مقدم کیا اور اس بے مثال مشترکہ پروڈکشن اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی تجویز کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی تعاون اور تیزی سے کام کرنے کے عہد کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے اگست 2023 میں امریکی بحریہ اور مجھگاؤں ڈاک شپ بلڈرز، لمیٹڈ کے ذریعہ حال ہی میں ایک معاہے پر دستخط کیے جانے کے ساتھ ایک دوسرے ماسٹر شپ ریپیئر معاہدے کی تکمیل کی ستائش کی۔ طرفین نے آگے کی جانب تعینات کئے گئے امریکی بحریہ کے اثاثوں اور دیگر طیاروں اور بحری جہازوں کے رکھ رکھاؤ اور مرمت کے لئے ایک مرکز کے طور پر ہندوستان کے آگے بڑھنے کے عہد کا اعادہ کیا۔ دونوں لیڈروں نے طیاروں کے رکھ رکھاؤ، مرمت اور اوور ہالنگ کی صلاحیتوں اور سہولتوں کے معاملے میں ہندوستان میں مزید سرمایہ کاری کیلئے امریکی صنعت کاروں کا بھی خیر مقدم کیا۔دونوں لیڈروں نے مشترکہ سیکورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور ہندوستان کے دفاعی شعبوں کے اختراعی کام سے استفادہ کرنے کے واسطے ایک مضبوط تعاون کا ایجنڈا قائم کرنے کے مقصد سے ہند- امریکہ ڈیفنس ایکسلریشن ایکو سسٹم (انڈس-ایکس) کی ستائش کی۔ انڈس-ایکس نے آئی آئی ٹی کانپور میں افتتاحی اکیڈمیا اسٹارٹ اپ پارٹنرشپ کا اہتمام کیا، جس میں پین اسٹیٹ یونیورسٹی نے شرکت کی اور اگست 2023 میں امریکی ایکسلریٹر میسرز ہیکنگ 4 الائنس (ایچ 4ایکس)اور آئی آئی ٹی حیدر آباد کے ذریعہ چلائی جانے والی ایک ورکشاپ میں ہندوستانی اسٹارٹ اپس کے لیے مشترکہ ایکسلریٹر پروگرام شروع کیا۔طرفین نے دو مشترکہ چیلنجوں کو شروع کرنے کے لئے ہندوستان کی وزارت دفاع کے انوویشنز فار ڈیفنس ایکسی لینس اور امریکہ کی وزارت دفاع کے ڈیفنس انوویشن یونٹ کیذریعہ کئے گئے اعلان کا بھی خیر مقدم کیا، جس میں مشترکہ دفاعی ٹیکنالوجی چیلنجوں کو سولیوشنز تیار کرنے کے لیے اسٹارٹ اپس کو مدعو کیا جائے گا۔صدر بائیڈن نے دور سے پائلٹ کئے جانے والے طیارے 31 جنرل ایٹمکس ایم کیو- 9 بی (16 اسکائی گارڈین اور 15 سی گارڈین) اور ان کے متعلقہ آلات کے حصول کے واسطیہندوستان کی وزارت دفاع کی جانب سے ایک لیٹر آف رکویسٹ جاری کئے جانے کا خیر مقدم کیا جس سے تمام حلقوں میں ہندوستان کی مسلح افواج کی انٹیلی جنس، نگرانی اور چوکسی (آئی ایس آر) کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ملک کی آب و ہوا، توانائی کی منتقلی اور توانائی کے تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک ضروری وسیلے کے طور پر جوہری توانائی کی اہمیت کو دہراتے ہوئے، وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے تعاون پر مبنی موڈ میں نیکسٹ جنریشن اسمال ماڈیولر ری ایکٹر ٹیکنالوجیز تیار کرنے سمیت جوہری توانائی میں ہند-امریکی تعاون کے لئے سہولت فراہم کرانے کے مقصد سے مواقع کو وسعت دینے کے واسطے طرفین کے متعلقہ اداروں کے درمیان مشاورت کے عمل کو تیز کرنے کا خیرمقدم کیا۔ امریکہ نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں ہندوستان کی رکنیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور اس مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے ہم خیال شراکت داروں کے ساتھ تعلقات جاری رکھنے کا عہد کیا۔دونوں رہنماؤں نے اگست 2023 میں ہند-امریکہ قابل تجدید توانائی ٹیکنالوجیز کے ایکشن پلیٹ فارم(ری-ٹیپ) کی افتتاحی میٹنگ کا خیرمقدم کیا جس کے تحت دونوں ممالک اختراعی ٹیکنالوجیز کے تجربہ گاہ سے تجربہ گاہ تک کے تعاون پائلٹنگ اور جانچ کا کام، قابل تجدید توانائی اور اس سے متعلق ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے کے لیے پالیسی اور منصوبہ بندی میں تعاون؛ سرمایہ کاری، انکیوبیشن اور آؤٹ ریچ پروگرام اور نئی اور ابھرتی ہوئی قابل تجدید ٹیکنالوجیز اور توانائی کے نظاموں کو اپنانے اور اختیار کرنے کے کام میں تیزی لانے کے لیے تربیت اور ہنر مندی کے فروغ میں تعاون کریں گے۔ٹرانسپورٹ کے شعبے کو کاربن سے پاک کرنے کی اہمیت کو دوہراتے ہوئے دونوں لیڈروں نے سرکاری اور نجی فنڈز کیذریعہ ادائیگی کے سکیورٹی میکانزم کی مالی اعانت کے لئے مشترکہ مدد فراہم کرانے سمیت ہندوستان میں الیکٹرک موبی لٹی کو وسعت دینے کے کاموں کا خیرمقدم کیا، اس سے انڈین پی ایم ای بس سیوا پروگرام سمیت ہندوستان میں تیار کردہ 10,000 الیکٹرک بسوں کی حصولیابی کے کام میں تیزی آئے گی جس میں چارج کرنے کا متعلقہ بنیادی ڈھانچہ شامل ہوگا۔ دونوں ملک ای-موبی لٹی کے لیے گلوبل سپلائی چین کو متنوع بنانے میں مدد کرنے کے واسطے مل کر کام کرنے کے لیے عہد بند ہیں۔ہندوستان اور امریکہ کیپیٹل اخراجات کو کم کرنے اور گرین فیلڈ قابل تجدید توانائی کے نفاذ، ہندوستان میں ابھرتے ہوئے گرین ٹیکنالوجی پروجیکٹوں اور بیٹری اسٹوریج کے کام کو تیز کرنے کے لیے سرمایہ کاری کے پلیٹ فارموں کی تشکیل کے کام کو بھی آگے بڑھا ئیں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک قابل تجدید انفراسٹرکچر سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کے واسطے ہندوستان کے نیشنل انویسٹمنٹ اور انفراسٹرکچر فنڈ اور امریکی ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن نے پانچ پانچ سو ملین امریکی ڈالر فراہم کرانے کے کے لئے لیٹر آف انٹینٹ کا تبادلہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ساتویں اور آخری بچے ہوئے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) تنازعہ کے تصفیہ کی ستائش کی۔ یہ تصفیہ جون 2023 میں ڈبلیو ٹی او میں چھ باقی ماندہ دو طرفہ تجارتی تنازعات کے بے مثال تصفیے کے بعد ہواہے۔دونوں رہنماؤں نے دو اینکر ایونٹس (ایک ہندوستان میں اور ایک امریکہ میں) کو شامل کرنے کے لئے ہند-امریکہ کمرشیل ڈائیلاگ کے تحت ایک شاندار ’’انوویشن ہینڈ شیک‘‘ ایجنڈا تیار کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا، جس میں اسٹارٹ اپس، پرائیویٹ ایکوٹی اور وینچر کیپیٹل فرموں، کارپوریٹ انویسٹمنٹ محکموں اور سرکاری افسران کو ایک مقام پر لانے کے لئے طرفین تعاون کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے اختراعی ایکو سسٹمز کے درمیان روابط استوار ہوسکیں۔دونوں لیڈروں نے کینسر کی تحقیق، روک تھام، کنٹرول اور بندوبست میں بڑھتے ہوئے دو طرفہ تعاون کا خیرمقدم کیا، اور نومبر 2023 میں ہند-امریکہ کینسر ڈائیلاگ شروع کئے جانے کی امید ظاہر کی۔ یہ ڈائیلاگ محروم شہری اور دیہی طبقات کے لئے کینسر جینومکس کے علم کو فروغ دینے، کینسر کے علاج کی دیکھ ریکھ میں اضافے اور اسے مضبوط کرنے کے لیے نئی تشخیص اور علاج کی ترقی پر توجہ مرکوز کریں گے۔ دونوں لیڈروں نیدونوں ممالک کے درمیان سائنسی ، ضابطہ کاری اور صحت کے معاملے میں تعاون کو مضبوط کرنے اور اس کیلئے سہولرت فراہم کرانے کی اپنی مشترکہ عہد بندی کا ذکر کرتے ہوئے واشنگٹن، ڈی سی میں اکتوبر 2023 میں ہونے والے آئندہ امریکہ-ہند صحت مذاکرات پر بھی روشنی ڈالی۔دونوں رہنماؤں نے امریکی محکمہ دفاع پی او ڈبلیو/این آئی اے اکاؤنٹنگ ایجنسی اور انتھروپولوجیکل سروے آف انڈیا (اے این ایس آئی)کے درمیان ایک میمورنڈم آف ارینجمنٹ کی تجدید کا خیرمقدم کیا تاکہ دوسری عالمی جنگ میں خدمات انجام دینے والے امریکی فوجیوں کے باقیات کی ہندوستان سے بازیابی میں آسانی ہو۔وزیر اعظم مودی اور صدر بائیڈن نے دونوں ملکوں کی حکومتوں، صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان اعلیٰ سطح کے تعلقات کو برقرار رکھنے اور ایک پائیدار ہند-امریکہ اشتراک کے اپنے شاندار وڑن کو پورا کرنے کا عہد کیا جو ایک روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے دونوں ملکوں کے عوام کی امنگوں کو آگے بڑھاتا ہے، عالمی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتا ہے اور ایک آزاد، کھلی، شمولیت والی اور لچکدار ہند-بحرالکاہل خطے کے قیام میں تعاون دیتاہے۔

112 موضوعات پر ہوئی گفتگو، 73 پر اتفاق قائم!
نئی دہلی //ہندوستان کی راجدھانی دہلی واقع پرگتی میدان کے ’بھارت منڈپم‘ میں دو روزہ جی-20 اجلاس کا کل پہلا دن انتہائی کامیاب رہا۔ ہفتہ کے روز کئی اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی اور اس درمیان نئی دہلی اعلامیہ کو سبھی رکن ممالک کی منظوری بھی مل گئی۔ ہندوستان کی صدارت میں ہوئی جی-20 کی میٹنگوں میں 73 ایسے معاملے رہے جو دنیا کے موجودہ مسائل سے جڑے تھے۔ ان کا حل نکالنے پر سبھی کا اتفاق قائم ہو گیا ہے۔ اس میں فوڈ سیکورٹی اور غذائیت، اوسیان معیشت، سیاحت، لینڈ ریسٹوریشن اور ایم ایس ایم ای سیکٹر شامل ہیں۔ 73 معاملوں کے علاوہ 39 ایسے معاملے بھی تھے جن پر ضروری دستاویزات کے ساتھ اتفاق قائم کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔ یعنی مجموعی طور پر آج 112 موضوعات پر گفتگو ہوئی۔قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل جب 2022 میں انڈونیشا نے جی 20 اجلاس کی میزبانی کی تھی تو 50 موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ علاوہ ازیں 2021 کے اٹلی اجلاس میں 65 اور 2020 کے سعودی عرب اجلاس میں 30 عالمی معاملات کو ایڈریس کیا گیا تھا۔ اس طرح دیکھا جائے تو ہندوستان میں زیر گفتگو ا?نے والے 112 معاملات اور پہلے ہی دن 73 معاملوں پر اتفاق قائم ہونا بہت بڑی کامیابی ہے۔نئی دہلی اعلامیہ پر جی-20 ممالک کا اتفاق قائم ہونا بھی بہت اہم ہے۔ پی ایم مودی نے نئی دہلی اعلامیہ کی منظوری کو تاریخی قرار دیا اور ایکس پر کیے گئے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’جی-20 کے اعلان کو تاریخ کے موافق بنایا گیا ہے۔ عقیدہ اور جذبہ سے متحد ہو کر ہم بہتر مستقبل کے لیے معاون طور سے کام کرنے کا عزم لیتے ہیں۔‘‘