دھوبی ون ٹنگمرگ میں 34 برس بعد  کشمیری پنڈتوں نے مندر میں پوجا کی

BARAMULLA, JUL 17 (UNI)A special Puja and Ketan at Shiv Temple Dhobiwan Tangmarg after a gape of Thirty-four years Kashmiri Pandits along with muslim brothers,Baramulla on Monday.UNI PHOTO-2U

یو این آئی

بارہمولہ//شمالی کشمیر کے ضلع بارہ مولہ کے دھوبی ون ٹنگمرگ علاقے میں 34 برسوں کے بعد پنڈت برادری کے لوگوں نے شیو مندر میں خصوصی پوجا کی۔اطلاعات کے مطابق دھوبی ون میں مسلم اور پنڈت برادری نے مندر کے دروازے کھول دئے جس کے بعد عقیدت مندوں نے مندر میں خصوصی پوجا کی اور پرشاد تقسیم کیا۔گاوں میں رہائش پذیر کشمیری پنڈت مندر کو کھولنے پر کافی خوش نظر آرہے تھے۔گاوں کے سرپنچ سید عامر سہیل نے نامہ نگاروں سے بات چیت کیک دوران بتایا کہ دھوبی ون کی یہ روایت رہی ہے کہ یہاں پر ہندو اور مسلمان دونوں افراد مل کر خوشیاں مناتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’آج ہم یہاں اپنے پنڈت بھائیوں کے ساتھ 30 سال سے زائد عرصے کے بعد جمع ہوئے ہیں جو اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق ہون کا اہتمام کر رہے ہیں۔‘‘ان کے مطابق مقامی مسلمان ہمیشہ کشمیری پنڈتوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور ان کی خوشیوں میں شریک ہوئے۔سرپنچ نے مزید بتایا کہ سال 1989میں گاوں میں رہائش پذیر کشمیری پنڈت جموں چلے گئے لیکن ان کی جائیداد یہاں پر ابھی بھی موجود اور محفوظ ہے۔انہوں نے کہاکہ آج کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ساتھ گاوں کے مسلمان بھی اس ہون میں شامل ہوئے اور کشمیری پنڈت بھائیوں کا استقبال کیا جو کئی دہائیوں کے بعد یہاں پر مندر میں پوجا پاٹ کرنے کی غرض سے آئے ہوئے تھے۔کشمیری پنڈت ویر جے نے اس موقع پر کہاکہ 34سال کے بعد دھوبی ون گاوں کے مندر میں پوجا پاٹ کا اہتمام کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ یہاں پر آکر بہت خوشی محسوس ہوئی اور مسلمانوں نے ایک دفعہ پھر بھائی چارے کی روایت کو زندہ کرتے ہوئے کشمیری پنڈتوں کا استقبال کیا اور ہون میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں آج وہی ماحول محسوس کر رہا ہوں جو اس گاوں میں 34 سال پہلے نظر آتا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج ہم نے مسلم برادری اور انتظامیہ کے تعاون سے ایک نئی شروعات کی اور 34 سال بعد اس موقع کو منانے کے لیے مقامی لوگوں نے بھرپور تعاون کیا۔ایک اور غیر مہاجر پنڈت سنیل بھان نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں اور مسلمانوں کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔انہوں نے کہاکہ 34برس گزر جانے کے باوجود بھی کشمیری مسلمانوں میں بھائی چارے کی روایت ابھی بھی زندہ ہے۔