ایک دن کی خاموشی کے بعدپونچھ اور اکھنور سیکٹر میں دوبارہ گولیوں کی گن گرج

پرتپال سنگھ
پونچھ //اکھنور//حدمتارکہ پرایک دن کی خاموشی کے بعد پیر کی صبح جموں کے اکھنور علاقے میں لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شدید گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ایک دفاعی ترجمان نے بتایا کہ جموں کے اکھنور سیکٹر میں پیر کی صبح پاکستانی فوج نے ہندوستان کی چوکیوں اور دیہات کو نشانہ بنایا۔انہوں نے بتایا کہ فائرنگ قریب تین بجے شروع ہوئی اور صبح ساڑھے چھ بجے تک جاری رہی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے گولہ باری اور چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کرکے ہندوستان کی چوکیوں اور دیہات کو نشانہ بنایا جس کا ہندوستانی فوج نے بھر پور جواب دیا۔ترجمان نے بتایا کہ کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔دریں اثنا دفاعی ترجمان کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایل او سی کے پونچھ سیکٹر میں بھی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔انہوں نے بتایا ‘پاکستان کی جانب سے پیر کی شام ساڑھے پانچ بجے پونچھ سیکٹر میں مارٹر گولے داغے گئے اور ہلکی ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی’۔پونچھ کے سرحدی علاقوں کیرنی ،قصبہ،بانڈی چیچیاں کے بالائی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔اطلاعات کے مطابق پونچھ کے دور افتادہ علاقہ مندھار کیرنی سیکٹر میں دونوں اطراف شدید گولہ باری ہوئی ۔سوموار شام 6بجے حدمتارکہ پر ہلکی گولہ باری جاری ہوئی تو آخر کار میںجلد شدت اختیار کر لی گولہ باری کے تبادلہ میں ہردوجوانب بھاری مشینوں سے بم گرائے جارہے ہیں جن سے مقامی آبادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے اور قیمتی جانوں کے زیاں کا خدشہ ہے اگرچہ ضلع انتظامیہ حفاظتی اقدامات کی خاطر حدمتارکہ کے باشندگان کو قبل از وقت مطلع کر دیا گیا تھا تاہم غریب عوام کے پاس منتقلی کیلئے کوئی وسائل نہ ہیں اور نہ ہی انتظامیہ کی طرف سے خاطر خواہ انتظامات ہوئے ہیں ۔ دفاعی ترجمان نے بتایاکہ ‘ہماری فوج نے پاکستانی فائرنگ کا موثر اور منہ توڑ جواب دیا۔ نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے’۔قابل ذکر ہے کہ راجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں ہفتہ کی دوپہر کو طرفین کے درمیان دوگھنٹوں کی گولہ باری کے تبادلہ کوچھوڑ کر جمعہ کی شام سے لائن آف کنٹرول پر طرفین کی بندوقیں خاموش تھیں۔گولہ باری تھمنے سے سرحدی لوگوں خاص کر راجوری اور پونچھ اضلاع کے لوگوں نے راحت کی سانس لی تھی جہاں طرفین کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کی وجہ سے چار افراد جن میں ایک ہی کنبے کے تین افراد شامل تھے از جان جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔