ریاستی انتظامی کونسل کا اجلاس ، عمومی صورتحال پر جائزہ لیاگیا لوگوں سے امن بنائے رکھنے کی اپیل ’کشمیریوں کی امیدوں کیخلاف کوئی قدم یا فیصلہ نہیں اٹھائیں گے :ستیہ پال ملک

اڑان نیوز
جموں//گورنر ستیہ پال ملک نے کل ریاستی انتظامی کونسل کی ایک میٹنگ طلب کر کے ریاست میں عمومی صورتحال خاص کر پلوامہ واقعہ کے بعد پیدا ہوئی صورتحال کا جائیزہ لیا ۔ میٹنگ میں کے وجے کمار ، کے کے شرما ، کے سکندن ، چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم ، گورنر کے پرنسپل سیکرٹری امنگ نرولہ ، پرنسپل سیکرٹری اطلاعات آر کے گوئیل ، پرنسپل سیکرٹری داخلہ شالین کابرا اور پرنسپل سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقی روہت کنسل بھی موجود تھے ۔ میٹنگ میں گورنر کو جموں میں کرفیو اٹھانے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں جانکاری دی گئی ۔ انہیں کشمیر وادی میں عام انتخابات کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے بارے میں بھی بتایا گیا ۔ گورنر کو بتایا گیا کہ عام انتخابات کافی قریب ہیں جس کیلئے فورسز کی اضافی نفری درکار ہے ۔ پنچائتی انتخابات کے دوران سنٹرل پولیس فورسز کی 400 اضافی کمپنیاں فراہم کی گئی تھیں اور بلدیاتی اداروں اور پنچائیتوں کے انتخابات 13 مرحلوں میں کرائے گئے ۔ ان فورسز کی مدد سے ان انتخابات کو احسن طریقے پر منعقد کرایا گیا ۔ تاہم ان انتخابات کے دوران لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے کئی واقعات پیش آئے ۔ ان انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو دہشت گردوں کی طرف سے موت کی دھمکیاں دی گئیں ۔ اُمیدواروں کو بتایا گیا تھا کہ وہ کاغذاتِ نامزفی داخل کرتے وقت اپنے تابوت ساتھ میں رکھیں ۔ جبکہ ووٹروں کو بھی ووٹ دینے کی صورت میں شدید نتایج بھگتنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں ۔ پلوامہ واقعہ کے بعد اس بات کو محسوس کیا گیا ہے کہ دہشت گرد اپنی کاروائیوں میں اضافہ کر سکتے ہیں اور انتخابات کے دوران اُمیدواروں اور ووٹروں کو ڈرا دھمکا سکتے ہیں ۔ اس صورتحال کی وجہ سے عام انتخابات کے انعقاد کیلئے پولیس فورسز کی اضافی نفری درکار ہے ۔ عام صورتحال میں فورسز کو انتخابات سے ایک ماہ قبل تعینات کیا جاتا ہے تا کہ وہ زمینی صورتحال سے متعلق جانکاری حاصل کر سکیں ۔ اس لئے ریاست میں سنٹرل فورسز کی 100 کمپنیاں فی الحال تعینات کی جا رہی ہیں ۔ یہ ضرورت کے مقابلے میں کافی کم ہے اور آنے والے دنوں میں مزید فورسز کو تعینات کیا جائے گا ۔ گورنر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ فورسز کی اضافی نفری کو انتخابات کے انعقاد کیلئے ہی تعینات کیا جا رہا ہے ۔ گورنر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سماج میں گشت کر رہی بے بنیاد افواہوں پر کان نہ دھریں اور امن بنائے رکھیں ۔ یہ افواہیں غیر ضروری طور پر لوگوں کے دماغ میں خوف کا ماحول پیدا کر رہی ہیں جس کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم ہو رہی ہے ۔ کرفیو کے نفاذ سے متعلق افواہوں پر دھیان نہیں دیا جانا چاہئیے ۔ سیکورٹی فورسز جو کچھ بھی اقدامات کر رہی ہیں وہ پلوامہ حملے کے نتاظر میں کیا جا رہا ہے ۔ یہ بات سمجھنی چاہئیے کہ دہشت گرد کسی بھی وقت کوئی کاروائی انجام دے سکتے ہیں جس کا مقصد ملک کے جمہوری عمل کو متاثر کرنا ہوتا ہے ۔ ریاستی انتظامی کونسل کو بتایا گیا کہ وادی کشمیر میں پیٹرولیم اور دیگر مصنوعات کی سپلائی میں کافی کمی آئی ہے ۔ وادی میں پیٹرول کی جو مقدار دستیاب ہے وہ فقط ایک دن کیلئے کافی ہے جبکہ ڈیزل کی چار دن کیلئے مقدار موجود ہے ۔ وادی کشمیر میں رسوئی گیس کا سٹاک ختم ہوا ہے یہ سب کچھ سرینگر جموں قومی شاہراہ کے بند ہونے سے ہوا ہے جس کے نتیجے میں جموں سے سرینگر کو سپلائی متاثر ہوئی ہے ۔ حکومت سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے مناسب اقدامات کر رہی ہے تا ہم صوبائی کمشنر کشمیر نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے پیٹرول اور ڈیزل کی مناسب تقسیم کاری کے احکامات دئیے ہیں تا کہ ایمر جنسی حالات سے موثر طور نمٹا جا سکے ۔ لوگوں کو چاہئیے کہ وہ ان اقدامات کا کوئی دوسرا مطلب نہ نکالیں بلکہ یہ ضروری اشیاء کی کمی کی وجہ سے انتظامی اقدامات ہیں ۔ دوائیوں سے متعلق بھی ہسپتالوں کی انتظامیہ کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ طبی اداروں میں ضروری ادویات کی کمی کے باعث مناسب اقدامات کریں ۔ ریاست سے باہر رہ رہے کشمیریوں کے تحفظ سے متعلق گورنر نے واضح کیا کہ ملک کے وزیر اعظم نے کل اس سلسلے میں ضروری ہدایات دی ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہماری لڑائی کشمیریوں کے خلاف نہیں بلکہ کشمیر کیلئے ہے اور جموں و کشمیر ملک کا ایک اٹوٹ انگ ہے اور ملک کے ہر شہری کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ہر کشمیری کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ تقریباً22 ہزار کشمیری طالب علم ملک کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم ہیں اور کسی کو کہیں پر کوئی تکلیف نہیں پہنچائی گئی ہے ملک کی مختلف ریاستوں میں لیزان افسر تعینات کئے گئے ہیں جو اپنے فرایض احسن طریقے پر انجام دے رہے ہیں تا کہ طالب علم اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں لیزان افسروں سے متعلق تفصیلات پہلے ہی مشتہر کی گئی ہے ۔ کچھ میڈیا اداروں کی وجہ سے ان بچوں کے والدین کو تشویش ہوئی تھی ۔ سب کیلئے ضروری ہے کہ وہ خوف اور افواہوں کو نہ پھیلائیں ۔ پرنسپل سیکرٹری منصوبہ بندی ، پرنسپل ریذیڈنٹ کمشنر اور کمشنر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم کے ہمراہ آج شام ایک پریس کانفرنس میں طالب علموں سے متعلق معاملات کے بارے میں جانکاری دیں گے ۔ گورنر نے مختلف ریاستوں کی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون کیلئے اُن کا شکریہ ادا کیا ۔ گورنر نے لیزان افسروں کے کام کاج کیلئے انہیں مبارکباد دی ۔ گورنر نے جموں میں مقیم سرکاری ملازمین اور اُن کے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ اُن کی حفاظت سرکار کی پہلی ترجیح ہے اور اس سلسلے میں پہلے ہی اقدامات کئے گئے ہیں ۔ جموں شہر میں حالات بالکل معمول پر آ چکے ہیں اور ملازمین کو بلا کسی خوف کے اپنی ڈیوٹی پر آنا چاہئیے ۔ گورنر نے آخر پر ریاست کے لوگوں سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیتے ہوئے امن کو بنائے رکھیں ۔ حکومت لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے پُر عزم ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ لوگ ہر سطح پر خود کو محفوظ پائیں ۔ دریں اثناء گورنر نے کہا ہے کہ لوگ مطمئن رہے اور افواہ وں پر کان نہ دھریںنے کشمیریوں کے امیدوں کے خلاف کوئی بھی فیصلہ یاقدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ان باتوں کا اظہار ریاست جموں کشمیر کے گور نر ستیہ پال ملک گزشتہ روز سے دفعہ35Aکے متعلق افواہوںکے فوراً بعدکشمیر نیوز سروس کے نامہ نگار کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا۔ ریاست جموں کشمیر کے گور نر ستیہ پال ملک نے ریاست کشمیر کے لوگوں سے ریاست میں دفعہ35Aکے متعلق پھیلائی جا رہی افواہوں پر کان نہ دھرنے اور مطمئن رہنے کی یقین دہانی کرتے ہوئے بتایا کوئی بھی ایسا فیصلہ یا اقدام جو کشمیریوں کے امیدوں کے برعکس ہو گا نہیں اٹھایا جائے گا۔انہوں نے کہاافواہ بازی کے فوراً بعد انہوں نے اس حوالے سے ایک میٹنگ بھی بلائی گئی تھی ۔انہوں نے کہا میں یقین دلاتا ہوں کہ کشمیریوں کے امیدوں کے خلاف کوئی بھی فیصلہ یا قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ستیہ پال ملک نے بتایا کچھ افراد افواہیں پھیلا رہے ہیں انہوں نے بتایاکہ میں کشمیر کے تازہ صورت حال سے متعلق نئی دلی کو خبردار کیا ہے ۔وادی میں سپلائی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سڑک بند رہنے کے نتیجے میں گزشتہ15روزسے سپلائی متاثر ہوئی تھے جس کے بعد گزشتہ شام حکم نامہ جا ری کیا گیا ۔خیال رہے سنیچر کے روز دفعہ35Aکے متعلق افواہ بازی گرم تھی جس کے بعد یہاں لوگوں میں زبردست بے چینی پیدا ہوئی تھی ۔(بشمولات کے این ایس)