’اب ضمیر جموں میں رہنے کی اجازت نہیں دیتا‘ سرمائی ایام جموں میں گذارنے آئے لوگوں کی قبل از وقت گھروں کوواپسی

دانش وانی
جموں//پلوامہ حملے کے بعد جموں میں پیدہ شدہ صورت حال کو دیکھ کر وادی کشمیر کے علاوہ خطہ چناب اور پیر پنچال سے تعلق رکھنے والے جموں میںسردیاں گذارنے کے لئے آئے بیشتر لوگوں نے اپنا رخت سفر باندھ کر وقت سے قبل ہی اپنے گھروں کی طرف ہجرت کرنا شروع کر دی ہے ۔ اس ہجرت کی وجہ اگر چہ شر پسندوں کی طرف سے کی گئی توڑ پھوڑ اور ایک مخصوص طبقے کو ہراساں کرنا بتایا جاتا ہے تاہم جموں کا اکثرکاورباری طبقہ شرپسندوں شر پسندوں کی اس حرکت سے خفا ہیں ۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق اب تک ہزاروں کشمیری اور خطہ پیر پنچال کے اضلاع راجوری پونچھ کے علاوہ خطہ چناب کے اضلاع ڈوڈہ ، کشتواڑ اور رام بن بانہال کے بیشتر لوگ جو سردیوں کے ایام جموں میں گذارنے کے لئے آئے ہوئے تھے اپنا سامان باندھ کر مختلف گاڑیوں میں ڈی سی آفس جموں کے باہر اور بٹھنڈی سے گھروں کی طرف روانہ ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق سیکرٹریٹ اور دربار مو کے ساتھ 11ہزار کے قریب ملازمین میں سے بھی بیشتر ملازمین نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اُن کے بچوں کو بحفاظت گھر پہنچانے کے لئے اقدامات اُٹھائیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے آنکھوں کے سامنے اُن کے کواٹروں پر پتھرائو کے علاوہ ،گوجرنگر اور ریزیڈنسی پر مخصوص طبقے کی گاڑیوں کو نظر آتش کر نے کی وجہ سے اُن میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے اور اس سے باہر آنے میں اُنہیں وقت لگ سکتا ہے ۔ اُنہوں نے بتایا کہ شر پسندوں کی اس حرکت کے سامنے انتظامیہ و پولیس بے بس نظر آئی جس کی وجہ سے وہ خود کو یہاں غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ بعد میں انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کرفیو کا نفاذ عمل میں لا کر ان شر پسندوں کی کسی حد تک روک لیا گیا جس کے لئے وہ انتظامیہ کے مشکور رہے گے ۔ کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ نے اُڑان کو دیئے گئے اپنے ایک وڈیو بائٹ میں بتایا کہ جموں کے مسلم طبقے نے ان دنوں میں جو اُن کی خدمت کی ہے اس کے لئے وہ اُن کے مشکور ہیں لیکن اس کے باوجود اب اُن کا ضمیر یہاں بیٹھے کو اُنہیں اجازت نہیں دے رہا ہے ۔ جموں سے تعلق رکھنے والے کارباری طبقے سے جڑے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شر پسندوں کی اس حرکت سے یہاں صدیوں سے چلے آ رہے بھائی چارے کو زک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس حرکت سے اُن کے کاروبار پر براہ راست اثر پڑا ہے جو کوئی چھپی بات نہیں ۔اُن کا کہنا ہے کہ ان ماہ قبل ان لوگوں کی ہجرت سے جموں کے کاروبار پر اثر پڑا ہے ۔ جموں میں سردیوں کے ایام گذرانے والے یہ لوگ جموں کے مختلف علاقوں میں کرایہ پر کمرے لے ہوئے تھے جبکہ کئی لوگ ہوٹلوں میں قیام کئے ہوئے تھے لیکن حالات کا رخ موڑتے ہی ان میں سے بیشتر لوگوں نے اپنے کمرو ں اور ہوٹلوں کو چھوڑ کر مکہ مسجد بٹھنڈی ، تلاب کھٹیکاںجموں اور گوجر نگر میں چار روز تک پناہ لی رکھی تھی اور یہاںسے بیشتر لوگ اب وقت سے قبل ہی گھروںکی طرف روانہ ہو رہے ہیں ۔ سردیوں کے ایم گذرانے جموں میں مقیم یہ لوگ گھر جاتے وقت یہاں سے بھاری تعداد میں شاپنگ یعنی مختلف گھریوں سامان خریدنے کے بعد گھر جاتے تھے جو کہ ان لوگوں کی حسب روایت ایک ریت تھی لیکن اس بار یہ لوگ بنا شاپنگ کے گھروں کا رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے کاروبار اثر انداز ہوا ہے اور کاروباری طبقہ ان شر پسند عناصر سے خوش نہیں ہے جن کی وجہ سے انہیں لاکھوں کا نقصان اُٹھانا پڑا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق جموں کا کاروباری طبقہ یہاں پر عوام کی تعداد کے مطابق اپنے دوکانوں میں سامان منگاتے ہیں اور عوام کی اس بھیڑ کا بیشتر حصہ وقت سے پہلے ہجرت کرنے کی وجہ سے اُن کا ماننا ہے کہ اُنہیں نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اُن کے زیادہ تر گاہک وادی کشمیر کے علاوہ خطہ چناب اور خطہ پیر پنچال سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کی سالوں کی برادری ہے اُنہوں نے کہا کہ کچھ وقت کے لئے شر پسندوں کی وجہ سے اگر چہ ایسا کیا گیا لیکن اُن کے بھائے چارے اور کاروبار کے رشتے کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا ۔ جموں کے کئی سیایسی مفاد رکھنے والے بڑے لیڈروں کو چھوڑ کرسیول سوسائٹی اور وی دے ہومن جموں نامی تنظمیم کے ممبران نے شر پسندوں کی حرکت کی مزمت کرتے ہوئے جموں اور ریاست کے آپسی بھائی چارگی کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ جبکہ پلوامہ حملے کو جموں کے مختلف سیول سوسائٹی اور مسلم طبقوں کی تنظمیوں نے بھی مذمت کرتے ہوئے اس میں مارے گئے سیکورٹی فورسسز کے اہلکاروں کے ساتھ ہمدری کا بھی اظہار کیا گیا ہے ۔ جموں کے کچھ کارباری طبقے کا کہنا ہے کہ 1947کے بعد جموں آپسی بھائی چارگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مثال ہے اور کچھ لوگ اس بھائی چارگی کو زک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کھبی اس میں کامیاب نہیں ہو پائے گے ۔ اُنہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے ان شر پسندوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور اُنہیں اُمید ہے کہ ان کے خلاف قانونی کاوارئی عمل میں لائی جائی گی ۔