81

این سی اٹانومی کے نام پر عوام کو دوبارہ بیوقوف بنارہی ہے

این سی اٹانومی کے نام پر عوام کو دوبارہ بیوقوف بنارہی ہے
مسئلہ کشمیر میں جموں وکشمیر اسمبلی کا محدودرول©:سجاد لون
جموں میں سابق ممبراسمبلی باقررضوی اور پی ڈی پی ترجمان سمیت متعدد کا پیپلزکانفرنس میں خیر مقدم کیا
الطاف حسین جنجوعہ
جموں// شیعہ لیڈر اور لداخ کے سابق ممبر اسمبلی اور پی ڈی پی ترجمان نے جموں میں پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ جموں میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سابقہ ممبراسمبلی باقررضوی،پی ڈی پی کے ترجمان ابھجیت جسروٹیہ ، مینڈھر سے ایڈووکیٹ ابرار احمد خان اور ایڈووکیٹ عرفان انقلابی، نتن جموال، آشش پنڈیتہ اور پی کمار کا پیپلز کانفرنس میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پُر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران سجاد لون اور عمران رضاانصاری نے مذکورہ لیڈران کا خیر مقدم کیا اور اس بات کی پیشگوئی کی آنے والے دنوں کے دوران مزید کئی سابق ممبران اسمبلی اور لیڈران پیپلز کانفرنس میں شامل ہورہے ہیں۔ پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے کہاکہ آنے والے دنوں کے دوران مزید کئی لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی پارٹی میں شامل ہورہے ہیں اور اُن سے بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔سجاد لون نے پریس کانفرنس کے دوران پارٹی کسی کے ساتھ الائنس نہیں کرئے گی بلکہ 87نشستوں پر اپنے اُمیدوار کھڑا کرئے گی۔ انہوںنے کہاکہ پارٹی اب کشمیر ، لداخ اور جموں میں بھی مضبوط ہو رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب پیپلز کانفرنس اپنے بل پر حکومت بنائے گی۔ سجاد لون نے نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ان دونوں جماعتوں نے ریاست کے سبھی خطوں کا استحصال کیا۔ ان دونوں جماعتوں نے ایسی صورتحال قائم کررکھی کہ کشمیر کے اندر ’Protected Persons‘کے علاوہ کوئی بھی عام شخص جواہلیت رکھتا ہے، وہ جیت کرسامنے نہیں آیا۔ سجاد لون نے کہاکہ نیشنل کانفرنس اٹانومی کا راگ الاپ کر لوگوں کو بیوقوف بنارہی ہے۔سال1996میں جب مرکزی سرکار نے اٹانومی کی قرار داد کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا تو عمر عبداللہ کو این ڈی اے حکومت سے مستعفی ہونا چاہئے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ مستعفی اس وجہ سے ہوئے تھے کہ ان کے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو نائب صدر جمہوریہ نہیں بنایاگیا۔انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس اگر ریاست جموں وکشمیر کو اٹانومی دلانے کیلئے مخلص ہوتی تو اس وقت یہ اقتدار سے کنارہ کشی کرتے لیکن ایسا نہیں کیاگیا۔ این سی میں لیڈران کی حالیہ شمولیت کے رد عمل میں سجاد لون نے کہاکہ اپنے دم پر نیشنل کانفرنس انتخابات لڑنے کی پوزیشن میں نہیں، اب دوسری جماعتوں سے ایم ایل اے لاکر جیت کی کوشش کی جارہی ہے۔ مگر ایسا نہیں ہوگا۔انہوں نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو موقع پرست جماعتیں قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان دونوں جماعتوں کا مقصد باری باری ریاستی عوام کا استحصال کیا اور کسی تیسرے متبادل کو تیار نہ ہونے دینا ہے۔ اسی لئے ان جماعتوں نے حالیہ دنوں ہوس اقتدار کی خاطر ہاتھ ملالیا۔اقتدار ان کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ ابھی کوئی بھی بڑا وعدہ یا اعلان نہیں کرتے لیکن وہ مکمل طور ویژن ڈاکومنٹ کے ساتھ انتخابات میں اُتریں گے، لوگوں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر اسمبلی کا مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے محدود رول ہے۔ ہم صرف یہاں پر حالات کو قابو میں کرسکتے ہیں، باقی مرکزی سرکار کے حداختیار میں ہے کہ وہ اس تنازعہ کو حل کرے، اس میں پڑوسی ملک کا بھی رول ہے، ہماری کوشش رہے گی کہ ایسے سازگار حالات پیدا کئے جائیں کہ مذاکرات کا عمل شروع ہو۔ انہوں نے کہاکہ تنازعہ کشمیر پانچ برس کی بات نہیں یہ دہائیوں بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے لئے وقت درکار ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ انتخابات سے قبل کسی بھی سیاسی گڑ جوڑ کو نکارتے ہوئے کہا کہ پیپلز کانفرنس ریاست کی سبھی 87نشستوں پر اپنے اُمیدوار میدان میں اُتارے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں