تعلیم و تربیت انسانی بقاءکیلئے اہم: وزیر اعلیٰ ’ریاست میں خواتین کی ترقی کے بجائے خواتین کے ذریعے ترقی دیکھنا چاہتی ہوں ‘

جموں//وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے آج کہا کہ ان کی حکومت نے ریاست میں ایک نالیج سوسائٹی معرض وجود میں لانے کا عزم کیا ہے تاکہ عالمی سطح پر تعلیمی ضروریات کے ساتھ ہمارا موازنہ ہو۔ جموں یونیورسٹی میں 17ویں کنووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ جو یونیورسٹی کی پرو چانسلر بھی ہیں نے کہا کہ ان کی حکومت نے حال ہی میں نالیج انشیٹیوکا آغاز کیا جس کا بنیادی مقصد ریاست کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اُبھارنے کا ماحول فراہم کرنا ہے ۔انہوںنے کہا کہ یہ انشیٹیو تعلیم ، روزگار اورنوجوانوں کو بااختیار بنانے کے تین ستونوں پر تعمیر کیا گیا ہے ۔اس موقعہ پر خزانہ اور کارپوریٹ افیئریس کے مرکزی وزیر ارون جیٹلی مہمان خصو صی تھے جبکہ گورنر این این ووہرا جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں نے کنووکیشن سے خطاب کیا۔ تعلیم و تربیت کو انسانی بقاءکے لئے اہم قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ علم کے حصول کے لئے ایک باقاعدہ ٹیسٹنگ ، ری اسسمنٹ ، چیلنج اور ڈبیٹ کا عمل دخل ہے ۔انہوں نے کہاکہ مزید علم حاصل کرنے کے ان حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا جن کی بدولت طلاب کو نئی منزلیں طے کرنے میں سہولیات دستیاب ہوں گی۔ اس کے لئے ہمیں ہمت، فراخدلی اور ندامت کے ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ ہم ایک باصلاحیت معاشرے کو معرض وجود میں لاسکیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کئی نوجوان لڑکیوں کو آج کے کنووکیشن میںمیڈلوں اور ڈگریوں سے نوازا گیا جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ہم خواتین کی ترقی کےلئے نہیں بلکہ خواتین کے ذریعے ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں۔انہوں نے تمام طلاب اور سکالروں کی انتھک کوششوں کی سراہنا کی جنہیں آج کے کنووکیشن میں ڈگریوں سے نوازا گیا۔ پی ایم او میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ ،نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ، وزراء، وزیر اعلیٰ کے مشیر پروفیسر امیتابھ مٹو، ارکان قانون سازیہ ، چیئرمین سٹیٹ اکاؤنٹبلٹی کمیشن ، جسٹس بی اے خان، ریاست کے تمام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ، سینئر افسران ، جموں یونیورسٹی فیکلٹی ممبران کے علاوہ سکالروں اور طلاب کی بڑی تعداد اس موقعہ موجودتھیں۔