مرکزی ایم او آر ڈی نے پی ایم اے وائی ، پی ایم جی ایس وائی کی عمل آوری کا جائزہ لیا

اڑان نیوز
نئی دلی//تعمیرات عامہ کے ریاستی وزیر نعیم اختر اور دیہی ترقی و پنچایتی راج کے وزیر عبدالحق خان نے آج نئی دلی میں دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران پی ایم اے وائی اور پی ایم جی ایس وائی کی عمل آوری سے جڑے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ میٹنگ میں کئی ریاستوں کے دیہی ترقی کے وزراء اور متعلقہ محکمہ کے افسروں نے شرکت کی۔مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کی رہنمائی میں وزرات دیہی ترقیات مختلف سکیموں کی رو سے دور دراز اور دیہی علاقوں کے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتر ی لانے کے لئے وعدہ بند ہے ۔انہوں نے کہاکہ سال 2013-14ء میں دیہی ترقی محکمہ کا بجٹ 58630کروڑ روپے تھا جو سال 2017-18میں 109042کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت تمام بستیوں کو پکی سڑکوں سے جوڑنے کا ٹارگٹ اب مارچ 2019ء رکھا گیا ہے جو پہلے مارچ 2022 مقرر تھا۔اس موقعہ پر نعیم اختر نے کہا کہ ریاستی حکومت مختلف سکیموں کو عملا کر دیہی علاقوں میں سڑک رابطوں میں بہتری لانے کے کام پر گامزن ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ایم جی ایس وائی کے دسویں مرحلے کے تحت 2410 سڑکیں ،108پل ، 8132.38کروڑروپے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے جن کی بدولت 2035 بستیوں کو بہتر سڑک رابطے فراہم ہوئے ۔مرکزی وزیر نے پی ایم جی ایس وائی اور پی ایم اے وائی کی ریاستوں میں عمل آوری کا جائزہ لیتے ہوئے زور دیا کہ ان سکیموں کے تحت پروجیکٹوں میں سرعت لائی جانی چاہئے تاکہ اہداف کو مقررہ مدت کے اندر حاصل کیا جاسکے۔اس موقعہ پر عبدالحق خان نے میٹنگ میں مختلف سکیموں کی عمل آوری کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت ان سکیموں کو موثر ڈھنگ سے عملانے میں ہرممکن تعاون فراہم کرے گی۔وزیر نے کہا کہ پی ایم اے وائی کے مستحقین کی نئی فہرست تیار کرنے کے لئے گرام سبھائوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ کے اہلکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہ فہرست 15 دنوں کے اندر اندر تیار کریں تاکہ مستحقین استفادہ کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی رہنمائی میںحکومت دوردراز علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری لانے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے ۔