اسمبلی میں پشوپلان، بھیڑپالن اور ماہی گیری کے مطالبات زر پاس دودھ کی پیداوار میں سالانہ 4.1فیصد اضافہ ، پولٹر ی پیداوار 675لاکھ کلو گرام تک پہنچ گئی:کوہلی

اڑان نیوز
جموں//پشوپالن ، بھیڑ پالن اور ماہی پروری کے وزیر عبدالغنی کوہلی نے آج قانون ساز اسمبلی میں اپنے ماتحت محکموں کے مطالبات ِزر پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پشو پالن ، ماہی پروری اور پولٹری سیکٹرکو فروغ دینے کے لئے اختراعی اقدامات کر رہی ہے تاکہ ریاست برآمد کار ی کے شعبے میں آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ این ایل ایم کے تحت رواں مالی سال کے دوران 14.17کروڑ روپے ریاست کے لئے مختص کئے گئے جن میں سے اب تک 5.65کروڑروپے واگذار کئے گئے تاکہ پولٹری سیکٹر کو بڑھاوا دی اجاسکے ۔انہوں نے کہا کہ این ایل ایم رواں مالی سال کے دوران 600مستحقین کو اس سکیم کے دارے میں لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نئے اقدامات میں موجودہ گورنمنٹ شیپ بریڈنگ فارموں میں تجدید کاری کرنا بھی شامل ہے ۔عبدالغنی کوہلی ہے کہ محکمہ نے زمینی سطح پر 8.24لاکھ مصنوعی تخم ریزی ، 5.15لاکھ ویکسین کر کے مذکورہ اہداف حاصل کئے ہی۔ علاوہ ازیں سرکاری فارموں میں 12.21لاکھ انڈے اور 5.31لاکھ چوزے تیار کئے گئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں 2014-15م یں دودھ کی پیداوار 2136ہزار میٹرک ٹن کی 2016-17ء میں 2405ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔وزیرنے کہا کہ محکمہ ویٹرنری سیکٹر میں طبی نگہداشت کی بہترین سہولیات بہم کرانے کی طرف بھی خصوصی توجہ دے رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت محکممہ 1750 اینمل ہسبنڈری مراکز کے ذریعے ویٹرنری سہولیات دستیاب کررہا ہے ۔اس کے علاوہ ضلع اور صوبائی سطحوں پر جدید طرز کی لیبارٹریاں بھی سہولیات مہیا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سال 2016ء کے دوران 17515 لاکھ ٹیکے مویشیوں ، پولٹری اور بھیڑوں کو کرائے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک عوام دوست گریز نگ پالیسی تیار کی جارہی ہے تاکہ مویشیوں کے لئے موزون نرخوں پر گھاس دستیاب کرائی جاسکے ۔ڈیری سیکٹرکے حوالے سے انہوں نے کہا کہ محکمہ نے چشمہ شاہی سرینگر اور ستوار ی جموں میں ملک پروسسنگ پلانٹوں کو بڑھاواد دینے کے لئے 11کروڑ روپے فراہم کئے ۔وزیر نے کہا کہ پہلی مرتبہ ریاست میں دودھ کی پروسسنگ کا نشانہ ایک لاکھ لیٹر یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔کوہلی نے کہا کہ حکومت کواپریٹیو ڈھانچے کے تحت بلک ملک کولنگ مراکز قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کررہا ہے جس کی بدولت مویشی پالنے والے لمبے عرصے تک دودھ کو محفوظ رکھ سکیں گے۔ریاست میں گوشت کی پیداوار بڑھانے کے حوالے سے وزیر موصوف نے کہا کہ شیپ ہسبنڈری محکمہ اس حوالے سے جامع کوششیں کر رہا ہے تاکہ درآمدات کو کم کیا جاسکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈار پر اور رمبولٹری جیسے بریڈ ریاست میں متعارف کئے گئے ہیں جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں۔پولٹری سیکٹر میں ہو رہی پیش رفت کا ذکرکرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ریاست میں سال 2016-17کے دوران پولٹری گوشت کی مقدار 675لاکھ کلو گرام تک پہنچ گئے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پولٹری فارمنگ سرگرمیوں کو ایک صنعت کی حیثیت دینے کے لئے اقدامات کر رہی ہے تاکہ اس شعبے میں معقولیت لا کر اسے مزید فعال بنایا جاسکے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ حکومت ہیچروں کے قیام کے لئے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی طرف بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔فشریز سیکٹر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ اس سیکٹر کی آمدنی سالانی 5.60کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے اوراس سیکٹر سے براہ راست 15ہزار ماہی گیروں کو روزگار حاصل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں مچھجلیون کی پیداوار 20ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس سیکٹر کو فروغ دینے کے لئے بلیوریولیشن اور آر کے وی وائی سکیمیں چلارہا ہے ۔وزیرنے کہاکہ نجی سیکٹر میں 1037کارپ یونٹ اور 501کارپ یونٹ قائم کئے گئے ہیں اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوکر ناگ میں ایک بڑی ٹراوٹ ہیچری قائم کی گئی ہے جس کی صلاحیت 1.2ملین انڈے سالانہ تک بڑھا دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلیو ریولیشن سکیم کے تحت محکمہ نے 4.29کروڑ روپے کی لاگت سے ایک مشیر بروڈبینک قائم کیا ہے ۔ علاوہ ازیں ریاست میں 2کارپ فش سیڈ ہیچریاں بھی قائم کی گئی ہیں۔ عبدالغنی کوہلی نے کہا کہ حکومت نروال جموں میں ایک مچھلی بازار قائم کررہا ہے جس کو اس سال مارچ مہینے تک مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ماہی گیروں میں بیس آٹورکشا اور 1016بائیسکل فراہم کئے گئے ہیں۔ایوان نے بعد میں پشو پالن ، فشر یز اور دیگر محکوں کے 68680.48لاکھ روپے کے مطالبات زر منظور کئے ۔اس سے قبل جن ارکان نے مطالبات زر کی بحث میں حصہ لیا ان میںالطاف احمد وانی ، سید فاروق احمد اندرابی ، نیلم کمار لنگے ، اعجاز احمد خان، بشیر احمد ڈار، مُبارک گُل ، راجا منظور احمد، چودھری سکھ نندن کمار ، نوانگ ریگزن جورا ، نور محمد شیخ ، دلیپ سنگھ پریہار ، محمد اکبر لون ، اصغر علی کربلائی ،عبدالرحیم راتھر ، عثمان عبدالمجید اور رویندر رینہ شامل ہیں۔