پونچھ میں ستمبر2014کی سیلابی تباہی کے بعد تحفظاتی کام نہ ہوئے 140کروڑ روپے کے تین پروجیکٹ سینٹرل واٹر کمیشن کی منظوری کے منتظر

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//ستمبر2014کی سیلابی تباہی کے بعد آج تک قصبہ پونچھ ، بیتاڑ نالہ اور منڈی نالہ کے کناروں پر تحفظاتی باندھ کی تعمیرفنڈز واگذار نہ ہونے کی وجہ سے کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے سینٹرل واٹر کمیشن کو پروجیکٹ پانی کی منظوری کے لئے بھیجے ہیں جہاں سے منظوری ملنا باقی ہے۔ ایم ایل سی پردیپ شرما کے سوال کے جواب میں بازآبادکاری ، راحت وتعمیر نوکے وزیر نے ایوان بالاء میں اعتراف کیاکہ سال 2014کے دوران پونچھ ضلع میں7427مکانات /ڈھانچے تباہ ہوئے جبکہ اس دوران 1184مویشے خانے /گاؤ خانے بھی دریا برد ہوگئے تھے۔ باؤلیس کے چنڈک سے شیر کشمیر پل تک سے درہ دلیاں، بیتاڑ نالہ، منڈی نالہ، کھنیتر نالہ سے منگاڑ میں تحفظاتی باندھ تعمیر کے لئے اٹھائے جارہے اقدامات ، جس کے لئے ڈی پی آر تیار کئے گئے ہیں ، کے لئے فنڈز واگذار نہ کرنے بارے پوچھے جانے پر ڈیزاسٹرمینجمنٹ، راحت، بازآبادکاری وتعمیرنو کے وزیر جاوید مصطفی میر نے بتایاکہ شاہی نہر سے کلائی پل اور کلائی پل سے شیر کشمیر پل تک دو انسداد سیلاب تحفظ پروجیکٹوں کی کی تعمیر کے لئے 115.22کروڑ روپے (51.00+64.22کروڑ روپے )کا پروجیکٹ سینٹرل واٹر کمیشن نئی دہلی کو بھیجاگیاہے۔ واٹر کمیشن نے سینٹرل واٹر اور پاور ریسرچ اسٹیشن (SWPRS)پونے سے میتھی میٹیکل ماڈل اسٹڈی کرانے کو کہا ہے۔ CWPRSسے رجوع کیاگیاہے اور کنسلٹنسی و مقررہ مدت بارے بات چیت چل رہی ہے۔ بیتاڑ نالہ میں تحفظاتی باندھ کی تعمیر کے لئے 23کروڑ روپے کا ڈی پی آر تیار کر کے سینٹر واٹرکمیشن جموں کو منظوری کے لئے بھیجاگیاہے۔ منڈی نالہ پر اہم مقامات جن میں ساتھرہ، چکترو، کلونی، منگاڑ نالہ، چک دار ، جھلاس کی شناخت کی گئی ہے ، جن کی تعمیر کے لئے 364.17لاکھ روپے درکار ہیں، جوں ہی فنڈز ملیں گے کام شروع ہوجائے گا۔ پردیپ کمار شرما نے کہاکہ 2014میں سیلاب آیاتھا، چار سال گذر گئے ابھی تک زمینی سطح پر کوئی تحفظاتی کام نہ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ پورا پونچھ قصبہ سیلاب کی ذد میں ہے، اگر ستمبر2014کو دورانِ شب سیلاب آیا ہوتا تو ہزاروں لوگ دریا میں بہہ گئے ہوتے۔انہوں نے کہاکہ فوری طور تحفظاتی باندھ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ بیتاڑ نالہ اور منڈی نالہ کے آس پاس ابھی تک کوئی بھی پروٹکشن کام نہیں ہوا۔ حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ سینٹرل واٹر کمیشن سے فنڈز ملنے ہیں، آخر کتنا عرصہ اور لگے گا۔ اس پر وزیر جاوید مصطفی میر نے کہاکہ ممبر موصوف کی تشویش بجا ہے۔ انہوں نے یقین دلایاکہ معاملہ کو زور وشور سے اٹھایاجائے گا تاکہ جلد فنڈز ریلیز ہوں تو کام شروع کیاجائے۔