دنیشورمحو رہے مختلف وفود کے ساتھ تبادلہ خیال

سرینگر//ریاست میں امن عمل کا سرنو آغاز کرتے ہوئے مرکزکے نامزد نمائندے دنیشور شرما نے منگل کو دوسر ے روز بھی سےا سی سرگرمےاں جا ری رکھےں جس کے دوران انہوںنے سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ دیگر گروپوں اور افراد کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کےا۔شرما نے منگل کی صبح ہر ی نواس مےں ریاستی انتظامیہ کے کچھ سینئرحکام کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ بعد مےں عوامی وفود کے علاوہ سےا سی پارٹےوں کے ساتھ ساتھ طلباءاور نوجوانوں کی انجمنوںکے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی۔ اس دوران کشمےر پنڈت وفد نے بھی موصوف سے ملاقات کی ہے جبکہ دیگرکئی وفودبھی ان سے ملے ہےں جبکہ آل پارٹی سکھ کارڈینشن کمیٹی نے بھی موصوف سے ملاقات کی ۔ملاقات میں وفد نے موصوف کو بتایا کہ وہ ریاست میں مرکزی اقلیتی کمیشن کی طرز پر اقلیتی درجے کو نافذ کرے ۔اپنے ایک بیان میں آل پارٹی سکھ کارڈنیشن کمیٹی سربراہ جگ موہن سنگھ رینہ نے کہا ہے کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ ریاست میں 70برس گزرنے جانے کے باجود سکھوں اقلیتی درجہ نہیں دیا گیا جبکہ ہندوستان میں اکثریتی طقبے اقلیتی طبقے کی مانگ کررہے ہیں۔جبکہ پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور معروف کاروباری مشتاق احمد چایہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے مرکزی نمائندے کے ساتھ ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے اگرچہ ہمیں حکومت کی طرف سے دعوت ملی تھی تاہم ہم مرکزی نمائندے سے ملاقات کا اراہ نہیں رکھتے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرکزکی طرف سے مذاکرات کے لئے نامزد مختار سوموا ر کو وادی کے دورے پر سرکاری مہمان خانے میں کچھ وقت قیام کے بعدموصوف نے مختلف وفودکے ساتھ ملاقاتوں کاسلسلہ شروع کیا۔ ریاستی انتظامیہ نے ایسے50سے زیادہ سیاسی وغیرسیاسی وفودکی ایک لسٹ مرتب کی ہے ،جو موصوف کے ساتھ ملاقات وتبادلہ خیال کریں گے ۔مرکزی پولیس فورس یعنی سی آرپی ایف نے موصوف کی سیکورٹی کی ذمہ داری لی کیونکہ موصوف کی سیکورٹی کاذمہ مرکزی پولیس فورس کوہی سونپاگیاہے ۔موصوف کئی مین اسٹریم لیڈروںکے ساتھ ملاقات کررہے ہیںجن میں سابق وزیرغلام حسن میر،حکیم محمدیاسین اورممبراسمبلی کولگام محمدیوسف تاریگامی بھی شامل ہیں ،اوریہ تینوں لیڈران دنیشورشرماکے ساتھ تاریگامی کی رہائش گاہ پرملاقات اورتبادلہ خیالات کریں گے ۔ محمدیوسف تاریگامی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ 8نومبرکویہ ملاقات ہورہی ہے۔تاہم ابھی تک نیشنل کانفرنس اورریاستی کانگریس کی جانب سے موصوف سے ملاقات کرنے یانہ کرنے کاکوئی واضح اشارہ نہیں دیاہے ۔دونوں پارٹیوں کے ذرائع نے بتایاکہ ابھی اس معاملے پرصلاح مشورہ چل رہاہے ۔غورطلب ہے کہ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹرفاروق عبداللہ نامزدگی کوایک لاحاصل عمل قراردےتے ہوئے کئی بارکہہ چکے ہیں کہ ماضی میں نامزدنمائندوںکی سفارشات پرعمل درآمدکیاجائے جبکہ نیشنل کانفرنس کے صدرنے یہ بھی کہاکہ بہترہے کہ بھارت کشمیرجیسے مسئلے کاحل نکالنے کیلئے پاکستان اورکشمیری حریت لیڈروں کیساتھ مذاکرات کاعمل شروع کرے ۔دنیشورشرمااپنی سرگرمیاں محض ایک میزبان تک محدودنہیں رکھیں گے بلکہ وہ کئی سیاسی اورغیرسیاسی وفودکے ساتھ ثانی الذکرکی من پسندجگہوں پرجاکرتبادلہ خیال کریں گے ۔واضح رہے گزشتہ ماہ کی 20تاریخ کومرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران جموں وکشمیرکیلئے مرکزی سرکارکی جانب سے مذاکرات کے لئے دنیشور شرما کی نامزد گی کااعلان کیاتھا،اوراگلے روزدانیشورشرماکی تقرری کے حوالے سے باضابط طورایک حکمنامہ بھی جاری کیاگیاتھا۔