کشمیر میں پتھر بازی کے واقعات میں کمی، نوجوانوں کا جنگجوو¿ں کی صفوں میں شمولیت باعث تشویش: سی آر پی ایف

سری نگر// سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے انسپکٹر جنرل روی دیپ سنگھ ساہی نے کہا کہ وادی کشمیر میں پتھربازی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ تاہم انہوں نے مسلح تصادموں کے مقامات پر ہونے والی پتھربازی کو سیکورٹی فورسز کے لئے باعث تشویش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کشمیری نوجوانوں کی جنگجوو¿ں کی صفوں میں شمولیت کے رجحان میں اضافے پر تشویش کا ظہار کیا۔ سی آر پی ایف کے آئی جی نے پیر کو یہاں ایک تقریب کے حاشئے پر یو این آئی کو بتایا ’ہم نے احتجاجیوں سے نمٹنے کے لئے اپنے جوانوں اور افسروں کو تیار کیا ہے۔ انہیں لاءاینڈ آڈر کے مسئلے کے دوران زیادہ سے زیادہ صبروتحمل سے کام لینے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں وادی میں گذشتہ چار پانچ مہینوں کے دوران پتھر بازی کے واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے‘۔ انہوں نے کہا ’لوگوں کی سمجھ میں آگیا ہے کہ ایسی حرکتوں کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ پتھر بازی کے واقعات میں کمی آئی ہے‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ’قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)کی کاروائی کا کوئی اثر پتھر بازی پر پڑا ہے‘ مسٹر روی دیپ سنگھ نے کہا ’ہاں، این آئی اے کی کاروائیوں نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ پتھر بازی پر ان کاروائیوں کا اثر پڑا ہے‘۔ آئی جی نے کشمیری نوجوانوں کی جنگجوو¿ں کی صفوں میں شمولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’جواں سال نوجوانوں کا جنگجوو¿ں کی صفوں میں شامل ہونا ہمارے لئے باعث تشویش ہے۔ اس رجحان کے خاتمے کے لئے سیکورٹی فورسز اور سول سوسائٹی کو ایک جٹ ہونا پڑے گا‘۔ مسٹر روی دیپ نے کہا کہ خودسپردگی کا راستہ اختیار کرکے قومی دھارے میں شامل ہونے والے مقامی جنگجوو¿ں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا ’ہم مقامی جنگجوو¿ں سے کہتے ہیں کہ وہ مسلح تصادموں کے دوران بھی خودسپردگی اختیار کرسکتے ہیں۔ اگر وہ ہماری پیشکش کو قبول کرتے ہیں تو ان کی بازآبادکاری یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی‘۔ سی آر پی ایف کے آئی جی نے جنوبی کشمیر میں سیاسی کارکنوں پر حالیہ حملوں کو جنگجوو¿ں کی مایوسی سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’ہم گذشتہ چھ ماہ کے دوران اعلیٰ جنگجو کمانڈروں کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد پر حملے جنگجوو¿ں کی مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہے‘۔