اننت ناگ پارلیمانی نشست پرضمنی انتخاب حالات موزوںنہیں الیکشن کمیشن آف انڈیا کو رپورٹ پیش فیصلہ اگلے سال مارچ کے بعد ،پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات بھی التوا میں

اڑان نیوز
سرینگر //ریاستی حکومت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا پر واضح کر دیا کہ جموںوکشمیر میں انتخابات کرانے کےلئے حالات سازگار نہیں ہیں اور اننت ناگ نشست کےلئے بھی ضمنی انتخابات فی الحال ممکن نہیں ۔ اس دوران بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات کے حوالے سے بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا جاسکا ۔جبکہ ضمنی انتخابات کےلئے اگلے سال مارچ کے بعد ہی کوئی فیصلہ لئے جانے کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ ریاست میں اننت ناگ ضمنی انتخابات کےلئے چناو پہلے ہی دو بار ملتوی کر دیئے گئے ہیں کیونکہ حالات خراب ہوگئے ہیں۔ اننت ناگ نشست جو کہ محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد خالی پڑی ہوئی ہے پر انتخابات کےلئے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے پھر تیاریاں شروع کر دی تھیں اور اس سلسلے میں ریاستی حکومت کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا ۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ستمبر کے مہینے میں ریاستی حکومت کو ایک مکتوب لکھا تھا جس میں حکومت سے کہا گیا تھا کہ وہ ریاست میں چناو کرانے کےلئے حالات سے متعلق اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو بھیج دیئے ۔ الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں وزرات داخلہ کو بھی آگاہ کیا تھا ور ان کی جانب سے بھی رپورٹ کا انتظار کیا جارہا تھا ۔کیونکہ ریاست میں حالات پر تناو ہونے کی وجہ سے نہ صرف وزارت داخلہ کی کلینئر نس لازمی ہے بلکہ ریاستی حکومت کی جانب سے بھی اس پر آمادگی لازمی قرار دی جارہی ہے اور الیکشن کمیشن آف انڈیا ریاستی حکومت کی مرضی کے بغیر الیکشن کروانے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جو آخری رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اننت ناگ ایک حساس علاقہ ہے اور وہاں ملی ٹینسی سے جڑے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں ساتھ ہی ساتھ معمول کے حالات بھی موزوں نہیں ہیں اور جب تک پوری طرح سے امن بحال نہیں ہوجائے گااس ضمنی نشست کےلئے انتخابات کرانا ممکن نہیں ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ ریاستی حکومت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو آگاہ کر دیا ہے کہ فی الحال ضمنی انتخابات کےلئے حالات موزوں نہیں ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس سلسلے میں فیصلہ اگلے سال مارچ کے بعد ہی لیا جاسکے گا ۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ پر تشدد واقعات مسلسل بنیادوںپر ہو رہے ہیںاور ایسے میں جنگجو مخالف آپریشن بھی چل رہے ہیں اور ایسے میں کچھ ایک پرتشدد واقعات میںعوام کی مداخلت بھی جاری ہے لہٰذا کسی بھی طرح کا کوئی بھی رسک نہیں لیا جاسکتا ہے بلکہ انتظار کیاجاسکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اگلے سال مارچ تک حالات کافی حد تک بہتر ہو گئے ہوں گے ۔وہیں ریاست میں سرما کی آمد آمد کے بیچ بھی یہ فیصلہ لیا گیا ہے کیونکہ شدید سردی اور امکانی برفباری کے پیش نظر انتخابات کےلئے بھی حالات موزوں نہیں ہیں اور ایسا کیا جاتا ہے تو پھر ووٹوں کی شرح میں کافی حد تک گراوٹ ہو سکتی ہے ۔ مرکزی حکومت نے ریاست میںامن بحالی کےلئے ایک مذاکرات کار کو نامزد کر دیا ہے اور ان کی موجودگی میں انتخابات کرانا بھی کسی بھی طور پر موزوںنہیں ہوگا کیونکہ مذاکرات کار نے ابھی اپنا کام شروع بھی نہیں کیا ہے تو پھر ایسے میں بیچ انتخابات کا بگل بجانا کوئی اچھی بات یا پیغام نہیں ہوگا کیونکہ اس سے مذاکرات کار کے کام میں مشکلات اور رکاوٹیں پیش آسکتی ہیں لہٰذاا مذاکرات کار اپنے کئی ایک روانڈ کرکے جائے تو ہو سکتاہے کہ کسی حد تک امن بحال ہو جائے گا جس کے بعد انتخابات کرانا آسانا ہوجائے گا ایسے میںیہ اتفاق رائے پیدا ہورہا ہے کہ فی الوقت انتخابات کےلئے حالات موزوں نہیں ہیں لہٰذااگلے سال مارچ کے اوئل میں ہی اس پر سوچا جا سکتا ہے جس کے بعد کوئی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ذرائع کا کہناہے کہ الیکشن کمیشن نے من بنا لیا تھا کہ جموںوکشمیر کے اننت ناگ حلقہ انتخاب کےلئے ضمنی نشست پر پندرہ نومبر سے قبل ہی انتخابات کا بگل بجایا جائے جس کے بعد وادی میں بھاری برفباری کا امکان رہتا ہے اور اس سلسلے میں ریاستی حکومت کو آگاہ بھی کر دیا گیا تھا لیکن ریاستی حکومت نے صاف انکار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر واضح کر دیا تھا کہ اس وقت حالات موزوں نہیں ہیں اور کسی بھی اعتبار سے الیکشن سود مند ثابت نہیں ہوسکتے ہیں جس کے بعد پھر الیکشن موخر کئے گئے ہیں حالانکہ الیکشن کمیشن نے اب تک دو بار وادی میںالیکشن عمل کو موخر کر دیا ہے ،۔ اپریل اور مئی کے مہینوںمیں بھی دو بار ضمنی انتخابا ت کابگل بجایا گیا تھا جس سے معطل کر دیاگیا ۔ کیونکہ 9اپریل کو جب سرینگر نشست کےلئے ووٹنگ کی گئی تو صرف 7فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی تھی جو کہ اب تک کی سب سے کم ووٹنگ قرار دی جارہی ہے ۔ اس دوران پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کےلئے بھی حکومت نے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ہے بلکہ کہا جارہا ہے کہ حال ہی میںجب مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ بھی کشمیر آئے تھے تو اس وقت بھی یہ معاملہ زیر غور لایا گیا تھا لیکن ریاست میں تشدد آمیز واقعات اور غیر مناسب حالات کو دیکھتے ہوئے بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات پر بھی بریک لگ گئی تھی لہٰذا فی الوقت ریاستی حکومت کسی بھی طرح کے انتخابات کو منعقد نہ کروانے پر ہی بضد ہے کیونکہ حکومت کو یہ خدشہ ہے کہ اگر اس وقت انتخابات کا بگل بجایا گیا تو حالات پھر پلٹ سکتے ہیں اور فورسز کےلئے حالات کو قابو کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ حال ہی میں جموںوکشمیر ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت ، وزارت داخلہ اور الیکشن کمیشن سے ضمنی انتخاب کی تاخیر پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی جس کے بعد حکومت نے الیکشن کمیشن کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ۔