بدعنوان سیاستدانوں کے خلاف زیر التوا مقدمات عدالتِ عظمیٰ سخت مرکزی حکومت کو ممبران پارلیمنٹ،ممبران اسمبلی کے خلاف کیس جلد ازجلد حل کرنے کی ہدایت

یو این آئی
نئی دہلی//سپریم کورٹ نے بدھ کے روز سیاستدانوں کے خلاف مجرمانہ مقدمات کی سنوائی کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام اور ایسے معاملات کو جلد نپٹانے کی حمایت کی اور کہا کہ یہ قدم ”ملک کے مفاد “ میں ہو گا ۔ اپنے ایک عبوری حکم میں مرکزی حکومت سے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے خلاف زیر التوا مقدمات کو جلد حل کرنے کے لئے اقدامات کرنے کو کہا ہے ۔ کورٹ نے کہا ہے کہ اس کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتوں کی طرز پر خصوصی عدالتیں قائم کی جا سکتی ہیں۔جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ جس میں جسٹس نوین سنہا بھی شامل ہیں، نے مرکزی حکومت سے یہ بتانے کو کہا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف کتنے مقدمات زیر التواءہیں۔مرکز کو اس سلسلہ میں طریقہ کار عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سپرویم کورٹ نے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے خلاف ایسے 1581معاملات سے متعلق پوچھا جو ان سیاستدانوں نے 2014کے انتخابات کے دوران ڈکلیئر کئے تھے ۔ عدالت نے پوچھا کہ اس کی طرف سے 2014کو جاری ہدایات کے مطابق ان میں سے کتنے ایک سال کے اندر نپٹا لئے گئے ۔ عدالت نے تفصیل مانگی کہ ان میں سے کتنوں میں سزائیں ہوئیں یا بریت کی صورت میں ختم ہوئے ۔عدالت نے یہ عبوری حکم بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اشونی اپادھیائے کی جانب سے داخل عرضی پرسماعت کے بعد جاری کیا ہے ۔اس درخواست میں مجرم قراردئے گئے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی پر تاحیات پابندی لگانے کی گزارش کی گئی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ مرکز کو بتانا چاہئے کہ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف زیر التوا مقدمات کے فوری حل کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام پر کتنا خرچ آئے گا۔ عدالت نے کہا کہ ایسا فاسٹ ٹریک عدالتوں کی طرز پر کیا جا سکتا ہے ۔ایڈیشنل سالسٹر جنرل آتما رام ند کرنی نے مرکزی حکومت کی نمائندگی کر تے ہوئے عدالت عظمیٰ کے بنچ کو بتایا کہ حکومت سیاستدانوں کے خلاف مجرمانہ مقدامت کی سریع سنوائی کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام کے خلاف نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا لا کمیشن کی طرف سے مجرمانہ مقدمات مین سزا یافتہ سیاست دانوں پر تا عمر نا اہلیت کی سفارشات بھی مرکزی حکومت کے زیر غور ہیں ۔جب ند کرنی نے یہ کہا کہ بھارت سرکار کا موقف ہے کہ سیاست کو جرم سے پاک کیا جائے تو بنیچ نے جواب دیا ” کیا اور کوئی موقف بھی ہو سکتا ہے ؟“۔ مقدمہ کی اگلی سماعت 13 دسمبر کو ہوگی۔الیکشن کمیشن کی وکیل میناکشی اروڑہ نے کہا کہ مجرمانہ معاملات میں قصوروارقراردئے گئے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی پر تاحیات پابندی عائد کی جانی چاہئے ۔