غیر معلنہ کرفیو کے بیچ جامع مسجد مسلسل بند یمین یسیا رمیں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے

سرینگر//شہر سرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میں خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے خلاف مشترکہ مزاحمتی خیمے کی طرف سے نماز جمعہ کے بعد صدائے احتجاج بلند کرنے کی کال کے پیش نظر انتظامیہ نے جمعہ کو شہر خاص کے 7پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین بند شیں عائد کی تھی ۔ اسی دوران سخت ترین بندشوں کے باعث سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں مسلسل تیسرے جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا نہ ہو سکی جبکہ وادی کشمیر کے تمام تعلیمی اداروں میں دوسرے روز بھی درس و تدریس کا عمل معطل رہا ۔ ادھر بندشوں کے باوجودوادی کے کئی علاقوںمیں نماز جمعہ کے بعد چوٹیاں کاٹنے کے واقعات کے خلاف لوگوں نے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان شر انگیز کارروائیوں میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جا ئے ۔ وادی کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے پر اسرار طور خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے واقعات رونما ہونے کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت نے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں کی کال دی تھی ۔ متحدہ حریت کی کال پر احتجاجی مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر جمعہ کو پائین شہر کے 7پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین بندشوں کا نفاذ رہا ۔7تھانوں نوہٹہ، مہاراج گنج،رعناواری ،صفاکدل اور خانیار،کرالہ کھڈ اور مائسمہ میں جمعہ کی صبح سے ہی سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے باضابطہ احکامات صادر کئے گئے تھے جس کے تحت کئی علاقوں کو مکمل طور سیل کرکے تمام سڑکوں اور گلی کوچوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔لوگوں نے بتایا کہ شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں گذشتہ شب ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے گشت کا انتظام کیا گیا تھا اور حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔اہلکاروں کو اہم سڑکوں ،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا اور جگہ جگہ سخت ناکہ بندی کرکے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ سخت ترین پابندیوں کے نتیجے میں پائین شہر میں تمام تعلیمی ادارے جمعہ کو بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج ٹھپ رہا۔ سرکاری اور نجی دفاتروں میں کام کرنے والے ملازمین بھی اپنے ہی گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے ۔ اسی دوران پائین شہر میں سخت ترین کرفیو کے نفاذ کے بیچ ایک مرتبہ پھر تاریخی جامع مسجد سرینگرمیں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ نمائندے کے مطابق شہر خاص کے نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ۔تاریخی جامع مسجد کو ارد گرد فورسز کی بھاری جمعیت کو تعینات کیا گیا تاکہ لوگ جامع مسجد کی طرف نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے نہ جاسکے۔جامع مسجد کے اردگرد رہائش پذیر لوگوں نے بتایا،ہمیں جامع مسجد کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ‘۔ ایک مقامی رہائشی نے فون پر بتایا کہ ہمیں ایک دفعہ پھر مسجد کے اندر نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ادھرمشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی کے کئی علاقوں میں نماز جمعہ کے بعد لوگوں نے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے چوٹیاں کاٹنے کے واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ احتجاج مظاہرین نے مطالبہکیا کہ ایسی شر انگیز کارروائیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے ۔ ادھر وادی کشمیر کے تمام تعلیمی ادارے میں مسلسل دوسرے دن بھی درس و تدریس کا عمل متاثر رہا ۔ اس سلسلے میں صوبائی انتظامیہ نے جمعرات کی شام ہی ایک حکمنامہ جاری کیا تھا جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ جمعہ کو وادی کے تمام تدریسی ادارے بشمول یونیورسٹیاں بند رہے گی ۔خیال رہے کہ یہ اقدامات ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو ٹالنے کیلئے شہر خاص میںامتناعی احکامات نافذتھے۔معلوم ہوا ہے کہ کئی لوگوں نے جامع مسجد کی جانب جانے کی کوشش کی ،تاہم یہاں تعینات فورسزاہلکاروں نے اْنہیں مسجد کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی۔ادھر حریت(ع)کے ترجمان نے ریاستی حکمرانوںکی جانب سے ایک بار پھر مرکزی جامع مسجد سرینگر کے ارد گرد پہرے بٹھائے جانے، کرفیو لگا کر نماز جمعہ کی ادائیگی پر روک لگانے کے ساتھ ساتھ شہر خاص کے بیشتر علاقوںمیں بندشوں، قدغنوں کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کا فسطائی طرز عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ یہاں کے عوام کی سیاسی آزادی سلب کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی مذہبی آزادی کو بھی طاقت کے بل پر سلب کررہے ہیں اور مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر آے روز کی پابندی ان جارحانہ حربوں کی ایک کڑی ہے۔امام حی سید احمد سید نقشبندی نے بھی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہ دینے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اب مذہبی معاملات میں بھی مداخلت کر رہی ہے جو ناقابلہ برداشت ہے۔ انہوںنے خواتین کی چوٹیاں کاٹنے والے واقعات پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے ملوثین کو بے نقاب کرنے میںحکومت کی ناکامی پر سخت برہمی کااظہار کیا۔