ترال گرینیڈ دھماکے میں ملوث جیش جنگجوؤں کی گرفتار کا دعویٰ فوج اور جنگجووں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ،جنگجو فرار ہونے میں کامیاب

سید اعجاز
ترال//پستونہ ترال کے جنگلات میں جمعہ کے روز فوج اور جنگجووں کے درمیان گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا جس کے دوران جنگجووں فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جبکہ علاقے کے ایک اور گاوں سے پولیس نے وزیر تعمیرات کے قافلے پر گرینیڈ حملے میں مبینہ طور ملوث جنگجوکی گرفتاری کا دعو ی کیا ہے جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال کے پستونہ اور سیر جاگیر جنگلات کے درمیانی حصے کوفوج ،پولیس ،سی آر پی ایف نے علاقے میں جنگجووں کے موجود ہونے کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد جمعہ علی الصبح گھیرے میں لے کر جنگجووں کی تلاش شروع کی جس دوران علاقے میں موجود جنگجووں نے فوج پر بندوقوں کے دہانے کھول دیئے اورفرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں جائے وقوع سے کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے تاہم ذرائع کے مطابق آخری اطلاع ملنے تک تلاشی کارروائی جاری تھی۔اسی دوران پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ اونتی پورہ پولیس فوج اور سی آر پی ایف نے جمعرات کی شام مصدقہ اطلاع ملنے پر ترال کے نارستان علاقے کا محاصرہ لے کر تلاشی کارروائی شروع کی جس دوران جیش محمد سے وابستہ ایک جنگجو گلزار احمد ڈار ولد غلام نبی ڈار ساکنہ ناگہ بل ترال کو ایک چینی ساخت کے پستول میگزین اور کارتوس سمیت گرفتار کیا ہے جہاں تفتیش کے دوران مذکورہ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ اس کے چار ساتھی جو کہ غیر ملکی ہیں پستونہ فارسٹ علاقے میں ایک پناہ گاہ میں چھپے ہیں جن کی فوری تلاش کے لئے جمعہ کی صبح علاقے کو محاصرہ میں لیا گیا۔ جس دوران جنگجو گھنے جنگلات کی وجہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ پولیس کے مطابق مذکورہ جنگجو نے 21ستمبر2017 کو جیش محمد کے کمانڈر مفتی وقاص ساکن پاکستان اور نور محمد تانترے ساکن ڈار گنائی گنڈ کی ہدایت پر ترال بازار میںوزیر تعمیرات کے قافلے پرہتھ گولہ پھینکا تھا جس میں3 عام شہری جاں بحق ہوئے ہیںاور دس پولیس و فورسز اہلکار وں سمیت تیس عام شہری بھی زخمی ہوئے گلزار سال 2014ء میں بھی میں اسی جگہ کے دھماکے میں ملوث ہونے کے شعبے میں گرفتار ہونے کے بعد دو سال تک جیل میں بند رہنے کے بعدجنوری 2017 میں رہا ہوا تھا۔ادھرحاجن میں اس وقت تشدد بھڑ ک اٹھا جب جب فوج نے عسکریت پسندوں کی مصدقہ اطلاع ملنے پر گاوں کا محاصرہ کر نے کے دوران پتھرا ئو کے جواب میں فورسز نے لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے ٹائر گیس کا بے تحاشہ استعمال کیا ۔نمائندے کے مطابق راشٹریہ رائفلز کی 13ویں بٹالین اور جموں کشمیر پولیس کے خصوصی آپریشن گروپ کے اہلکاروں نے ایک خاص اطلاع ملنے پر حاجن کے وجپارہ علاقے کو محاصرے میں لیکر یہاں تلاشی کارروائی شروع کردی۔ اسی دوران مقامی نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر پرتشدد مظاہرے شروع کردیئے۔ مظاہرین نے فورسز پر پتھرائو کیا اور جواب میں فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی۔ پولیس کے مطابق فوج کو مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ عسکریت پسندوں کاگروپ اس دیہات میں چھپا بیٹھا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق جونہی فوج نے علاقے میں تلاشی کارروائی کا آغاز کیا تو لوگ گھروں سے باہر آئے اور آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جس دوران لوگوں نے فوج پر پتھر برسانے شروع کئے۔ مظا ہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹائر گیس کے گولے داغے۔ جھڑ پوں کی وجہ سے علاقہ میں ممکنہ طور چھپے بیٹھے جنگجو ئوںکو محفوظ راہداری ملی ہے جس کے نتیجے میں فورسز کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ اس دوران پولیس نے بتایاکہ تشدد کی سنگ باری کے باوجود فوج نے صبر وتحمل کامظا ہر ہ کیا ہے۔