میاں الطاف احمد کی پارلیمانی الیکشن میں پہلی قسمت آزمائی

چناوی میدان میں ناقابل ِ شکست میاں خانوادے کے چشم وچراغ

میاں الطاف احمد کی پارلیمانی الیکشن میں پہلی قسمت آزمائی

الطاف حسین جنجوعہ

جموں //میاں الطاف احمد لاروی کا تعلق جموں وکشمیر کے انتہائی بااثرروحانی وسیاسی میاں خانوادے سے ہے۔ وہ معروف صوفی بزرگ محمد عبداللہ عرف باباجی صاحب کے پڑپوتے، میاں نظام الدین لاروی ؒکے پوتے اور میاں بشیر احمد لاروی کے فرزند ہیں۔ جموں وکشمیر کے معتبر سیاسی گھرانوں میں شمارمیاں خاندان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آج تک کوئی الیکشن نہیں ہارا۔1932سے آج تک وہ سیاسی میدان میں ناقابل ِ شکست رہے ہیں۔اس خاندان کو شیخ محمد عبداللہ، میر قاسم، بخشی غلام محمد،فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کی حکومتوں کے دوران وزارت کابینہ میں کام کرنے کا موقع ملا ۔میاں الطاف احمد نے اب تک 4اسمبلی الیکشن لڑے ہیں اور چاروںمیں کامیابی حاصل کی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے لئے اُن کی یہ پہلی قسمت آزمائی ہے ۔

خاندانی پس ِ منظر

لاروی ؒخاندان جموں وکشمیر میں صوفی سلسلہ نقشبند کے پیروکاری ہیں۔ولایت کے سلسلہ نقشبندیہ،مجددیہ، لاروی سے وابستہ روحانی شخصیت میاں بشیر احمد لاروری ؒ کے ہاں بابانگری، وانگت، کنگن گاندربل میں سال 1957میں پیدا ہوئے میاںالطاف احمد کشمیر یونیورسٹی سے شعبہ قانون کی ڈگری رکھتے ہیں۔اُن کے داد میاں نظام الدین لاروی ؒگوجر جاٹ کانفرنس کے بانی صدر اور سماجی، سیاسی وروحانی شخصیت تھے۔میاں عبید اللہ المعروف باباجی لاروی ؒ ہزارہ پاکستان سے یہاں آئے تھے جنہوں نے کئی تصانیف بھی تحریر کی ہیں جن میں اسرار کبریائی اور ملفوظات نظامیہ قابلِ ذکر ہیں ۔نومبر1947میں مہاراجہ ہری سنگھ نے پرجا سبھا کو تحلیل کر کے سرنو انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ ا±س وقت جموںوکشمیر کی پرجا سبھا کی 78نشستیں ہوا کرتی تھیں جن میں سے 40پر انتخابات ہوتے تھے اور35پر ممبران نامزد کئے جاتے تھے۔ نامزد ممبران میں دانشور، برگزیدہ شخصیات، پسماندہ طبقہ جات اور اقلیتیوں پر مشتمل تھے جنہیں کسی خاص شعبہ میں اعلیٰ کارکردگی کو مد نظر رکھ کر نامزد کیاجاتا تھا۔ بابانگری دربار عالیہ کے سجادہ نشین حضر ت میاں نظام الدین کو پرجا سبھا کے لئے ا±میدوار نامزد کیاگیا۔میاں الطاف احمد کے دادامیاں نظام الدین سال 1952سے1967تک نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے رہے ۔اُن کی سیاست سے سبکدوشی کے بعد اُن کے فرزند میاں بشیر احمد لاروی اُن کے بعد سال1967سے1987تک ایم ایل اے رہے۔ سماج کے کمزور طبقہ جات کی سماجی ، تعلیمی اور سیاسی ترقی کے لئے ا±ن کے خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے 26جنوری 2008 کو سماج میں ان کی خدمات کے لئے پدم بھوشن (تیسرا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ) سے نوازا۔سال 1947, 1965, 1971کی جنگوں اور افرا تفری کے وہ نہ صرف چشم دید رہے بلکہ اِ س دوران لوگوں کی بازآبادکاری میں ا±ن کا نمایاں رول رہا۔ تقسیم ہند سے پہلے1932میں میاں کی ہی کاو¿شوں سے جموں وکشمیر میں پہلی گجر جاٹ کانفرنس تشکیل دی گئی۔بشیر احمد لاروی کو یہ اعزا زبھی حاصل ہے کہ انہوں نے مسئلہ جموں وکشمیر کو اقوام متحدہ میں اُٹھانے کا موقع ملا۔ میاں الطاف احمد کے والد میاں بشیر بحیثیت گوجر لیڈر منفرد مقام رکھتے تھے۔وہ 1997تک سیاست میں سرگرم رہے اور 4بار 1967 ، 1972 ،1977 اور1983میں جموں و کشمیر کی ریاستی قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہو ئے تھے۔ وہ شیخ محمد عبداللہ ، سید میر قاسم اور بخشی غلام محمدکے قریبی ساتھی تھے اور تینوں کی کابینہ میں وزیر بھی رہے۔

 سیاسی سفر

1996میں میاں الطاف احمد نے عملی سیاسی میدان میں قدم رکھا ۔1996سے2002تک سماجی بہبود ، صحت وطبی تعلیم اور تعلیم کے وزیر مملکت رہے ۔2002انتخابات بھی اسمبلی انتخابات جیتے تاہم اپوزیشن میں رہے۔ سال2008میں جیتنے کے بعد وہ جنگلات وماحولیات کے کابینہ وزیر رہے۔2014کے الیکشن میں بھی جیت درج کی۔ میاں الطاف احمد پہلی مرتبہ اننت ناگ۔ راجوری پارلیمانی حلقہ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ گجر طبقہ میں وہ ایک مقبول شخصیت ہیں۔راجوری پونچھ اضلاع کے اندر وہ سبھی طبقہ جات میں معتبر ہیں کیونکہ اِس خطہ سے اِن کاروحانی ،سیاسی، سماجی وخاندانی رشتہ ہے۔ اُن کے والد میاں بشیر احمد نے 1983کو ضلع راجوری کے درہال حلقہ سے اسمبلی الیکشن بھی جیتے تھے۔اُن کی دو بہنوں کی شادی سرنکوٹ پونچھ میں ہو ئی ہے۔ سابقہ ایم ایل اے سرنکوٹ چودھری محمد اسلم کی اہلیہ میاں بشیر احمد لاروی ؒکی ہمشیرہ ہیں اور میاں بشیر احمد کی اہلیہ چودھری محمد اسلم کی بہن ہیں۔ راجوری اور مینڈھر میں بھی اِن کی رشتہ داریاں ہیں۔سال2017میں میاں بشیر احمد لاروی نے میاں الطاف احمد کو اپنا جانشین مقرر کیاتھا اور اِس وقت موصوف ہی بابانگری ، وانگت لارشریف کنگن کے گدی نشین بھی ہیں۔

اثاثہ جات 

انتخابی حلف نامے میںمیاں الطاف احمد نے اعلان کیا ہے کہ مالی سال 2018-19میں اُن کی ان کی قابل ٹیکس آمدنی 9,18,140 روپے سے 2 لاکھ کم ہو کر مالی سال 2019-20میں صرف 7,54,267 روپے رہ گئی ۔مالی سال 2020-21میں اُن کی آمدنی بڑھ کر 10,70,460 روپے ہو گئی۔ مالی سال 2021-22میں 12,00,210 روپے اور مالی سال 2022-23میں 21,91,000 روپے ہے۔بیان حلفی کے مطابق اُن کے پاس 38 لاکھ روپے کے منقولہ اثاثے اور 16 لاکھ روپے کے غیر منقولہ اثاثے اور دو رہائشی مکانات ہیں۔ انہوں نے 7.24 کروڑ روپے کے اپنے خود ساختہ اثاثے اور 10 کروڑ روپے کے آبائی اثاثے ظاہر کئے ہیں۔