محبوبہ مفتی: تیسری مرتبہ ایوان پارلیمان جانے کیلئے میدان میں

جموں وکشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ
تیسری مرتبہ ایوان پارلیمان جانے کیلئے میدان میں

الطاف حسین جنجوعہ

جموں//محبوبہ مفتی ہندوستان کے واحد مسلم وزیر داخلہ رہے مرحوم مفتی محمد سعید کی دختر ہیں۔اُن کے والد دو مرتبہ جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔محبوبہ مفتی سابقہ ریاست جموں وکشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بھی رہی ہیں۔ اس سے قبل وہ دو مرتبہ رکن پارلیمان اور تین مرتبہ رکن قانون ساز اسمبلی رہ چکی ہیں۔ اب تک 4مرتبہ انہوں نے پارلیمنٹ کے الیکشن لڑے جن میں دو مرتبہ کامیابی ملی۔تین اسمبلی الیکشن لڑے اور تینوں میں فاتح رہیں۔
سفر حیات وخانوادہ
محبوبہ مفتی 22مئی1959کو اکھران نوپورہ اننت ناگ میں مفتی محمد سعید کے ہاں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والدکا شمار ہندوستان کے انتہائی معتبر سیاستدانوں میں ہوتا تھا۔ مفتی محمد سعید نے 1950میں نیشنل کانفرنس سے ٹوٹ کر بنی ڈیموکریٹک نیشنل کانفرنس جس کی سربراہی غلام محمدصادق کر رہے تھے، سے اپنے سیاسی سفرآغاز کیاتھاجس میں مفتی سعید کوپارٹی ضلع کنوئنر بنایاگیاجوکہ 1960میں پھر نیشنل کانفرنس میں ضم ہوگئی۔ 1962میں مفتی محمد سعید بجبہاڑہ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے اور1964کو جی ایم صادق کی کابینہ میں وزیر مملکت بنائے گئے۔ جنوری1965کونیشنل کانفرنس کا انڈین نیشنل کانگریس میں انضمام ہوا تو مفتی سعید کانگریس رکن بن گئے۔ 1972کو مفتی سید کابینہ وزیر بنے اور جموں وکشمیر پردیش کانگریس اکائی کے صدر ۔1986کو وہ راجیو گاندھی کی مرکزی سرکار میں وزیر سیاحت رہے۔1985میں وہ ضلع جموں کے آر ایس پورہ اسمبلی حلقہ سے کانگریس کی ٹکٹ پر ایم ایل اے منتخب ہوئے۔1987کو کانگریس چھوڑ کر وی بی سنگھ کی قیادت والی جن مورچہ میں شامل ہوئے اور 1989-1990کو ایک سال کے لئے اُنہیں ہندوستان کاپہلا مسلم وزیر داخلہ بننے کا موقع ملا۔ بعد ازاں پھر وی پی نرسمہا راو¿ کی قیادت میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی جس کو سال1999کو چھوڑ کر اپنی سیاسی جماعت ’جموں وکشمیرپیپلزڈیموکریٹک پارٹی ‘بنائی۔مفتی محمد سعید 2002سے2005تک 18اسمبلی نشستیں جیت کرکانگریس کے تعاون سے جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ رہے۔ اس دوران خود مختیار اسپیشل آپریشن گروپ(ایس او جی)کو جموں وکشمیر پولیس میں ضم کیا۔ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں امن عمل کو آگے بڑھایا۔ حدمتارکہ پر فائربندی معاہدہ ہوا اور آرپاربس سروس بھی شروع ہوئی۔سال2014میں مفتی محمد سعید کی قیاد ت والی پارٹی جموں وکشمیر میں واحد بڑی سیاسی جماعت کے طور اُبھری البتہ حکومت سازی کے لئے اعدادوشمار نہ تھے، چونکہ جموں سے زیادہ نشستیں بی جے پی کو حاصل ہوئی تھیں، اس لئے انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا اور2015سے 2016جنوری تک وہ دوسری مرتبہ جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ رہے۔
سیاسی میدان میں
انگریزی لٹریچر میں زنانہ کالج جموں سے گریجویشن کی ڈگری اور1982 میں کشمیر یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1989کومحبوبہ مفتی نئی دہلی منتقل ہوئیں اور ممبئی مرکنٹائل بینک جوائن کیا ۔بعد ازاں ایسٹ ویسٹ ائرلائنز کے ساتھ بھی کام کیا۔ 1989کے بعد طویل عرصہ تک صدر راج نافذ رہنے کے بعد سال1996میں جب ریاست جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات ہوئے تو محبوبہ مفتی نے بجبہاڑہ سے کانگریس نشست پر قسمت آزمائی کی اور وہاں سے جیت بھی درج کی ۔ وہ اسمبلی میں حزب ِ ختلاف لیڈر رہیں۔ سال 1999کو اسمبلی نشست سے مستعفی ہوکر سرینگر سے نیشنل کانفرنس اُمیدوارعمر عبداللہ کے مدقابل پارلیمانی انتخابات لڑے لیکن کامیابی نہ ملی۔ سال2002کو اسمبلی حلقہ پہلگام سے رفیع احمد میر کو ہراکر انتخابات جیتے ۔ سال2004اور2014کو وہ اننت ناگ حلقوں سے رکن پارلیمان منتخب ہوئیں۔ انہوں نے 2014کو مرزا محبوب بیگ کو شکست دی تھی۔
2004کے انتخابات میں محبوبہ مفتی نے 74,436ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ اُن کے حریف نیشنل کانفرنس اُمیدوار مرزا محبوب بیگ کو 35,498ووٹ ملے۔2014میں انہوں نے 2,00,429ووٹ حاصل کئے جبکہ این سی اُمیدوار مرزا محبوب بیگ کو 1,35,012ووٹ ملے۔2019کے الیکشن میں محبوبہ مفتی 30,524ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہی جبکہ حسنین مسعودی 40,180ووٹ لیکر فاتح رہے اور کانگریس کے غلام احمدمیر33,504ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ۔جنوری2016کو والد مفتی محمد سعیدکی وفات کے بعد انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی۔ چار اپریل 2016کو وہ جموں وکشمیر کی پہلی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئیں۔25جون2016کو اننت ناگ سے ضمنی انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیت درج کی۔ 19جون2018کو بی جے پی کی حمایت واپس لینے کے بعد وزیر اعلیٰ کی کرسی سے مستعفی ہونا پڑا۔ 2019میں انہوں نے پھر اننت ناگ سے اسمبلی انتخابات لڑے مگر نیشنل کانفرنس کے حسنین مسعودی کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
اثاثہ جات
الیکشن کمیشن کے پاس جمع حلف نامے میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنی مالی حالت کا جوانکشاف کیا ہے۔2019 میں انہوں نے کل 89.03 لاکھ روپے کے اثاثوں کا اعلان کیا تھا جبکہ اپنے موجودہ حلف نامے میں انہوںنے 75.69 لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کئے ہیں۔ یہ اس مدت کے دوران اس کے اثاثوں میں تقریباً 13.34 لاکھ روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔مالی سال 2018-19 میں اُن کی کل آمدنی 8.63 لاکھ روپے تھی، جو اگلے مالی سال میں کم ہو کر 84.75 ہزار روپے رہ گئی۔ 2020-21میں اُن کی آمدن بڑھ کر 19.98 لاکھ روپے ہوگئی۔ اس کے بعد 2021-22میں 12.44 لاکھ روپے اور 2022-23میں مزید کم ہوکر 9.85 لاکھ روپے ہوگئی۔حلف نامے کے مطابق محبوبہ مفتی کے پاس نقد 45 ہزار روپے ہیں،تین بینک کھاتوں میں 23.74 لاکھ روپے جمع ہیں۔ 11.94 لاکھ روپے کی انشورنس پالیسی ہے۔منقولہ جائیداد میں ایک SNK ISUZU گاڑی شامل ہے جس کی قیمت 5 لاکھ روپے ہے۔غیر منقولہ اثاثہ جات میں محبوبہ مفتی کے پاس اننت ناگ ضلع کے بجبہاڑہ میں ایک رہائشی مکان ہے جس کی موجودہ مارکیٹ قیمت 35 لاکھ روپے ہے۔ اُن کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کو ملا کر سابق وزیر اعلیٰ کی کل جائیداد 75.69 لاکھ روپے بنتی ہے۔مفتی کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ، ان کے حلف نامے کے مطابق، تنخواہ/پنشن ہے۔