جموں و کشمیر کو سیاسی اور اقتصادی غلامی کی طرف دھکیلا جارہاہے

اُڑان نیوز
کپواڑہ//ضلع کپوارہ میں مسلسل چھٹے روز اپنی انتخابی مہم جاری رکھتے ہوئے کانفرنس نائب صدر اور شمالی کشمیر بارہمولہ پارلیمانی نشست کیلئے پارٹی اُمیدوار عمر عبداللہ نے آج ضلع کے سرحدی علاقے کیرن کا دورہ کیا اور وہاں کئی چنائوی پروگراموں میں شرکت کی۔ اُن کے ہمراہ پارٹی ٹریجرر شمی اوبرائے، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی ، میر سیف اللہ، دین محمد چیتا اور شاہ رُخ ناصر خان، ڈی ڈی سی ثناء اللہ خان اور دیگر لیڈران بھی تھے۔ اس سے قبل انہوں نے ترہیگام کپوارہ میں ایک عظیم الشان عوامی اجتماع سے خطاب کیا جس کا انعقاد انچارج کانسچونسی ایڈوکیٹ میر سیف اللہ نے کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے اپنے خطابات میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں بھی حکمرانوں کی طرف سے فرقہ پرستی کی باتیں ہورہی ہیں، لوگوں کو لڑوانے کیلئے اُکسایا جارہاہے، ایسی تقریری سُن کر افسوس ہوتا ہے، کہا جارہاہے کہ ہندو خطرے میں ہیں،ایسی تقریروں کا مقصد مذاہب کے بیچ میں تنائو اور جھگڑا پیدا کرنا ہے۔ بھلا14فیصد مسلمانوں کی آبادی سے 80فیصد ہندئوں کی آباد کو کون سا خاطرہ لاحق ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس انہی فرقہ پرست طاقتوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں کیخلاف لڑ رہی ہے اور جو ہمارے خلاف میدان میںہیں وہ براہ راست بی جے پی کی مدد کررہے ہیں اور عوام کو موجودہ انتخابات میں غور و فکر اور سوچ سمجھ کر اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے یہاں نیشنل کانفرنس کو ہرانے کیلئے نہ صرف اپنے تمام آلہ کاروں کا گٹھ یقینی بنایا بلکہ کئی مقامات پر نیشنل کانفرنس کے ووٹ کاٹنے کیلئے بھی اُمیدوار بھی کھڑے ہیں ۔ مختلف طریقہ کار اپناکر ہمارے ورکروں پر دبائو ڈالا جارہاہے لیکن عوام کو ان تمام سازشوں کا ووٹنگ کے دن جواب دینا ہوگا اور ہر اُس حربے کو ناکام بنانا ہوگا ، جس کا مقصد یہاں کے عوام کی آواز کو تقسیم اور بھاجپا کے تابع کرناہو۔ عمر عبداللہ نے عوام کو خبردار کیا کہ 20تاریخ کا ووٹ کسی اُمیدوار یا کسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ پوری قوم اور آنے والی نسلوں کیلئے ہے کیونکہ ہمیں اُسی اقتصادی اور سیاسی غلامی کی طرف لے جایا جارہاہے جس سے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے اس قوم کو آزادی دلائی تھی۔ اگر ہمیں اس غلامی سے بچنا ہے تو ہر کسی کو ذاتی طور پو کوشش کرنی ہوگی ، اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہوگا تاکہ ہم آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر کل کی داغ بیل ڈال سکیں۔