کسان کی ناراضگی ٹھیک نہیں

کسانوںنے اندولن کا راستہ اس وقت اپنا یا جب ان سے کیا گیا قرار سرکار پورا کرنے میںناکام رہی ،وہ اپنی بات سرکار تک پہنچانے کے لئے دہلی کوچ کرنا چاہر رہے تھے مگر ان کو پنجا ب ہریانہ و یوپی کے بارڈر پر روک دیا گیا ،ان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کر دیا گیا مگر چار دور کی بات چیت سرے نہ چڑھنے کے بعد ایک بار پھر بارڈر پر تنائو بنا ہوا ہے ،کیونکہ کسان کی مانگ ہے کہ اسے فصل پر ایم ایس پی چاہئے ،جبکہ چوتھے دور کی بات چیت کے دوران مرکزی سرکار نے کچھ فصلوںپر ایم ایس پی دینے کا پرستائو رکھا تھا لیکن کسان ہر فصل پر ایم ایس پی کی مانگ کر رہا ہے ۔سرکار اس میںناکام کیوںہے جبکہ اسی سرکار کے مکھیہ شری نریندر مودی نے گجرات کے وزیر اعلی کے ہوتے ایم ایس پی کی مانگ کو جائز قرار دیا تھا ۔کوئی اگر یہ کہے کہ کسان شوقیہ اندولن کر رہا ہے تو یہ زیادتی ہو گی کیونکہ دو سال قبل کسان اندولن کے دوران کسان کو فصل پر ایم ایس پی دینے کا قرار کیا گیا تھا ،اس کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی مگر اس کمیٹی کی کئی میٹنگیںہونے کے بعد کچھ حاصل نہ ہوا ،اسی سرکار نے کسان کی آمدن دوگنی کرنے کا ہدف 2022مقرر کیا تھا جبکہ آج 2024ہے ۔اس وقت کسان کی آمدنی دنیا بھر مٰیںبھارت میںسب سے کم ہے ۔پھر ابھی مرکزی سرکار نے سوامی ناتھن کو بھارت رتن ایوار ڈ دینے کا اعلان کیا ہے اسی سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ کو سرکار لاگو کرنے میںناکام ہے تو کم از کم جس شخصیت کو ان کے قابل سراہنے کام کیلئے بھارت رتن ایوارڈ دینے کا اعلان کیا جا تا ہے ،ان کی ہی رپور ٹ کو اگر لاگو نہیںکیا جا تا ہے تو پھر اس اعزا ز کا کیا مطلب رہ جا تا ہے ۔کسان کا حال بے حال ہے ،اگر چہ سرکار نے کسانوںکو تین ماہ میںدوہزار روپیہ دینے کا سسٹم متعارف کروایا ہے مگر ایسے کسانوںکی تعداد بھی بدستور کم ہو تی جا رہی ہے ،اور کسان کی لاگت میںکئی گنا اضافہ ہوا ہے ،کسا ن جو کھاد استعمال کرتا ہے اس کی قیمت میںکئی گنا اضافہ کے ساتھ وزن کم کر دیا گیا ہے ،جبکہ ڈیزل کے دام کہاں ہیں،جبکہ دوسرے آلات کی قیمتوںمیںبھی بڑھوتری ہو ئی ہے ،اس لئے دوہزار سہ ماہی اونٹ کے منہ میںزیرے کے برابر ہے ،جموںو کشمیر کے کسان کی بات کی جائے تواس کا حال بھی بہت برا ہے ۔وہ خون پسینہ ایک کر کے فصل اگاتا ہے لیکن جب فصل بیچنے کے لئے جاتا ہے تو اس کو دام نہیںملتا ہے ،اس کی فصل میںکئی نقص نکال کر اسے دو نمبر یا تین نمبر کی فصل قرار دیا جاتا ہے کیونکہ ساہو کار کو معلوم ہے کہ کسان کہاںجا ئے گا اس نے ہمارے پاس ہی آنا ہے ۔کچھ ایسا ہی حال سبزی اگانے والوںکا ہے ،مارکیٹ میں سبزی کے جو دام ہوتے ہیںاس کا ایک چوتھائی بھی سبزی اگانے والے کو نہ ملتا ہے ،کبھی کبھار تو منڈی تک پہنچانے کا بھاڑہ بھی اسے نہیںملتا ہے ،کسان اور سبزی اگانے والوںکی محنت رائیگاںجا رہی ہے اور کمائی کون کر رہا ہے ،وچولئے کمائی میںآگے آگے ہیں،ان کے ہمیشہ وارے نیارے ہو تے ہیں،وہ بیٹھے بیٹھے کمائی کمر رہے ہیں،آج کسان اور سرکار کے درمیان جو پانچویںدور کی بات چیت پر سہمتی بنی ہے ،اس کا فائدہ اٹھانا چاہئے ،کیونکہ سرکار کو ایک بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ کسان خالی ہاتھ گھر جانے والا نہیںہے ۔اس کا مظاہرہ اس نے پہلے بھی کیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔