ہنگامہ کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کو خود کا جائزہ لینا چاہئے: وزیراعظم مودی

SYDNEY, AUSTRALIA - MAY 24: Indian Prime Minister Narendra Modi speaks at a joint news conference with Australian Prime Minister Anthony Albanese (R) at Admiralty House on May 24, 2023 in Sydney, Australia. Modi is visiting Australia on the heels of his and Albanese's participation in the G7 summit in Japan. (Photo by Saeed Khan-Pool/Getty Images)

نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ایوانوں میں ہنگامہ کر کے جمہوریت کو ‘تباہ’ کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کو اپنے رویے کا خود جائزہ لینا چاہیے بجٹ اجلاس کے آغاز سے پہلے مسٹرمودی نے پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ پارلیمنٹ کی اس نئی عمارت میں منعقدہ پہلے اجلاس کے اختتام پر اس پارلیمنٹ نے ایک بہت ہی باوقار فیصلہ لیا تھا اور وہ فیصلہ تھا – ناری شکتی وندن ایکٹ اور اس کے بعد 26 جنوری کو بھی ہم نے دیکھا کہ ملک نے کس طرح خواتین کی طاقت کی استطاعت، خواتین کی طاقت کیشوریہ کو اور خواتین کی طاقت کے سنکلپ کا تجربہ کیا۔ آج بجٹ اجلاس شروع ہو رہا ہے، تب صدر جمہوریہ دروپدی مرمو جی کی رہنمائی اور کل نرملا سیتا رمن جی کا عبوری بجٹ ایک طرح سے یہ نار ی شکتی کیساکشات کار کا تہوار ہے۔مسٹر مودی نے کہا، ’’میں امید کرتا ہوں کہ پچھلے 10 برسوں میں جس کو جو راستہ نظرآیا اس طرح سے پارلیمنٹ میں سب نے اپنا کام کیا۔ لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ جن کی عادتاً ہنگامہ کرنے کی فطرت بن گئی ہے ، جو عادتاً جمہوری اقدارکو تار تار کرتے ہیں، ایسے سبھی باعزت ارکان پارلیمنٹ آج جب آخری اجلاس میں مل رہے ہیں، تب ضرور خود احتسابی کریں گے کہ دس سال میں انہوں نے جو کیا، اپنے پارلیمانی حلقے میں بھی 100 لوگوں سے پوچھ لیں، کسی کو یاد نہیں ہوگا، کسی کو نام بھی پتہ نہیں ہوگا، جنہوں نے اتنا ہنگامہ شور شرابا کیا ہوگا۔ لیکن احتجاج کی آواز کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو، تنقید شدید سے شدید کیوں نہ ہو، لیکن جس نے ایوان میں اعلی خیالات سے ایوان کو فائدہ پہنچایا ہوگا، ان کو بہت بڑا طبقہ آج بھی یاد کرتا ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’آنے والے دنوں میں بھی جب ایوان کی بحث کوئی دیکھے گا تو ان کا ایک ایک لفظ تاریخ بن کر اجاگر ہوگا۔ اس لئے جنہوں نے چاہے اختلاف کیا ہوگا، لیکن عقلی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہوگا، ملک کے عام آدمی کے مفادات کی فکرکا مظاہرہ کیا ہوگا، ہمارے خلاف سخت سے سخت ردعمل ظاہر کیا ہوگا، اس کے باوجود بھی میں ضرور مانتا ہوں کہ ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ، جمہوریت پسند، سبھی لوگ اس برتاؤ کی تعریف کرتے ہوں گے۔ لیکن جنہو ں نے صرف اور صرف منفی، ہنگامہ، شرارت پر مبنی برتاؤکیا ہوگا، ان کو شاید ہی کوئی یاد کرے۔وزیراعظم نے کہا کہ لیکن اب یہ بجٹ اجلاس کا موقع ہے، پچھتاوے کا بھی موقع ہے، کچھ اچھے نقش چھوڑنے کا بھی موقع ہے تو میں ایسے تمام باعزت اراکین پارلیمنٹ سے درخواست کروں گا کہ آپ اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ بہترین سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ ملک کے مفاد میں اپنے بہترین خیالات کا فائدہ ایوان کو پہنچائیں اور ملک کو بھی جوش و خروش اور امنگ سے بھر دیں۔ مجھے یقین ہے، آپ توجانتے ہیں کہ جب انتخابات کا وقت قریب ہوتا ہے تو عموماً پورا بجٹ نہیں پیش کیا جاتا، ہم بھی اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے نئی حکومت کے قیام کے بعد پورا بجٹ آپ کے سامنے پیش کریں گے۔ اس بارایک رہنما نکات کے ساتھ ملک کی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن ہم سب کے سامنے کل اپنا بجٹ پیش کرنے والی ہیں۔مسٹر مودی نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ ملک ترقی کی نئی بلندیوں کو عبور کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ ہمہ جہت ترقی، شمولیت پر مبنی ترقی ہورہی ہے، یہ سفر عوام کے آشیرواد سے مسلسل جاری رہے گا۔ اس یقین کے ساتھ پھر آپ سب کو میرا رام رام۔