راجوری واقعہ: تھنہ منڈی بفلیاز کے جنگل علاقے میں پانچویں روز بھی آپریشن جاری

At least one policeman has lost his life in an encounter with militants, believed to be fidayeen, in a camp close to the District Police Lines in Jammu and Kashmir. Efforts are on to neutralize them. Express Photo By Shuaib Masoodi 26-08-2017

جموں// جموں وکشمیر کے ضلع راجوری کے تھنہ منڈی بفلیاز کے جنگلی علاقے میں پیر کو مسلسل پانچویں روز وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری رہا۔بتادیں کہ بفلیاز تھنہ منڈی میں جمعرات کی سہ پہر ملی ٹینٹوں نے فوجی گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں چار فوجی از جان جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے تھے۔ذرائع کے مطابق تصادم کی جگہ کے نزدیک تین مقامی شہریوں کی لاشیں پر اسرارحالت میں برآمد کی گئیں۔اطلاعات کے مطابق فوج نے ملی ٹینٹوں کو تلاش کرنے کی خاطر ہیلی کاپٹروں کی خدمات حاصل کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے مزید کئی جنگلی علاقوں کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ وہاں چھپے دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لئے فضائی نگرانی کی جا رہی ہے اور سراغ رساں کتوں کو بھی کام پر لگایا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ جموں وکشمیر پولیس اور فوج کے سینئر آفیسران آپریشن کی از خود نگرانی کر رہے ہیں۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ بفلیاز راجوری میں تلاشی آپریشن کا دائرہ مزید کئی جنگلی علاقوں تک وسیع کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا: دہشت گردجنگلی علاقے میں بھی ہی موجود ہو سکتے ہیں جس کے پیش نظر فوج کی اضافی کمک کو طلب کیا گیا تاکہ حملہ آوروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے’۔دفاعی ذرائع نے مزید بتایا کہ لوگوں سے تلقین کی گئی ہے کہ وہ فی الحال جنگلی علاقوں کی اور جانے سے گریز کیا کریں کیونکہ وہاں پر سیکورٹی فورسز نے جگہ جگہ پر ناکے لگائے ہیں۔دریں اثنا فوج کے سربراہ جنرل منوج پانڈے آج یعنی پیر کو جموں پہنچ رہے ہیں جہاں وہ راجوری اور پونچھ میں پیش آنے والے حالیہ ملی ٹنٹ حملوں اور دیگر امور کے متعلق فوجی افسروں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔موصوف فوجی سربراہ کا یہ دورہ انتہائی اہم مانا جاتا ہے۔ادھر اس حملے کے بعد پونچھ ضلع میں سیکورٹی کے کڑی انتطامات کئے گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ضلع کی بعض سڑکوں پر ناکے لگا دئے گئے ہیں جہاں لوگوں کی جامہ تلاشی کے علاوہ کارڈ چیکنگ کی جاتی ہے اور ان کے موبائل بھی چیک کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان ناکوں پر گاڑیوں کی بھی تلاشی کی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تاریخی مغل روڈ پر بھی کئی ناکے لگا دئے گئے ہیں جہاں آنے جانی والی گاڑیوں کی تلاشی کی جاتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تین عام شہریوں کے ہلاکت کے سلسلے میں پولیس اسٹیئن سرنکوٹ میں ایک ایف آئی آر زیر نمبر 384 درج کیا گیا اور تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔فوج نے تحقیقات میں بھر پور تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بفلیاز میں فوجی یونٹ میں تعینات بریگیڈیر سمیت کئی اہلکاروں کو اٹیچ کیا گیا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق حکام نے راجوری اور پونچھ میں بنا بر احتیاط انٹرنیٹ خدمات کو معطل ہیں۔یو این آئی