پونچھ ہلاکتیں:حکومت نے قانونی کارروائیاں شروع کیں،لواحقین کو معاوضہ اور نوکریاں دینے کا کیا اعلان:سرکاری ترجمان

سری نگر//جموں و کشمیر حکومت نے پونچھ میں تین افراد کی پر اسرار طور پر موت واقع ہونے کے متعلق قانونی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے متوفین کے اہلخانہ کے حق میں معاوضہ اور نوکریاں دینے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاشوں کی طبی و قانونی لوازمات کی ادائیگی کے بعد قانونی کارروائیاں شروع کی گئیں ہیں۔ذرائع کے مطابق بفلیاز علاقے میں جمعہ کے روز تین افراد کو پر اسرار حالت میں مردہ پایا گیا جہاں جمعرات کو ملی ٹینٹوں کے گھات لگا کر حملے میں چار فوجی جوان جاں بحق جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے تھے۔متوفین کی شناخت محمد سفیر، ریاض حسین اور شوکت حسین کے بطور کی گئی ہے۔تاہم فوج اور پولیس نے ان پر اسرار اموات کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ جموں وکشمیر (ڈی پی آئی آر) نے سماجی رابطہ گاہ ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ کے ذریعے جانکاری فراہم کرتے ہوئے کہا: ‘پونچھ کے ضلع بفلیاز میں تین شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی اس سلسلے میں طبی و قانونی لوازمات ادا کی گئیں اور متعلقہ مجاز اتھارٹی کی طرف سے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی’۔پوسٹ میں مزید کہا گیا: ‘حکومت نے متاثرین کے لئے معاوضے کا اعلان کیا اور لواحقین کو نوکریاں فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا’۔دریں اثنا جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے پونچھ بفلیاز علاقے میں جمعرات کی سہہ پہر کو فوج کی دو گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ کرنے کی جگہ کے نزدیک تین افراد کی پر اسرار موت کے بارے میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے اس ضمن میں فوری طور تحقیقات کرانے کے لئے حکم صادر کرنے کی اپیل کی تاکہ حقائق کو سامنے لایا جا سکے۔سید محمد الطاف بخاری نے ہفتے کے روز سماجی رابطہ گاہ ‘ایکس’ پر ایک طویل پوسٹ میں کہا: ‘میں سرنکوٹ پونچھ (ڈی کے جی) میں سیکورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے کی بلا دریغ مذمت کرتا ہوں جس میں ہمارے پانچ فوجی جوانوں کی موت واقع ہوئی جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے جو زیر علاج ہیں لیکن جائے انکائونٹر کے نزدیک چار افراد کی پر اسرار طور موت واقع ہونے کی پریشان کن خبروں سے مجھے کافی صدمہ پہنچا’۔انہوں نے کہا: ‘میں ان بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتا ہوں اور وزیر داخلہ امیت شاہ جی سے درخواست گذار ہوں کہ وہ فوری طور پر تحقیقات کا حکم صادر کریں تاکہ حقائق کو سامنے لا کران ہلاکتوں کے راز سے پردہ اٹھایا جا سکے اور ملوثین خواہ وہ پولیس ہو یا فوج، کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے’۔مسٹر بخاری نے اس پوسٹ میں مزید کہا: ‘مجھے مقامی لوگوں کی وائرل ہونے والی ان تصاویر کو دیکھ کر شرم محسوس ہو رہی ہے جن میں شہریوں کو بے رحمی سے پیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘بدقمستی سے جموں وکشمیر میں ایک بار پھر لوگوں کو سیکورٹی فورسز کے لئے ایک آسان نشانہ بنایا جا رہا ہے اور میں محسوس کر رہا ہوں کہ ہم نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا ہے اس طرح کے واقعات کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے’۔