حسنین مسعودی نے لوک سبھا میں کئی معاملات اْجاگر کئے

سری نگر//جموں وکشمیر کے رکن پارلیمان برائے جنوبی کشمیر جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران مرکزی وزیر برائے شہری ہوابازی سے کہا کہ ماضی میں سرینگر سے شارجہ براہ راست پروازیں جایا کرتی تھیں لیکن بدقسمتی سے اس سروس کو بند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرینگر سے شارجہ کے ساتھ ساتھ اْن دیگر مقامات پر براہ راست ہوائی سروس بحال کی جائے جہاں مسلمانوں کے مقدس اور بابرکت مقامات واقع ہیں۔ اس کے علاوہ مسعودی نے مطالبہ کیا کہ وادی اور جموں کے اْن علاقوں میں ماضی کی طرح ہیلی کاپٹر سروس شروع کی جائے جو موسم سرما کے دوران برفباری کی وجہ کٹ کر جاتے ہیں۔ایوان میں موجود وزیر موصوف نے یقین دہانی کرائی کہ دونوں معاملات کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔حسنین مسعودی نے لوک سبھا میں زور دے کر کہا کہ طویل صدارتی راج اور منتخب حکومت کی عدم موجودگی کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں گورننس بہت بہت زیادہ متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔مسعودی نے کہا کہ افسر شاہی کے منفی اثرات صحت اور خاندانی بہبود جیسے سرکاری محکموں میں عملے کی شدید کمی سے ظاہر ہوتے ہیں۔انہوں نے جیالوجی اینڈ ماینگ محکمے میں افرادی قوت کے بحران کا سوال بھی اْٹھایا۔ایوان موجودہ کانوں کے وزیر پرہلاد جوشی نے اپنے جواب میں خالی آسامیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے اعتراف کیا کہ محکمے میں مختلف زمروں میں 50 فیصد سے زیادہ آسامیاں خالی ہیں اور ان آسامیوں کو پْر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مسعودی نے نشاندہی کی کہ افرادی قوت کا بحران غیر قانونی کان کنی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور الاٹیوں کی طرف سے مائننگ لیز میں غیر مجاز اور یکطرفہ اضافہ یا توسیع، جیسا کہ کھریو-کھنموہ کے علاقے اور دریائے جہلم میں ریت کی کان کنی میں رپورٹ کیا گیا ہے۔انہوں نے وزیر سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ الاٹ شدہ کی صحیح حد بندی کی جائے۔مسعودی نے یہ بھی شکایت کی کہ جموں وکشمیر انتظامیہ معدنی ترقی کے فنڈ کے انتظام کے لئے گورننگ کونسل تشکیل دینے میں ناکام رہی ہے اورفنڈ میں سے بڑی رقم قانونی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور حکومتی ہدایات کی پرواہ کئے بغیر غیر مجاز طریقے سے خرچ کی گئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ گورننگ کونسل بنایا جائے اور فنڈ کا انتظام کیا جائے۔مسعودی نے محکمہ میں کام کرنے والے ڈیلی ریٹیڈ ورکرز کو مستقل کرنے اور جے کے سی ایل کے 51 ڈیلی ریٹیڈ ورکرز کو محکمہ میں پہلے سے تعینات دیگر جے کے سی ایل ورکرز کی طرح تعینات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔یو این آئی