عدالت عظمیٰ نے خصوصی درجے کی تنسیخ کا فیصلہ درست قرار دیا

دفعہ 370ایک عارضی التزام تھا
منسوخی فیصلے پر عدالت عظمیٰ کی مہرثبت
الیکشن کمیشن کو30ستمبر2024سے قبل انتخابات کرانے کی ہدایت، جتنا جلدی ممکن ہوسکے ریاستی درجہ بحال کریں
جموں وکشمیر کے لئے کوئی داخلی خود مختاری نہیں،80کی دہائی کے بعد سے ہوئی انسانی حقوق خلاف ورزیوںکی تحقیقات کیلئے کمیشن کے قیام کی سفارش
الطاف حسین جنجوعہ
جموں// عدالت عظمیٰ نے 5اگست 2019کو مرکزی سرکار کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ پچھلے چار سالوں سے خصوصی درجے کی بحالی کی قیاس آرائیوں پر بھی مکمل بریک لگ گئی ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چند ر چوڑ کی سربراہی والے پانچ رکنی آئینی بنچ نے دفعہ35-Aاور370سے متعلق دائر 22عرضیوں پر مشترکہ فیصلہ سنایا۔ 476صفحات پر مشتمل فیصلے میں چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت نے جموں وکشمیر تنظیم نو قانون کو آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 خصوصی حالات کے لیے ایک عارضی التزام تھا اور صدرجمہوریہ کی طرف سے اسے تسلیم کرنے کی قواعد تھی۔اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ جموں و کشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک انتخابات کرانے کے لیے اقدامات کرے۔بنچ نے 7نکات مرتب کئے تھے اور اُنہیں پر بحث وتمحیص کے بعد الگ الگ ہر نکتے پر اپنا موقف پیش کیا۔چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ نے کہاکہ آئین کا دفعہ370ایک عارضی شق ہے اور صدر کے پاس اسے منسوخ کرنے کا اختیارہے۔ عدالت عظمیٰ نے اگست 2019مں جموں وکشمیر سے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ کو الگ کرنے کے فیصلے کی صداقت کو بھی برقرار رکھا۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ ریاست جموں وکشمیر کی اندرونی خود مختیار ملک کی دیگر ریاستوں سے مختلف نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا”بھارتی آئین کی تمام دفعات کا اطلاق جموں وکشمیر میں کیاجاسکتا ہے، ہم آئین کے دفعہ 370کو منسوخ کرنے کے لئے آئینی حکم جاری کرنے کے لئے صدارتی طاقت کے استعمال کو درست سمجھتے ہیں، جموں وکشمیر کی آئین ساز اسمبلی کا کبھی بھی مستقل ادار نہیں ہونا تھا۔ ریاست بھارت کا اٹوٹ انگ بن چکی ہے اور یہ آرٹیکل 1اور370سے ظاہر ہوتا ہے۔ چیف جسٹس چند ر چوڑ نے اپنے فیصلے میں کہاکہ بھارت کے ساتھ الحاق کے دستاویز پر دستخط ہونے کے بعد جموں وکشمیر خود مختیاری کا کوئی عنصر برقرار نہیں رکھتا ہے۔ جموں وکشمیر کے لئے کوئی داخلی خود مختیار نہیں ۔ صدارتی راج کے اعلان کو چیلنج کرنا درست نہیں ہے۔ صدر کے اختیارات کے استعمال کا صدارتی حکرانی کے مقصدکے ساتھ معقول تعلق ہونا چاہئے۔ ریاست کے لئے قانون سازی کرنے کا پارلیمنٹ کا اختیار قانون سازی کی طاقت کو خارج نہیں کرسکتا۔ جب دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کیاگیا تو صرف اسمبلی کا عبوری اختیار ختم ہوگیا اور صدارتی حکم پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ 367میں ترمیم کر کے دفعہ370میں ترمیم ، الٹراوائرس تھی کیونکہ تشریحی شق کو ترمیم کے لئے استعمال نہیں کیاجاسکتا۔ صدارت نے طاقت کا استعمال غیر آئینی نہیں تھا اور ریاست کے ساتھ کسی اتفاق کی ضرورت نہیں تھی۔ دفعہ370(1)(d)کے تحت طاقت کے استعمال میں سی او 272کا پیرا 2جموں وکشمیر بھارتی آئین کی تمام دفعات کا طلاق درست تھا۔ صدر کی طرف سے طاقت کا مسلسل استعمال ظاہر کرتا ہے کہ انضمام کا بتدریج عمل جاری تھا۔ اس طرح سی او273درست ہے۔بنچ نے کہاکہ پارلیمنٹ ایک ریاست سے مرکزی زیر انتظام علاقہ بناسکتی ہے اور اِس میں متعلقہ ریاست کا موقف صرف سفارشی ہوسکتا ہے، البتہ کہاکہ وہ اِس پر نہیں جانا چاہتے کہ آیا ریاست جموں وکشمیر کو مرکزی زیر انتظام کشمیر میں تبدیل کرنا درست تھا یا نہیں۔ آئینی بنچ کے رکن جسٹس سنجے کشن کول نے دفعہ370کے فیصلے میں صداقت و مفاہمتی کمیشن کے قیام کی سفارش کی ہے جوکہ سال1980وادی کشمیر میں ’اسٹیٹ ونان اسٹیٹ ایکٹرز‘ریاستی وغیر ریاستی عناصر کی طرف سے کی گئی انسانی حقوق خلاف ورزیوں کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے۔انہوں نے کہاکہ متعدد دہائیوں تک وہاں لوگ تشدد د کا شکار رہے ہیں۔خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ نے 2 اگست 2023 کو درخواست گزاروں کے دلائل کی سماعت شروع کی۔ 16 دن تک فریقین کے دلائل سننے کے بعد 5 ستمبر 2023 کو فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔ آئینی بنچ نے درخواست گزاروں، جواب دہندگان – مرکز اور دیگر کے دلائل سنے۔5-6 اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 میں ترمیم کی تھی، جس میں پہلے جموں و کشمیر کی سابقہ سرحدی ریاست کو خصوصی درجہ دیا تھا۔عدالت عظمیٰ کے سامنے، سینئر وکلاءکپِل سبل، راجیو دھون، گوپال سبرامنیم، دشینت دوے، ظفر شاہ، گوپال شنکر ارائنن نے درخواست گزاروں کی طرف سے دلائل پیش کئے تھے۔سجاد لون کی قیادت میں جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کی نمائندگی دھون نے کی تھی۔سبل نے نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ محمد اکبر لون کی طرف سے دلائل پیش کی تھیں جبکہ مرکزی حکومت کا موقف اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے پیش کیا تھا۔ ان کے علاوہ متعدد مداخلت کاروں کی نمائندگی کرنے والے وکلاءنے بھی اس کیس میں اپنے دلائل عدالت کے سامنے پیش کئے تھے۔آئینی بنچ نے مرکز کو سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی یقین دہانی کے مطابق جلدازجلد جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کی بھی ہدایت دی۔سپریم کورٹ نے تین فیصلے سنائے۔ چیف جسٹس ، جسٹس گوئی اور جسٹس کانت نے جبکہ دوسرا جسٹس کول اور تیسرا جسٹس کھنہ نے فیصلہ سنایا۔جسٹس کھنہ نے چیف جسٹس اور جسٹس کول کے فیصلے سے اتفاق کیا۔آئینی بنچ نے اپنا فیصلہ سنا دیا جس کا بہت عرصہ سے انتظار کیا جارہا تھا۔

یہ فیصلہ ایک مضبوط اور زیادہ متحد ہندستان کی اُمید کی کرن
روشن مستقبل کا وعدہ ،ہمارے اجتماعی عزم کا ثبوت :وزیر اعظم
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی پیر کو تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایک مضبوط اور زیادہ متحد ہندستان کی امید کی کرن ہے۔وزیر اعظم کا یہ تبصرہ ہندوستان کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے متفقہ طور پر اس آئینی حکم کو برقرار رکھنے کے بعد آیا ہے جس میں ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کردیا گیا ، جس سے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دیا گیا تھا۔مودی نے ٹویٹر پر کہا، “آج کا فیصلہ صرف ایک قانونی فیصلہ نہیں ہے بلکہ امید کی کرن کے ساتھ ساتھ ایک روشن مستقبل کا وعدہ ہے اور ایک مضبوط اور زیادہ متحد ہندوستان کی تعمیر کے ہمارے اجتماعی عزم کا ثبوت ہے۔”سپریم کورٹ کے فیصلے کو ‘تاریخی’ قرار دیتے ہوئے، انہوں نے کہا، “یہ آئینی طور پر 05 اگست 2019 کو پارلیمنٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ جموں، کشمیر اور لداخ میں ہماری بہنوں اور بھائیوں کے لیے امید، ترقی اور اتحاد کا ایک شاندار اعلان ہے۔ عدالت نے اپنے گہرے علم کے ساتھ، اتحاد کے بنیادی عنصر کو مضبوط کیا ہے، جس کی بطور ہندوستانی ہم سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کو یقین دلاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ‘آپ کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ہمارا عزم اٹل ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ ترقی کے ثمرات نہ صرف آپ تک پہنچیں بلکہ ہمارے معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور اور پسماندہ طبقے تک پہنچیں جو آرٹیکل 370 کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

ایک تاریخی فیصلہ ہے: رویندر رینہ
جموں// بی جے پی کے جموں و کشمیر یونٹ کے صدر رویندر رینہ نے دفعہ 370 پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم سب کو جموں وکشمیر کی تعمیر و ترقی کے لئے مل کر آگے بڑھنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے اندر مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں کو گذشتہ 70 برسوں سے اپنے حقوق نہیں مل رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کے تمام سیاسی لیڈروں کو اشتعال انگریز بیان بازی نہیں کرنی چاہئے۔بتادیں کہ عدالت عظمیٰ نے پیر کو مرکزی حکومت کے دفعہ 370 کی منسوخی کے فیصلے کو بر قرار رکھا اور الیکشن کمشین کو جموں وکشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات منعقد کرانے کے لئے اقدام کرنے کی ہدایت دی اور انہوں نے جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے لئے فوری اقدام کرنے کی بھی ہدایت دی۔موصوف صدر نے پیر کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا: ‘عدالت عظمیٰ کا دفعہ 370 کے متعلق فیصلہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جموں وکشمیر کے اندر مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں کو گذشتہ 70 برسوں سے دفعہ 370 کی وجہ سے اپنے حقوق نہیں مل رہے تھے’۔ان کا کہنا تھا: ‘مختلف ذاتوں اور سماج کے مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں کو اپنے حقوق نہیں مل رہے تھے ملک کے آئین کے جو اہم دفعات تھے، ان کو یہاں لاگو نہیں کیا جا رہا تھا انسداد رشوت، انسانی حقوق کمیشن وغیرہ جیسے قوانین نافذ نہیں تھے اور یہاں کے بچے حق تعلیم کے حق سے بھی محروم تھے’۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد تمام لوگوں کو اپنے حقوق ملنے لگے اور آج جموں وکشمیر کا ہر شہری ملک کی ان تمام پالیسیوں سے بہرہ ور ہو رہا ہے جن کو یہاں عمل میں نہیں لایا جاتا تھا۔مسٹر رینہ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے جموں وکشمیر کے ہر طبقے اور ہر مذہب سے وابستہ لوگوں کا بھلا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ایک ہو کر اپنے نوجوانوں کے بہتر مستقبل اور جموں وکشمیر کی فلاح و ترقی کے لئے آگے بڑھنا چاہئے۔جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ‘جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے بارے میں اعلان کرنا الکیشن کمیشن آف انڈیا کا کام ہے کوئی بھی سیاسی جماعت الیکشن کے انعقاد کے متعلق اعلان نہیں کرسکتی ہے’۔انہوں نے کہا کہ چاہئے وہ اسمبلی انتخابات ہوں یا پارلیمانی انتخابات ہوں بی جے پی لڑنے کے لئے تیار ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں موصوف صدر نے کہا: ‘عدالت عظمیٰ نے دفعہ 370 پر فیصلہ سنایا ہے اب سیاسی لیڈروں عمر عبدللہ صاحب، محبوبہ مفتی صاحبہ، غلام نبی آزاد صاحب، سجاد لون صاحب، سید محمد الطاف بخاری صاحب کو اشتعال انگریز بیان بازی سے احتراز کرنا چاہئے’۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر لوگوں کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہئے۔

فیصلے سے جموں کشمیر کی عوام میں تشویش: اپنی پارٹی
سرینگر// اپنی پارٹی نے کہا کہ عدالت عظمی کے فیصلے، جس کے تحت مرکزی سرکار کے 5 اگست 2019 کے اقدام کو برقرار رکھا گیا، نے جموں کشمیر کے عوام میں مایوس کردیا ہے اور انہیں تشویش لاحق ہوگئی ہے، کیونکہ اب تک عوام کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ آئین ہند کی یہ دفعہ حتمی ہے۔اپنی پارٹی کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ”مرکزی حکومت کے 5اگست 2019 کے اقدامات کو قائم رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے جموں کشمیر کے لوگ مایوس ہیں اور انہیں تشویش لاحق ہوگئی ہے کیونکہ دہائیوں سے انہیں یہ یقین دلایا گیا تھا کہ آئین کی یہ شق حتمی ہے۔ اب جبکہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا ہے، یہ مرکزی سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ جموں کشمیر کے عوام کو یہ یقین دلائیں کہ وہ بے اختیار نہیں ہیں۔ اس ضمن میں لازم ہے کہ مرکزی سرکار بعض اقدامات کرے جس سے جموں کشمیر کے عوام میں بے اختیاری کا احساس زائل ہو۔“بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ، ”اپنی پارٹی مرکزی سرکار پر زور دیتی ہے کہ ڈومیسائل قانون کو آئینی ڈھانچے میں اس طرح سے لایا جائے تاکہ جموں کشمیر کے باشندوں کو یہ آئینی ضمانت حاصل ہو کہ یہاں کہ زمین اور ملازمتوں پر ا±ن کا خصوصی حق ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکزی سرکار کو جلد از جلد جموں کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنا چاہیے اور یہاں اسمبلی انتخابات کا انعقاد کرانا چاہیے تاکہ عوام کو اپنے نمائندے خود چ±ننے کا جمہوری حق حاصل ہو۔“

عدالت کے فیصلے پر اتفاق نہیں :کانگریس
نئی دہلی//کانگریس نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے مودی حکومت کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے جس طرح برقرار رکھا ہے اس سے پارٹی احترام کے ساتھ متفق نہیں ہے۔سینئر کانگریس قائدین پی چدمبرم اور ابھیشیک منو سنگھوی نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے نااتفاقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی اعلی ترین پالیسی ساز ادارہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کا عزم ہے کہ آرٹیکل 370 اس وقت تک احترام کا مستحق ہے جب تک کہ ہندوستان کے آئین کے مطابق اس میں ترمیم نہیں کی جاتی۔مسٹر چدمبرم نے کہاکہ “ہم اس فیصلے سے بھی مایوس ہیں کہ سپریم کورٹ نے ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے سوال پر فیصلہ نہیں کیا۔ کانگریس نے جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے مرکز کے فیصلے کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کی مکمل ریاست کا درجہ فوری طور پر بحال کیا جائے اور لداخ کے لوگوں کی امنگوں کو بھی پورا کیا جائے۔انہوں نے سپریم کورٹ کی طرف سے اسمبلی انتخابات کرانے کی ہدایت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ریاست میں فوری طور پر اسمبلی انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے کیونکہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کا عمل آزادی کے بعد مکمل ہوا تھا۔ جموں و کشمیر کے لوگ ہندوستانی شہری ہیں اور کانگریس ریاست کی سلامتی، امن، ترقی کے لیے کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔مسٹر سنگھوی نے کہاکہ “ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے سامنے جھکتے ہیں، لیکن ملک کے ایک عام شہری کے طور پر میں کہہ سکتا ہوں کہ اس فیصلے میں تضاد ہے۔ فیصلے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ریاست کی حیثیت کو کیوں گھٹا کر اسے یونین ٹیریٹری بنایا گیا ہے، جب کہ دوسری طرف عدالت لداخ کو یونین ٹیریٹری بنانے کے فیصلے کو درست مانتی ہے۔ ایک ہی ریاست کے کسی حصے کو یونین ٹیریٹری بنانے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ دینا اور پھر اسی ریاست کے دوسرے حصے کو یونین ٹیریٹری بنانے کا جواز پیش کرنا تضاد ہے۔ یہ ایک آئینی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ فیصلے میں ایک طرف سرکاری یقین دہانی کو قبول کیا گیا ہے تو دوسری جانب آئندہ ستمبر تک انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بے روزگاری 18 فیصد ہے جبکہ قومی سطح پر بے روزگاری کی شرح آٹھ فیصد ہے۔ شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 31 فیصد ہے جبکہ خواتین میں یہ شرح 51 فیصد ہے۔ پہلے مالی سال کے مقابلے 2021-22 میں جموں و کشمیر میں ڈس انویسٹمنٹ بہت کم ہے۔

مایوس ہوںمگر دل شکن نہیں:عمر عبداللہ
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سماجی رابطہ گاہ ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا: ‘میں مایوس لیکن دل شکن نہیں ہوا ہوں، ہماری جدو جہد جاری رہے گی’۔ان کا پوسٹ میں مزید کہنا تھا: ‘بی جے پی کو اس مقام تک پہنچنے کے لئے کئی دہائیاں لگ گئیں اور ہم اس طویل جد وجہد کے لئے تیار ہیں’۔انہوں نے کہا: ‘ہم دفعہ 370 کے حوالے سے کامیاب ہوں گے’۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ ”بدقسمتی سے ہم 5ججوں کو قائل نہیں کرسکے، لیکن میںیہ یقین کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس سے زیادہ نہیں کرسکتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مخالفین نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ نیشنل کانفرنس نے سپریم کورٹ میں کیس کا دفاع کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور ہم اپنے وکلاءکپل سبل صاحب اور گوپالا سبرامنیم صاحب سے اس سے بہتر اپنا کیس پیش کرنے کی اُمید نہیں کرسکتے تھے، بدقسمتی سے ہم ججوں کو قائل نہیں کرسکے، جس کیلئے ہمیں نہ صرف افسوس ہے بلکہ ہم جموںوکشمیر اور لداخ کے عوام کے علاوہ ملک کے اُن لوگوں سے معذت خواہ ہیں جو چاہتے تھے کہ ہم اس لڑائی میں کامیاب ہوجائیں۔‘

عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ایک پڑاو¿ ہے، منزل نہیں
لوگ ہمت ہاریں نہ نا اُمید:محبوبہ مفتی
سرینگر//پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ ایک پڑاﺅ ہے منزل نہیں ہے۔انہوں نے لوگوں سے ہمت نہ ہارنے اور نا امید نہ ہونے کی اپیل کی۔موصوف سابق وزیر اعلیٰ اپنے سماجی رابطہ گاہ ‘ایکس’ پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا: ‘میرے پیارے ہم وطنو: ہمت مت ہارو،امید مت چھوڑو جموں وکشمیر نے کئی اتار چڑھاﺅ دیکھے ہیں اور سپریم کورٹ کا آج کا یہ فیصلہ ایک پڑاﺅ ہے منزل نہیں ہے’۔انہوں نے کہا: ‘ہمارے مخالفین چاہتے ہیں کہ ہم دل برداشتہ ہوکر شکست تسلیم کریں لیکن ایسا نہیں ہوگا’۔ان کا کہنا تھا: ‘سپریم کورٹ نے کہا کہ دفعہ 370 عارضی تھا یہ ہماری ہار نہیں بلکہ آئیڈیا آف انڈیا کی ہار ہے’۔محبوبہ مفتی نے کہا: ‘ایک جماعت گذشتہ 70 برسوں سے کہتی آ رہی تھی کہ ہم اقتدار میں آئیں گے تو دفعہ 370 ہٹائیں گے انہوں نے ایسا کیا’۔جموں وکشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا: ‘دفعہ 370 پر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ مایوس کن ہے’۔انہوں نے کہا: ‘دفعہ 370 کو قانونی طور پر ختم کیا گیا ہوگا یہ ہماری سیاسی خواہشات کا ہمیشہ ایک حصہ رہے گا’۔

کسی کو نظر بند رکھا گیا نہ گرفتار کیا گیا ہے: منوج سنہا
جموں//جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز کہا کہ دفعہ 370 پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے پیش نظر کشمیر میں کسی کو نہ خانہ نظر بند رکھا گیا ہے اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس قسم کی افواہیں پھیلا رہے ہیں جو بے بنیاد ہیں۔موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا: ‘کچھ لوگ خانہ نظر بندی اور لوگوں کو گرفتار کرنے کی افواہیں پھیلا رہے ہیں’۔انہوں نے کہا: ‘میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر کسی کو خانہ نظر بند رکھا گیا ہے نہ کسی کو گرفتار کیا گیا ہے’۔بتادیں کہ پی ڈی پی نے سماجی رابطہ گاہ ‘ایکس’ پر پیر کی صبح ایک پوسٹ میں کہا: ‘عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے قبل ہی پولیس نے پارٹی صدر محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ کے دروازے بند کرکے اس کو خانہ نظر بند کر دیا ہے’۔ ادھر نیشنل کانفرنس نے بھی اپنے ایکس پر جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کے دروازے پولیس نے بند کئے۔ ۔اس فیصلے کے پیش نظر وادی کشمیر میں سیکورٹی کے فیقد المثال انتظامات کئے گئے ۔کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کی خاطر سری نگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر
افواہیں پھیلانے سے باز رہیں: پولیس
سرینگر// سری نگر پولیس نے لوگوں سے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر اشتعال انگیز مواد اور افواہیں پھیلانے سے باز رہنے کی تاکید کی ہے۔سری نگر پولیس کا یہ بیان دفعہ 370 کے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلہ سنانے کے پیش نظر سامنے آیا ہے۔سری نگر پولیس نے سماجی رابطہ گاہ ‘ایکس’ پر پیر کو ایک پوسٹ میں کہا: ‘عام لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر اشتعال انگیز مواد، غلط معلومات اور افواہیں پھیلانے سے گریز کریں’۔بتادیں کہ سائبر پولیس کشمیر نے اتوار کے روز ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین سے تاکید کی کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعے افواہوں، جعلی خبروں، نفرت انگیز تقاریر اور نامناسب مواد کے پھیلاﺅ کی حوصلہ شکنی کریں۔ایڈوائزری میں کہا گیا: ‘تمام سوشل میڈیا صارفین کو کہا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کا ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور افواہوں، جعلی خبروں، نفرت انگیز تقاریر اور پر تشدد اور ہتک آمیزش مواد کو شیئر کرنے سے گریز کریں’۔

کشمیر پر دھند ختم
اب غلام کشمیر کو آزاد کرانے کی باری : ویشو ہندو پریشد
نئی دہلی//وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے جموں و کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 370 کو ہٹانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے آج کہا کہ اس سے متعلق ابہام کی دھند صاف ہو گئی ہے اور اب غلام کشمیر کو پاکستان کے چنگل سے آزاد کرایا جانا چاہئے۔وی ایچ پی کے انٹرنیشنل ورکنگ پریذیڈنٹ اور سینئر ایڈوکیٹ آلوک کمار نے آرٹیکل 370 پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ لافانی شہید ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو ایک شکر گزار قوم کے خراج کی طرح ہے۔ آج کا فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ 1947-48 میں مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے دستخط شدہ الحاق کا معاہدہ حتمی اور درست تھا۔ جموں و کشمیر ہمیشہ سے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ رہا ہے اور رہے گا۔وی ایچ پی کے لیڈر نے کہا، ”کچھ سیاسی عزائم کی وجہ سے اس وقت کی حکومت نے آرٹیکل 370 کے ذریعے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دیا تھا۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ نے اس آرٹیکل کو ہٹا دیا تھا۔ لیکن پھر بھی اس کیس کی وجہ سے کچھ دھند تھی جو آج کے فیصلے کے بعد صاف ہو گئی۔ ہمیں یقین ہے کہ جموں و کشمیر میں ترقی کا بہاو¿ اسی رفتار سے بڑھتا رہے گا۔مسٹر آلوک کمار نے کہا، ”اب جموں و کشمیر میں صرف ایک بڑا کام رہ گیا ہے۔ یعنی پاکستان کے چنگل سے غلام کشمیر کی آزادی۔ ہمیں یقین ہے کہ ایک مضبوط ہندوستان اور ایک پرعزم حکومت پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کو جلد آزاد کرا سکے گی۔

جموں وکشمیر بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ
پاکستانی نگراں وزیر خارجہ کابیان ناقابل قبول :وزارت خارجہ
نئی دہلی //عدالت عظمیٰ کے آئینی بینچ کی جانب سے 370-35Aکو منسوخ کرنے کے فیصلے کے بعد پاکستانی نگراں وزیرخارجہ کے بیان کووزارت خارجہ نے سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہاکہ جموںو کشمیر بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے کسی کوہمارے معاملات میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں، پاکستان نے جموںو کشمیرکے ایک حصے پرزبر دستی قبضہ کیاہے جو بھارت میں شامل کرنے کی ضرورت ہے ۔370-35Aکو منسوخ کرنے کے خلاف دائرکی گئی عرضیوں کوسپریم کورٹ آف انڈیاکے پانچ رکنی آئینی بینچ کی جانب سے خارج کرنے او رجموںو کشمیر کابھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ قرار دینے کے بعد پاکستانی نگراں وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران فیصلے کوبین الاقوامی قوانین کی سرہن خلاف ورزی اورجموں کشمیرکومتنازعہ خطہ قرار دینے کے بیان پروزار خارجہ نے برہمی کاا ظہار کرتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیر بھارت کاناقابل تنسیخ حصہ ہے جموںو کشمیرکے لوگوں کے پچھلے سات دہائیوں سے بار با ربھارت کے ساتھ اپنی وابستی کااظہار کیاپانچ اگست 2019کو 370-35Aکے خاتمے کے بعد جموں وکشمیر پوری طرح سے ملک کے ساتھ مدغم کیاگیااور اب سپریم کورٹ آف انڈیانے مرکزی حکومت کافیصلے کوقانونی جمہوری اور آئینی طور پر اس کی تصدیق کر تے ہوئے جائزٹھرایاہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی وزیرخارجہ کابیان بھارت کے اندرونی معاملات میں سیدھی مداخلت ہے جوہم کسی بھی طور برداشت نہیں کرینگے ۔پاکستان نے زبرستی کشمیرکے ایک حصے پراپناتسلط قائم کیاہے او رایک حصہ چین کو بطور تحفہ پیش کیاہے جوبھارت کے ناقابل تنسیخ حصے ہے ۔پاکستان نے گلگت ،بلکستان، مظفر آباد اوردوسرے شہروں پرزبردستی اپناقبضہ برقراررکھاہے جسے چھڑانے کے لئے بھارت اپنی کوششیں سیاسی او رسفارتی سطح پر جاری رکھے گا ۔وزارت خارجہ نے کہا پاکستانی وزیرخارجہ کابیان اشتعال انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ خطے میں کشیدگی اور تناو¿ کے ماحول کوہوادینے کے مترادف ہے۔ انہوںنے مزیدکہاکہ جموںو کشمیر بھارت کاناقابل تنسیخ حصہ ہے اورکسی بھی ملک کویہہحق حاصل نہیں کہ وہ جموںو کشمیرکے حوالے سے بیان دے اور جموںو کشمیر کے لوگوںکواُکھسانے کی کوشش کرے ۔وزارت خارجہ نے کہا جموںو کشمیرکے لوگوں کے با ربار بھارت کے ساتھ اپنی وابستگی کااظہارکیاہے اورجہاں تک عدالت عظمی کے آئینی بینچ کافیصلہ اس آئینی بینچ نے مرکزی سرکار کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے جموں وکشمیرکو بھارت کا اٹوٹ اَنگ قرا ردیتے ہوئے جموںو کشمیرکے لوگوںکے بہتر مستقبل کی ضمانت فراہم کی ۔وزارت خارجہ کے بیان میں کہاگیاہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ کو اپنی فکرکرنی چاہئے کہ وہ جموںو کشمیر جو ان کے قبضے میں ہے کے لوگوں کے ساتھ کیاسلوک رواں رکھے ہوئے ہےں۔ انہوںنے کہاکہ گلگت، بلکستان، مظفر آباد ،میرپورہ،کرالکھڈ اور دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ باربار پاکستان کے تسلط کے خلاف اپنی آوازبلندکررہے ہےں جوا س بات کی عکاسی ہے کہ پاکستانی زیرانتظام کے لوگ بھی بھارت کے ساتھ اپنی وابستگی کے حق میںہےں۔

مرکزی سرکار کے فیصلے کی تصدیق اہمیت کی حامل :وزیر داخلہ
نئی دہلی//مرکزی وزیراداخلہ امت شاہ نے فیصلے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرا ردیتے ہوئے کہاکہ اس فیصلے نے ثابت کردیاکہ حکومت نے جوفیصل لیا وہ آئینی اور جمہوری طور جائز تھا۔370 کے کاخاتمے کے بعد جموں وکشمیر میں سیاحت ،زرارعت ،باغبانی کوفروغ ملاہے جوجموںو کشمیر کے لوگوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ وزیردفاع نے آئینی بنچ کے فیصلے کو وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی سب سے بڑی جیت قرار دیتے ہوئے کہاکہ 5اگست 2019کوجوفیصلہ لیاگیا وہ جمہوری آئینی اور قانونی طور پرصحیح ثابت ہوا ۔جموں وکشمیرکو بھارت میں مدغم کرنے کی سپریم کورٹ آف انڈیاکی آئینی بنچ نے تصدیق کرتے ہوئے ملک کے عوام کے جزبات کی ترجمانی کی ہے بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جے پی نڈا نے فیصلے کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہاپچھلے سات دہائیوں سے جوایک مسئلہ بناہواتھایاپوری طرح سے زمین بوس ہوگیا جموںو کشمیر سے 370-35Aکاخاتمہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایجنڈے اور منشور کی تصدیق ہے کہ ایک ودھان ایک نشان اور ایک پردھان کاجو شاماپرسادمکھر جی نے نعرہ دیاتھا وہ صداقت پرمبنی تھا ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری امور کشمیرکے انچارج ترن چگ نے فیصلے کو جموں وکشمیرکے روشن مستقبل کی ضمانت قرا ردیتے ہوئے کہاکہ پچھلے سات دہائیوں سے 370-35Aکے نام پر لوگ جموںو کشمیرکے عوام کا استحصال کرتے تھے اب انہیں لوگوں کے ساتھ ناانصافی اوراستحصال کرنے کاموقع نہیں ملے گا۔ انہوںنے کہاکہ آئینی بنچ کافیصلہ شاماپرساد مکھر جی کے خوابوں کی تعبیر ہے اور ایک دفعہ پھربی جے پی کافیصلہ ملک کے لئے انتہائی اہمیت کا فیصلہ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہاا س فیصلے سے پسماندہ طبقوں کوان کاحق ملے گا جنہیں سات دہائیوں سے نظرانداز کیاگیاتھا ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے سٹیٹ پریذیڈنٹ روند ررینا نے فیصلے کوتاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہاکہ اب 370-35Aپرسیاست نہیں ہوگی تمام سیاسی پارٹیوں کو اب یہ فیصلہ قبول کرناچاہئے ا سپرکسی قسم کی سیاست نہیں کرنی چاہئے ۔انہوںنے کہا370.جموں وکشمیرکے عوام کے لئے ایک سہانی عذاب تھاجواب پوری طرح سے ختم ہوگیااور جموںو کشمیرکے لوگوں کواب راحت ملے گی ۔

فیصلے کو قبو ل کرنا ہی ہوگا :ڈاکٹر کرن سنگھ
جنہیں مایوسی ہوئی وہ اپنی طاقت الیکشن میں صرف کریں
جموں//عدالت عظمیٰ کے آئینی بینچ کے فیصلے کوآئینی قرار دیتے ہوئے جموںو کشمیرکے سابق صدر ریاست نے کہاکہ کہ کئی لیڈروں کو فیصلے سے اتفاق نہیںہوگا اور ہم مایوس ہونگےں بحیثیت ان کاخیرخواہ یہ بتادیناچاہتا ہوں کہ وہ اپنا طاقت آنے والے الیکشن پرصرف کرے اور لوگوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کرے جسے راحت مل سکے ۔سابق صدرریاست ڈاکٹرکرن سنگھ نے فیصلے کوتاریخی قرار دیتے ہوئے کہاکہ گھڑی کی سوئیاں کو پیچھے موڑنے کاوقت ا ب نہیں ہے تاہم 21وی صدی میں ہے نئے تجربات سے لوگوں کو چیلنجوںکامقابلہ کرنے کاہم آہنگ بنایاجاتاہے اور سیاست میں بھی تبدیلیاں رونماءہورہی ہے جو دور جدید میں ایک لازمی جز بن گیاہے ۔انہوںنے عدالت عظمیٰ کے آئینی بنچ کے فیصلے کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہاکہ جموںو کشمیرکے لوگوں کو21 وی صدی میںترقی کی منزلوں پرلے جانے سے کوئی نہیں روک سکتااورمقابلہ آررائی کے اس دور میں جمو ںوکشمیر کے نوجوان کوہم نظرانداز نہیں کرسکتے ا سکے لئے لازمی ہے کہ ا سکے پاس ٹیکنالوجی او روسائل ہونے چاہئے ۔سابق ریاست کے سابق صدر نے کہاکہ عدالت عظمیٰ کے آئینی بنچ کے فیصلے سے کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کومایوسی او ردکھ پہنچاہوامیں انہیں ذاتی طور پربحٰثیت انسان اور دوست یہ کہناچاہتا ہوں کہ وہ اب اس مسئلے کو دفن کرے اور اپنا طاقت آے والے پارلیمنٹ اور اسمبلی الیکشن کے دوران صرف کرے ۔ لوگوں کے وہ اپنے آپ کوصرف کرے ۔انہوںنے کہاہمیں بد مزگی کواب دور کرنا ہوگا حقائق کو تسلیم کرکے ایک نئے جموںوکشمیر کی بنیا درکھنے کے لئے اپنے آپکوآگے لانا ہوگا ۔روایتی سیاست کازمانہ گزر گیااب ٹھوس بنیادوں اور عوامی مفادات ہی سیاست ہی سیاسی پارٹیوں کے قائدین کوکامیابی سے ہمکنار کریگی ۔

جموںو کشمیرکے مستقبل پربہت بڑا سوالیہ نشان ©:غلام نبی آزاد
جموں//آئینی بنچ کے فیصلے پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پروگریسیوپارٹی کے سربراہ نے کہاکہ عدالت عظمی ٰکے آئینی بینچ کے ساتھ جموںو کشمیرکے لوگوں نے اپنی امیدیں وابستہ کی تھی تاہم عدالت عظمیٰ کے آئینی بینچ کے فیصلے سے مایوسی ضرور ہوئی ہے ۔آمید تھی کی 370کی منسوخی کے ساتھ 35Aکو بھرقرار جائے گا تاہم عدالت کے آئینی بینچ نے اس سے بھی منسوخ کردیا۔اے پی آئی نیوز کے مطابق دفعہ 370کومنسوخ کرنے کے خلاف دائر کی گئی عرضیوں کوخارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا کے آئینی بینچ کے فیصلے پر لب کشائی کرتے ہوئے جموںو کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ پروگریسیو پارٹی کے صدر غلام نبی آزاد نے کہا عدالت عظمی کے آئینی بینچ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے بہت ساری امیدیں ہم نے اس بینچ کے ساتھ وابستہ کی تھی اور یہ بھی توقع تھی کی ایک تاریخی فیصلہ ہوگا تاہم آئینی بینچ نے 370کوعارضی قرار دے کر اس کی حیثیت کواب مکمل طور پرمنسوخ کردیاجس سے اس کے جموںو کشمیرکے عوام میں مایوسی کی لہردوڑگئی ا وراس فیصلے سے لوگ خوش نہیں ہےں۔انہوںنے کہا مہاراجہ ہری سنگھ نے جغرافیائی حالات کومد نظر رکھتے ہوئےے 1925,1927-1935 میں 35Aکولاگوکیاتھا اب 35A بھی جموں وکشمیرکے لوگوں کے لئے نہیں انہوںنے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے جموں وکشمیر پر کئی طرح کے حالات پیداہونگے آمدانی کے وسائل کم ہونگے ارضی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جموں وکشمیرکے نوجوان کوسرکاری اداروں میں نوکریاں حاصل کرنے میں مشکلوں کاسامناکرنا پڑیگا ۔جسے جموںو کشمیر کے نوجوان حدسے زیادہ متاثر ہونگے ۔انہوںنے کہا 35Aکوختم کرنا جموںو کشمیرکے لئے بہت بڑا دھچکاہے۔ انہوں نے ا س بات پرراحت کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ آئینی بنچ نے 30ستمبر تک الیکشن کرانے اور سٹیٹ ہڈ بحال کرنے کاجو فیصلہ سنا دیاہے اسے لوگوںکوکسی حد تک راحت ملے گی ۔مجموعی طور پر آئینی بنچ کافیصلہ مایوس کن ہے ۔