امتحانات کے لئے بندو بست کر سکیں۔ امید ہے سپریم کورٹ جموں وکشمیر کے عوام کو انصاف دے گی: ڈاکٹر کمال

سری نگر//دفعہ370کے معاملے پر سپریم کورٹ سے جموں وکشمیر کے عوام کیلئے انصاف کی اْمید باندھتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے کہاہے کہ جموں وکشمیر کے آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی تک نیشنل کانفرنس کی جدوجہد جاری و ساری رہے گی۔ان باتوں کا اظہارموصوف نے یہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر کمال نے کہاکہ اس سے پہلے کئی بار سپریم کورٹ میں دفعہ 370کا کو چیلنج کیا گیا ہے اور ہر بار سپریم کورٹ میں نے اس دفعہ کو برقرار رکھنے کے حق میں فیصلے سْنائے ہیں اور ہمیں اْمید ہے کہ اس بار بھی سپریم کورٹ ملک کے آئین کو مقدم سمجھ کر 5اگست2019کے فیصلوں کو کالعدم قرار دی گا اور دفعہ370کی بحالی کیلئے راہ ہموار کرے گا۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ 5اگست2019کے فیصلوں سے جموں وکشمیر کے تینوں خطوں کے عوام کے دل مجروح ہوئے ہیں ،یہ زخم آج بھی ہرے ہیںاور مرکزی حکومت کے یہ فیصلے یہاں کے لوگوں نے آج بھی قبول نہیں کئے ہیں۔ نئی دلی نے جموں وکشمیر میں اپنا اعتماد مکمل طور پر کھو دیا ہے اور نئی دلی دھونس و دباوکے ذریعے قائم کی گئی خاموشی کو نارملسی جتلا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمران جموں وکشمیر کے زمینی اور اصل مسائل کی طرف توجہ دینے کے بجائے آئے روز عوامی کْش اقدامات میں مصروف ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کی مجموعی تعمیر و ترقی اور امن لوٹ آنے کی واحد صورت صرف اور صرف عوامی منتخبہ حکومت کے قیام میں ہی مضمر ہے اور یہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک عوامی نمائندہ سرکار ہی لوگوں کے مسائل و مشکلات حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ عوام کے ذریعے چْنے ہوئے نمائندے ہی زمینی سطح پر لوگوں کی ضروریات، احساسات اور اْمنگوں سے باخبر ہونے کے ساتھ ساتھ جغرافیائی اور تاریخی پس منظر سے واقف ہوتے ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ مرکزی حکومت بغیر کسی طول کے جموںوکشمیر میں آزادنہ اور منصفانہ انتخابات عمل میں لانے کی پہل کرے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ4سال سے جاری افسرشاہی میں جموںوکشمیر کے عوام پس رہے ہیں اور زمینی سطح پر حکومت کی طرف سے لوگوں کو کوئی بھی راحت نہیں پہنچ رہی ہے۔ حکومت کے دعوے اور اعلانات صرف کاغذی گھوڑے ثابت ہورہے ہیں حکومت کی تعمیر و ترقی صرف ذرائع ابلاغ تک ہی محدود ہے۔