کشمیر میں سردیوں میں گرمی کے لئے الیکٹرک یا گیس پر چلنے والے آلات کا بکثرت استعمال آگ کی وار داتوں میں اضافے کا باعث: محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کشمیر

سری نگر//محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کشمیر کے مطابق وادی کشمیر میں موسم سرما کے دوران آگ کی وارداتوں میں اضافہ درج ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس دوران گرمی کے لئے الیکٹرک یا گیس پر چلنے والے آلات کا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ محکمے کی طرف سے جاری ایڈوائزری پرعمل پیرا ہونے سے آگ کی وار داتوں میں کمی کی جاسکتی ہے۔متعلقہ محکمے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عاقب احمد میر نے یو این آئی کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران کہا: ‘کشمیر میں موسم سرما کے دوران ہیٹنگ آلات کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جس سے آگ لگنے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں’۔انہوں نے کہا: ‘اگر احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے گا اور محکمے کی طرف سے جاری کی جانے والی ایڈویزری کو عمل میں لایا جائے گا تو آگ کی وارداتوں میں کمی درج کی جاسکتی ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘ان چیزوں کا استعمال کرنا آسان ہے ان سے آرام ضرور ملتا ہے لیکن لا پرواہی برتنے سے نا قابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے’۔موصوف ڈائریکٹر نے کہا کہ گرمی کے الیکٹرک یا گیس پر چلنے والے آلات کا استعمال کرتے وقت حد درجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا: ‘الیکٹرانک ہیٹر ہو یا گیس ہیٹر ہو، سونے سے قبل اس کے بند کرنے کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہئے’۔ان کا کہنا تھا: ‘کمروں میں وینٹی لیشن کا بھر پور بند وبست ہونا چاہئے اور اضافی گیس سلینڈروں کو مکان سے باہر سٹور رکھا جانا چاہئے’۔انہوں نے کہا: ‘اکثر لوگ الیکٹرک کمبل پر گرم پانی کی بوتل رکھتے ہیں تو بوتل سے پانی خارج ہونے کی صورت میں شارٹ سرکٹ ہوسکتا ہے جو جان و مال کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے’۔مسٹر عاقب میر نے کہا کہ لوگ کانگڑیوں کے لئے استعمال کئے جانے والے ایندھن کو بھی مکانوں کے بالائی منزلوں میں سٹور رکھتے ہیں تو ایسا بھی ہوتا کہ معمولی چنگاری لگ جانے سے وہ بھی آتشزدگی کا باعث بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا: ‘لوگوں کو چاہئے کہ وہ گیس سلینڈروں کو باورچی خانوں سے باہر رکھیں تاکہ اگر گیس خارج بھی ہوجائے تو وہ باہر ہی ہوا میں تحلیل ہوجائے گا’۔انہوں نے لوگوں سے تاکید کی کہ وہ مکانوں کی بجلی فٹنگ کرنے کے لئے معیاری بجلی سامان کا استعمال کریں۔موصوف ڈائریکٹر نے کہا: ‘لوگوں کو چاہئے کہ وہ مکانوں کی بجلی فٹنگ کرنے کے لئے معیاری بجلی سامان کا استعمال کریں اور علاوہ ازیں وقت وقت پر کمروں وغیرہ میں بچھائی گئی تاروں کا چیک کرائیں’۔انہوں نے کہا کہ آگ کی وار داتوں میں کمی لانے کے لئے متعلقہ محکمے سے زیادہ عام لوگوں کا رول ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘لوگوں کو احتیاط برتنے کے ساتھ ساتھ محکمے کو تعاون فراہم کرنا چاہئے سڑکوں اور کوچوں میں رات کے وقت گاڑیوں کو بے ہنگم کھڑا نہیں کرنا ہے ایسا کرنے سے ہماری گاڑیوں کو جائے واردات تک پہنچنے کے لئے دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو زیادہ سے زیادہ نقصان کا باعث بن جاتا ہے’۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اپنے نزدیکی فائر اسٹیشن کا فون نمبر ضرور اپنے پاس رکھنا چاہئے اور اس کے علاوہ فائر ایکس ٹنگوشرز بھی گھروں میں نصب کرنے چاہئے۔ان کا کہنا تھا: ‘لوگ اکثر پہلے پولیس کو فون کرتے ہیں جس کے بعد پولیس ہمیں مطلع کرتی ہے جو جائے واردات پر دیر سے پہنچنے کا سبب بن جاتی ہے’۔قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں گذشتہ دنوں کے دوران آگ کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔آئے روز وادی کے کسی نہ کسی علاقے میں آگ کی واردات رونما ہوتی ہے جو لوگوں کے لئے فکر مندی