فوری حل طلب مسائل

اس بات میںشک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیںکہ ساڑھے چا سال قبل اور آج کے جموںوکشمیر میںزمین و آسماں کا فرق دکھائی دے رہا ہے ۔لیکن یہ تبدیلی بعض معاملات میںمثبت اور بعض میںمنفی دکھائی دے رہی ہے جس کو تسلیم کیا جا نا چاہئے ۔اگر کوئی سو فیصدی مثبت تبدیلی کا گمان پال کو بیٹھا ہے ،تو اس میںحقیقت نہیںہے ۔کیونکہ امن وامان میںکشمیر سمیت پوری یوٹی میںمثبت تبدیلی رونما ہو ئی ہے ۔جس کی وجہ سے عوام نے راحت کی سانس لی ہے ۔اس سے جہاں معشیت کو پذیرائی ملی ہے کیونکہ کشمیر وادی سیاحوںکے جم غفیر سے بھر جانے سے ہر طرف مسرت کی لہر چھائی ہو ئی ہے ۔تجارتی سرگرمیوںمیںاضافہ ہو ا ہے ۔کاروباری لوگ اپنے کام کاج سے خوش ہیں۔کسی قسم کا شور شرابہ و ہڑتال و احتجاج کی صدا سنائی نہ دے رہی ہے جس سے سکولوںو کالجو ںو دوسرے سرکاری و پرائیویٹ دفاتر کا کام پوری سرعت کے ساتھ رواںدوا ںہے ۔جبکہ ترقیاتی کامو ںمیںبھی تیزی لائی گئی ہے ،ان پر نگاہ رکھی جا رہی ہے ،لیکن جتنا کچھ کاغذوںمیںدعوے کئے جاتے ہیں۔ان میںابہام ہے کیونکہ ابھی تک پورے یوٹی کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیںیا ان کو مناسب مقدار میںسہولیات دستیاب نہیںکروائی جا رہی ہیں،بیک ٹو ولیج پروگراموںکے دوران جو بھی مسائل عوام نے اٹھائے ان کو پورا کرنے کی جانب سنجیدگی نہ دکھائی گئی بلکہ کام چلائو کام کر کے عوام کی توقعات پر کھرا اترنے کی کوشش مخلصانہ نہ ہوئی جس کی وجہ سے کہیںپر آج بھی لوگ بجلی سے محروم ہیں۔کہیںپر پینے کا پانی مناسب مقدار میںدستیاب نہیںکرایا جا رہا ہے ۔سکولوںو پی ایچ سیز ،سب ضلع ہسپتالوںمیںجو خامیاںہیںان کو پورا کرنے کی جانب توجہ دینے کی زحمت گوارا نہ کی گئی ہے ۔یہاںتک کہ صاف صفائی کی بنیادی ضرورت پر جموںوسرینگر شہروںمیںخاطرف خواہ توجہ نہ دئے جانے سے عوام کی بھاری تعداد کو وائرس کی گرفت میںڈال دیا ۔ادھر ساڑھے چار سال قبل جو سرکاری نوکریوںو زمینوںکا حق جموںوکشمیر کے لوگوںکو حاصل تھا مگر اس کو چھین کر یا اس میںترمیم کر کے مقامی نوجوانوںکے ساتھ زیادتی کی گئی ہے ،یہی نہیںساڑھے چار سال قبل کہا گیا تھا کہ حالات بہتر ہوتے ہی تو ریاست کا درجہ بحال کر دیا جائے گا مگر اب جبکہ چاروںاطراف سے حالات کی بہتری کے گن گان کئے جارہے ہیںاور یہ دکھائی بھی دے رہا ہے تو مقامی نوجوانوںکو نوکریوںکا حق دینا اور زمینوںکا حق دینے میںکسی کو کوئی عار نہیںہو نا چاہئے ،اس لئے ساڑھے چار سال کے بعد ہم اگر یہ کہیںکہ ساڑھے چار سال کے اندر سب کچھ بہتر سے بہتر ہو ا ہے تو اس میںکوئی بھی صداقت نہیںہے ۔جس کو تسلیم کرنے میںکسی کو کوئی ہرج نہ ہونا چاہئے ۔