بڑا شور سنتے تھے پہلو میںجس کا

جموںوکشمیر میںبرقی رو کی قلت کا معاملہ کوئی نئی بات نہیںہے ۔یہاںپر ہر سال ایک پن بجلی پروجیکٹ کے تعمیر کئے جانے کے بعد بھی بجلی کی قلت میںکوئی بھی کمی نہ آئی بلکہ ہر سال اس میںاضافہ ہی ہو تا گیا ۔صارفین نے عوامی سرکار کے ساتھ اب ایل جی انتظامیہ سے بارہا فریاد کی کہ بنیادی سہولیت بجلی کی دستیابی مناسب مقدار میںکی جائے ،خاص کر اہم اوقات میںبجلی کی سپلائی کو یقینی بنایا جا ئے ۔مگر سبھی نے یقین دہانی کر علاوہ زیادہ کچھ کرنے کی زحمت گوارا نہ کی ۔لیکن عوام کے زیادہ احتجاج کرنے پر سرکار نے بلواسطہ طور پر صارفین کو مورد الزام جان کر ا ن کو سبق سکھانے کی مہم چلائی جسے سمارٹ میٹرز کا نام دیا گیا جبکہ اس سے پانچ سال قبل ہی 14کروڑ روپے کے الیکٹرانک میٹرز کو ایک ہی جھٹکے میںمسترد کر کے سمارٹ میٹرز کی تنصیب کرنے پر ساری توجہ مبذول کردی ۔اس فیصلے کے پیچھے یہی راز کارفرما تھا کہ صارفین پرانے میٹروںکو بائی پاس کر کے بجلی کا زیاںکرتے ہیں۔یہ بار رہا بتایا گیا کہ بجلی کی کھپت اور جمع ہونے والے مالیہ میںزمین آسمان کا فرق ہے ،جب تک اس فرق کو کم نہ کیا جا ئے گا صارفین کو بجلی کی مناسب مقدار میں سپلائی ممکن نہ ہوگی ۔لیکن حقیقت یہ نہ تھی بلکہ صارفین بجلی کا بل باقاعدہ سرکاری خزانہ میںجمع کر اتے تھے ،ایسے صارفین جن کا تال میل افسران بالا سے تھا ۔وہ جان بوجھ کر بلوںکی ادائیگی کرنے میںتاخیری حربے آزماتے تھے ۔ سمارٹ میٹرز کی تنصیب کے ساتھ بجلی کی سپلائی میںانقلابی سدھار کا دن بھرا گیا ،اب ایک سال ہو نے کو ہے یہ انقلابی تبدیلی کہیںنظر نہیںآرہی ہے بلکہ بجلی کا حال وہی بے حال بنا ہوا ہے ۔بلکہ اس میںاور بگاڑ پیدا ہو ا ہے ۔لیکن انتظامیہ اس کا کوئی مناسب جواز پیش کرنے میںناکام رہی ہے ۔لیکن اس سب کے پیچھے سب سے بڑی سچائی کو ہمیشہ سے ہی چھپایا گیا ۔ذرائع کے مطابق عام صارفین کے پاس بجلی کے بقایا بل برائے نام ہیںجبکہ ایک خطہ کے سرکاری محکمہ جات جن میںمحکمہ بجلی سرفہرست ہے کے ساتھ محکمہ صحت ،کارخانہ دار ،ہسپتالوںو نین فوجی دستوںوغیرہ پر بجلی کا اجب کرایہ 95کروڑ روپے بیان کیا جا تا ہے جبکہ یہ صرف ایک خطہ کے دو ڈویژنوںکی حالت ہے ،۔یہی حالت کم و بیش جموںصوبہ میںبھی ہے ۔جہاںسرکاری دفاتر میںاور اعلی سرکاری بابوئوںکے ساتھ ڈیوٹی کرنے والوںکے ہاں بجلی کی زیاںکھلے عام کیا جا تا ہے ۔مگر کسی کی ہمت نہیںکہ ان کی جیب سے اس کا بل لیا جا ئے مگر عام صارف کو بلا کسی گناہ کے بدنامی کے ساتھ اس کو ہر دوسرے روز نصیحت کی جا تی ہے ۔جو پانی میںلاٹھی مارنے کے مترادف ہے ۔کیونکہ بجلی کا منصفانہ استعمال کیسے کیا جا ئے اور بلوںکی وصْولی میںکڑائی برتی جائے تاکہ اس کا صارفین کو فائدہ ملے ۔موجودہ صورت حال کو دیکھ کر یہ محاورہ