بھاجپا نے جموں کے عوام کے احساسات اور جذبات کا استحصال کیا: ڈاکٹر کمال

سری نگر//نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر کے مفادات اور آئین ہند کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی بحالی کیلئے اپنی جدوجہد جاری و ساری رکھے گی۔ ہماری جماعت اْس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک نہ جموں وکشمیر کے حقوق بحال نہیں کی جائیں گے۔ان باتوں کا اظہار پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے آج شیر کشمیر بھون جموںمیں پارٹی لیڈران کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کمال نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو یہ طرہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ یہ جماعت ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کی اپنی جماعت رہی ہے اور ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم جموں وکشمیر کی مذہبی آہنگی، انفرادیت، اجتماعیت اور کشمیریت کو برقرار رکھنے میں اپنا رول بخوبی نبھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے اور ایسے میں نیشنل کانفرنس پر جموں و کشمیر کو بحران سے باہر نکالنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس جماعت ہر سطح پر مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جموں و کشمیر کی شناخت، پہچان، علاقائی سالمیت اور جمہوریت پر ڈاکہ زنی کیخلاف آج بھی تینوں خطوں کے عوام میں غم و غصہ پایا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ دفعہ370اور 35اے کو یکطرفہ ، غیر آئینی اور غیر جمہوری طور پر منسوخ کرکے بھاجپا نے جموں وکشمیر میں جمہوریت کا جنازہ نکالا ،ایک تاریخی ریاست ، جس اپنا پرچم اور آئین تھا، کا درجہ کم کرکے مرکزی زیر انتظام علاقہ بنا ڈالا اور یہاں کے عوام کے حقوق سلب کئے۔جموں وکشمیر کو ملک کی سب سے مضبوط مقننہ کا اعزاز حاصل تھا، جس نے تاریخی زرعی اصلاحات جیسے اقدامات کرکے جموںوکشمیر کے عوام کی تقدیر بدل ڈالی اور بھاجپا نے اس کی تنزلہ لاکر اسے ملک کی سب سے کمزور ترین لیجسلیچر بنا ڈالی۔ تب سے لیکر آج تک یہاں تاناشاہی پر مبنی راج قائم ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ آج کی تاریخ میں وادی سے زیادہ جموں کی آبادی خود کو دھوکہ زدہ اور پشت بہ دیوار تصور کررہی ہے کیونکہ بھاجپا نے جموں کے عوام کے احساسات اور جذبات کا استحصال کیا۔ اْن کا کہنا تھا کہ جموں کی تجارت اور کاروباری سرما کے دوران جوبن پر ہوتا تھا اور ان مہینوں کے دوران یہاں کی معیشت کو زبردست اْچھال ملتا تھا لیکن بھاجپا کی سرکار نے جموں کے عوام کو اقتصادی بدحالی کے بھنور میں دھکیل دیا۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ بھاجپا ہر سطح پر ناکام ہوگئی ہے اور ہر خطے، طبقے، علاقے اور مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے بھاجپا کے اقدامات کو مسترد کیا ہے اورآج بھی اس کیخلاف سرا پا احتجاج ہیں۔ڈاکٹر کمال نے کہاکہ بھاجپا کو عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا اور عوام انہیں اپنی طاقت کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے