سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد، ویڈیوز، آڈیوز پوسٹ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی:آر آر سوین

جموں//جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ آر آر سوین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر، کسی بھی قسم کے ایسے ویڈیوز، ٹیکسٹ یا آڈیوز جو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے یا امن و قانون کی صورتحال میں خلل ڈالنے کے باعث ہوں، پوسٹ کرنے والوں کے خلاف تحت قانون سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایسے پوسٹوں کو شئیر کرنے والوں کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر پولیس کسی بھی شر پسند عنصر کو کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر پولیس حضرت محمد (ص) کی عزت و احترام کرتی ہے اورہم کسی بھی صورت میں آپ (ص) کے وقار کو ٹھیس نہیں پہنچنے دیں گے۔موصوف پولیس سربراہ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘کشمیر میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں ہم نے اس سلسلے میں پولیس کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ بات چیت کی ہے اور ایک نتیجے پر پہنچ گئے ہیں’۔ان کا کہنا تھا: ‘سی آر پی سی کی دفعہ 144 کے تحت ایک ایسا قانون لایا جائے گا جس کے تحت سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کے قابل اعتراض مواد ویڈیوز، آڈیوز جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ٹھیس پہنچانے، امن و قانون کی صورتحال میں خلل ڈالنے اور دہشت گردی اور علاحدگی پنسدی کو فروغ دینے کے باعث ہوں، کے خلاف تحت قانون سخت کارروائی انجام دی جائے گی’۔مسٹر سوین نے کہا کہ ایسے مواد کو شیئر کرنے والے کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔انہوں نے کہا: ‘اگر کسی کو کسی نے قابل اعتراض پوسٹ بھیج دیا تو اس کو چاہئے کہ وہ فوری طور نزدیکی پولیس اسٹیشن پر جا کر اس کو رپورٹ کریں بصورت دیگر اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی’۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی خود ایسے پوسٹ کو شیئر کرے گا تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی کیونکہ ایسا کرنے سے لوگوں کے دل مجروح ہوجاتے ہیں اور امن و قانون کی صورتحال میں خلل پڑ جاتا ہے۔موصوف ڈی جی پی نے کہا کہ جموں وکشمیر پولیس حضرت محمد (ص) کی عزت و احترام کرتی ہے۔انہوں نے کہا: ‘جموں وکشمیر پولیس کسی بھی شر پسند عنصر کو کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی’۔ان کا کہنا تھا: ‘ہم عوام س گذارش کرتے ہیں کہ وہ شر پسندوں کے مکروہ عزائم سے باخبر رہیں اور پولیس کو اپنی ذامہ داری نبھانے کے لئے تعاون فراہم کریں’۔مسٹر سوین نے کہا کہ مذہبی روا داری اور بھائی چارہ کشمیر کی شان ہے۔انہوں نے کہا: ‘کچھ لوگ سازش کرکے اپنی روٹی سینکنے کی کوشش کر رہے ہیں ہمیں ایسے سازشی عناصر سے ہوشیار رہنا چاہئے اور مذہبی روا داری کی ثقافت کو ختم نہیں ہونے دیا جانا چاہئے’۔ان کا کہنا تھا کہ این آئی ٹی معاملے میں پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کیا ہے اور اس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے جو نوجوان جموں وکشمیر سے باہر ملک کی دوسری ریاستوں میں قیام پذیر ہیں، ان کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔سیاسی جماعتوں کے متعلق پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں موصوف پولیس سر براہ نے کہا: ‘جموں وکشمیر پولیس قانون کی محافظ ہے قانون کے پہیے اس لحاظ سے چلیں گے کہ اگر کوئی خاص کارروائی جان بوجھ کر بد نیتی سے کی جائے جو پھر جانی نقصان، حملے یا املاک کے نقصان کا باعث بن جائے تو اس کے پیچھے کار فرما سیاسی جماعتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔