دفعہ 370کی منسوخی کیلئے بی جے پی اور کانگریس کاکردار یکساں

پنجابی کو سرکاری زبان کا درجہ دلانا پارٹی ایجنڈے میںسرفہرست :الطاف بخاری
اُڑان نیوز
جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس کو ایک ہی سکے کے دو پہلوقرار دیتے ہوئے اپنی پارٹی کے سربراہ نے کہاکہ کانگریس نے 370کو کھوکھلا کر دیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسے منسوخ کردیااور اس موقعے پرکانگریس کی خاموشی دید نہیں بھی ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر میں الیکشن کرانانہیں چاہتی ہے ملک کی مختلف ریاستوں میں بہت کچھ ہورہاہے جس کے طرف توجہ نہیں دیناچاہئے اور اپنے جموں وکشمیر کی طرف دیکھناہوگا۔ سٹیٹ ہڈ بحال ہوجائے تاکہ جموںو کشمیر کے لوگوں کاایک مطالبہ پوراہوسکے ۔جموں صوبہ میں عوامی رابطہ مہم جاری رکھتے ہوئے اپنی پارٹی کے صدر سیدالطاف بخاری نے زررائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی اور کانگریس کو اسکے کاایک ہی رُخ قرار دیتے ہوئے کہاکہ جب چار اگست 2019کو جموں وکشمیر کاخصوصی درجہ بی جے پی کی مرکزی سرکار نے منسوخ کردیاتب کانگریس نے ان کابھرپور ساتھ دے دیا ۔انہوںنے کہاکہ اپنی پارٹی نے جموںو کشمیرکے خصوصی درجے کومنسوخ کردیااور اسے اس قدر کھوکھلاکر دیاکہ اسکی افادیت ہی بے معنی ہو کررہ گئی تھی اپنی پارٹی کے صدر نے جموں وکشمیر کے عوام کو گوناں گو مسائب ومشکلات پیش ہونے کاعندیہ دیتے ہوئے کہاکہ بجلی کی عدم دستیابی نے صورتحال کوانتہائی سنگین بنادیاہے اور سرکار اب پانچ سومیگاواٹ بجلی خریدنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں ۔انہوںنے کہااگرعوامی حکومت ہوتی تو وہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوا کرتی ہے جموںو کشمیرمیں حکومت نہیں ہے او ربیروکریسی کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوا کرتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی فی الحال الیکشن کے موڑمیں نہیں ہے جسکے نتیجے میں لوگوں کو مشکلوں کاسامناکرنا پڑرہاہے ۔انہوںنے کہاکہ ملک کی کئی ریاستوں میں بہت کچھ ہورہاہے اور جموںو کشمیرکے عوام یاسیاسی پارٹیوں کواسکی طرف توجہ نہیں دینی چاہئے بلکہ جموںو کشمیرکودیناچاہئے یہاں کے لوگوں کے مشکلوںکا ازالہ کرنے کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت کوچاہئے کہ وہ وعدے کے مطابق سٹیٹ ہڈبحال کرے تاکہ لوگوں کے ذہنوں میںجوشکوک وشبہات پائے جاتے ہے ان کاازالہ ہوسکے ۔ انہوں نے کہاکہ پنجابی زبان کو جموں و کشمیر میں سرکاری زبانوں میں سے ایک تسلیم کرنا ان کی پارٹی کے اولین ایجنڈے میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ سکھ برادری کے مسائل پارٹی حل کرے گی اور کسی کو نمائندگی کے بغیر محرومی کاشکار نہیں ہونے دیاجائیگا۔پنجابی زبان کو سرکاری زبانوں کے طور پر تسلیم کرنے کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے سکھ برادری کے نئے آنے والوں اور دیگر رہنماؤں کو یقین دلایا کہ جموں و کشمیر میں پنجابی زبان کو سرکاری زبانوں میں سے ایک تسلیم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر میں ادب اور ثقافت میں زبان کی شراکت کو یاد کیا جس میں تاریخی آثار ہیں۔انہوں نے حکومت سے بھی اپیل کی کہ وہ ہر علاقے سے سکھ برادری کے ارکان کو قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی دے۔ انہوں نے کہا،’’اپنی پارٹی تمام برادریوں کو نمائندگی فراہم کرکے اور ان کے مسائل کو حل کرکے ان کی سماجی، معاشی اور سیاسی بہتری کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے‘‘۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو پنجابی زبان سکھائیں تاکہ دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کی خواہشات کے مطابق اسے زندہ کیا جا سکے۔