جموں وکشمیر میں پانچ سالہ تبدیلی غیر معمولی رہی:چیف سیکرٹری گڈ گورننس اَقدامات کے کیس سٹیڈیز کا کیا اجراء

اُڑان نیوز
سرینگر//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا اور سکریٹری مرکزی محکمہ ایڈمنسٹریٹیو ریفارمز اینڈ پبلک گریوینس وِ ی سری نواس نے آج جموں و کشمیر کے گڈ گورننس اَقدامات کے چار کیس سٹڈیز جاری کیں۔ان چار اقدامات میں بیک ٹو وِلیج، امپاورمنٹ (جن بھاگیداری) پورٹل، جموں و کشمیر بینک ۔ تبدیلی کی کہانی اور آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے کیس سٹڈیز کا آغاز کرتے ہوئے چیف گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ترقی کے سفر پر روشنی ڈالی اوراُنہوں نے کہا کہ تبدیلی غیر معمولی رہی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بغیر ٹینڈر سسٹم سے لے کرصد فیصد مکمل اِی۔ ٹینڈرنگ کے عمل تک کوئی چھوٹی تبدیلی نہیں ہے اورجس طرح لوگوں نے تبدیلی کو اَپنایا ہے وہ اِنتہائی قابل ستائش ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر میں 2019 ء کے بعد سے تبدیلی نے بنیادی طور پرجموںوکشمیر کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا ہے اور نظام کی شفافیت کے معاملے میں جموں و کشمیر کو شاید نمبر ایک ہونا چاہئے۔چیف سیکرٹری نے جموں و کشمیر بینک کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 2019 ء میں لوگ بینک کے بارے میں انتہائی شکوک و شبہات کا شکار تھے لیکن جلد ہی ، بینک ڈیجیٹل ادائیگی وں میں اہداف کو حاصل کرنے میں ملک کے سرفہرست چار بینکوں میں شامل ہوگیا۔اُنہوں نے کہا کہ جہاں تک ’ بیک ٹو وِلیج ‘ کا تعلق ہے یہ اسپریشنل پنچایت کی شکل اِختیار کر چکی ہے اور یہ خواہش مند پنچایت میں تبدیل ہو گیا ہے اور ایک پرابھاری ہے جو پورے سال اور اس سے بھی زیادہ عرصے کے لئے موجود ہے۔ڈاکٹرارون کمار مہتا نے کہاکہ گڈ گورننس کے معاملے میں جموں و کشمیر اَقدامات میں سب سے آگے رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر 1100 اَی ۔خدمات کو عبور کرنے والے ملک میں پہلا یوٹی ہے اور جس پر ہمیں واقعی فخر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر متعددسکیموںمیں جس میں ہم آزادی کا امرت مہااُتسو میں نمبر 1، نشا مکت ابھیان میں نمبر 2 اور امرت سروور میں نمبر 3 ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کئی اقدامات پر 1-5 کی رینکنگ پر رہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اگر اس سے بہتر نہیں تو ہم ٹاپ فائیو میں شامل رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ای ۔گورننس کے معاملے میں جموں و کشمیر کو کسی بھی پیمانہ پر کسی بھی ریاست یا یوٹی سے پیچھے نہیں رہنا چاہئے اور اُنہوں نے فسروں پر زور دیا کہ وہ اس عمل کو آگے بڑھائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہر کام میں ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے اور ٹیم کے مضبوط ستون ہونے پر افسران کا شکریہ ادا کیا۔وی سرینواس جنہوں نے وائس چانسلر کے ذریعہ کیس سٹڈیز جاری کیں ، نے کہا کہ ان کی ٹیم ان کیس سٹڈیز کو تمام یونیورسٹیوں ، سرکاری اداروں اور ریاستی حکومتوں تک پہنچانے کی منتظر ہے۔ اُنہوں نے چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا کا ملک کے لئے ان کی گراں قدر خدمات کے لئے شکریہ ادا کیا جس نے مرجموںوکشمیر یوٹی میں گورننس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات لائی ہیں۔پروفیسر اور ڈائریکٹر، سینٹر فار پبلک پالیسی گورننس اینڈ پرفارمنس ہرش شرما نے اس سے قبل چار اقدامات میں سے ہر ایک پر طریقہ کار، کلیدی عناصر، اثرات اور آگے بڑھنے کے راستے کے بارے میں تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔. اُنہوں نے کہا کہ بیک ٹو ولیج کا اثر ایسا ہے کہ پورے جموں و کشمیر میں 8110 لاکھ روپے (تقریباً) کی لاگت سے 4000 سے زیادہ کام مکمل ہوچکے ہیں اور 4291 پنچایتوں کی سیچوریشن کوریج حاصل کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فلاحی سکیموں (جل جیون مشن وغیرہ) میں ہونے والی پیش رفت کو حاصل کرنے کے لئے ایک فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیک ٹو وِلیج کا پانچواں مرحلے کی عمل آوری میں مدد دینے کے لیے تربیتی ماڈیولز کی ترقی پر توجہ دی جانی چاہیے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ امپاورمنٹ پورٹل شہریوں کو تفصیلی معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ان کاموںاورپروجیکٹوں کی نگرانی کر سکیں جو عمل میں آ رہے ہیں اور شہریوں کو کام کے معیار اور رفتار کے بارے میں اَپنی رائے دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔جنب بھاگیداری کا اثر اس طرح رہا ہے کہ مکمل کئے گئے کاموں کی تعداد 2018-19ء میں تقریباً 9,200 سے بڑھ کر-21 2020ء میں 21,943 ہو گئی اور 2021-22ء میں 50,000 سے زیادہ ہو گئی اور عوام کی طرف سے بہتر نگرانی کی وجہ سے عملدرآمد کی لاگت میں 20۔30 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔اُنہوں نے جے کے بینک کی تبدیلی کی تبدیلی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مالی برس 2022-23ء کے لئے 1,197.38 کروڑ روپے کا سالانہ خالص منافع درج کیا ہے جس میں سالانہ 139 فیصد اضافہ ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ 31 ؍مارچ 2023 ء تک بینک کا کل کاروبار 9.40 فیصد اضافے کے ساتھ 2,12,666 کروڑ روپے تھا۔اُنہوں نے اے بی ۔ پی ایم جے اے وائی کے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جموںوکشمیر ملک کا پہلا یوٹی ہے جس نے اپنی پوری آبادی کو بیمہ کیا ہے اور 26 لاکھ (تقریباً) مستفیدین کو اے بی ۔ پی ایم جے اے وائی کے تحت لایا گیا ہے ۔یہ بتایا گیا کہ 81 فیصد مستفید کنبوں کے پاس اے بی ۔ پی ایم جے اے وائی میں کم از کم ایک ای کارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں شکایات کا 100 فیصد ازالہ ہے ۔