کولگام تصادم میں پانچ مقامی ملی ٹینٹ مارے گئے، مہلوکین غیر مقامی مزدوروں پر ہوئے حملوں میں براہ راست ملوث تھے: پولیس

سری نگر//جنوبی ضلع کولگام کے سامنو علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین خونین تصادم آرائی میں پانچ مقامی ملی ٹینٹ مارئے گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مہلوکین عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اورغیر مقامی مزدوروں پرہوئے حملوں میں براہ راست ملوث تھے اور یہ کہ وہ سیکورٹی فورسز کو متعدد کیسوں میں انتہائی مطلوب تھے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جمعرات کی سہ پہر سیکورٹی فورسز کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ کولگام کے سامنو گاوں میں نصف درجن کے قریب ملی ٹینٹ چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس ، فوج اور سی آر پی ایف نے مشترکہ طورپر گاوں کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔انہوں نے بتایا کہ جوں ہی سلامتی عملے کے اہلکار مشتبہ رہائشی مکان کے نزدیک پہنچے تو وہاں پر موجود دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی چنانچہ سیکورٹی فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس دوران شدیدگولیوں کا تبادلہ شروع ہوا۔انہوں نے مزید بتایا کہ جمعرات شام آٹھ بجے تک سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین دوبدو گولیوں کا تبادلہ جاری رہا جس کے بعد فورسز نے پورے علاقے میں چار دائروں والی سیکورٹی تعینات کی تاکہ ملی ٹینٹوں کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہ ہو سکا۔ان کے مطابق جمعے کی صبح ملی ٹینٹوں اور فورسز کے مابین پھر گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا اور بعد ازاں فورسز کی جوابی کارروائی میں پانچ ملی ٹینٹ مارے گئے۔ذرائع نے بتایا کہ رہائشی مکان میں محصور ملی ٹینٹوں کو خود سپردگی کرنے کا بھی بھر پور موقع فراہم کیا گیا تاہم دہشت گردوں نے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جس کے بعد فورسز نے مکان کو بارودی مواد سے اڑا دیا۔پولیس نے مارے گئے ملی ٹینٹوں کی شناخت یاسر بلال بٹ عرف ہمیس ولد بلالا حمد بٹ ساکن کے جی رینہ وانپوہ کولگام ، دانش حمید ٹھوکر ولد عبدالحمید ، عبید احمد پڈر ولد ولی محمد پڈر ساکنان چکورہ شوپیاں ، سمیر فاروق شیخ ولد فاروق احمد شیخ ساکن چیک چھولن شوپیاں اور ہانزل یعقوب شاہ عرف ہانزلہ ولد یعقوب شاہ ساکن راولپورہ شوپیاں کے بطور ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مہلوک ملی ٹینٹ لشکر طیبہ (ٹی آر ایف) سے وابستہ تھے۔پولیس ریکارڈ کے مطا بق مہلوک ملی ٹینٹ سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں براہ راست ملوث تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مارے گئے دہشت گرد عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں بھی پیش پیش تھے۔موصوف ترجمان نے مزید بتایا کہ مہلوک دہشت گرد سمیر فاروق اور دانش حمید شوپیاں میں کشمیری پنڈت سونو بٹ ساکن چھوٹی گام کے قتل میں ملوث رہے ہیں۔ان کے مطابق دانش حمید نے ہانزل یعقوب شاہ کے ساتھ مل کر 13جولائی 2023کے روز گاگرن شوپیاں میں تین غیر مقامی مزدوروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں مزدور شدید طورپر زخمی ہوئے تھے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق مہلوک ملی ٹینٹ سمیر فاروق شیخ جنوبی کشمیر میں مقامی نوجوانوں کو ملی ٹینٹ صفوں میں شامل کرانے میں بھی پیش پیش تھا۔علاوہ ازیں ہیر پورہ بٹہ گنڈ شوپیاں میں اسی نے اقلیتی پکٹ پر حملہ کیا تھا۔تصادم کی جگہ چار اے کے رائفلیں، چار گرینیڈ ، دو پستول اور دوسرا قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔دریں اثنا پولیس نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک کہ اسے صاف قرار نہ دیا جائے۔