ہونا تو یہ چاہئے تھا

بیک ٹو ولیج کا پانچواںدور ان دنوںپوری یوٹی میںدھوم دھام و دھماکے کے ساتھ چل رہا ہے ۔جس میںضلع ترقیاتی کمشنران سمیت تمام ضلع کے افسران کے ساتھ متعدد مختلف محکمہ جات کے اہلکاران شامل ہو تے ہیںجبکہ گائوںکے معززین و مقامی لوگوںکی بھاری تعداد ان پروگراموں میںشرکت کرتی ہے ۔بیک ٹو ولیج کا مطلب گائوںکی طرف چلو یعنی گائوںکی سدھ بدھ لی جائے ،گاوئوںکو بھی شہروںکے برابر ترقی میںجگہ دی جائے ،کیونکہ ہر سرکار شہروںکی ترقی و شہری عام کو سہولیات دستیاب کروانے پر اپنی توجہ مرکوز کر تی رہی ہے ۔اس لئے سرکار کی جانب سے گائوںکی طرف توجہ دینے کے پروگرام کی سراہنا کی جانی چاہئے ۔کیونکہ دہی علاقہ جات کے لوگ بھی ہمارے بھائی ہیں۔ان کو بھی طبی سہولیات ،سڑک رابطے ،تعلیم میںآگے لے جانے کیلئے سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ بنیادی سہولیات بجلی و صاف پانی کی دستیابی کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات فراہم کروانا سرکار کا فرض بن جاتا ہے ،بیک ٹو ولیج کا مطلب کہ ہم نے اس ضمن میںچار مراحل عمل میںلائے ہیں،اب ہم نے پانچواںمرحلہ شروع کر دیا ہے ۔تو بھلا ہو تا کہ ہم بیک ٹو ولیج کے چار مراحل کا احاطہ کر تے ۔یہ دیکھتے کہ ان پروگراموںکے دوران عوام نے کیا کیا معاملات ابھارے ،کیا ان کو پورا کیا گیا ،جن کا وعدہ کیا گیا ان کو کس قدر وفا کیا گیا ۔کیونکہ سننے میںآیا ہے کہ بیک ٹو ولیج کے ماضی کے مراحل میںجو یقین دہانی جو وعدے پورے کئے گئے تھے ان میںسے بہت سارے ابھی تک پورے نہ ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ ان پروگراموںپر عوامی ٹیکس کو بھاری روپیہ صرف ہو تا ہے ۔ہماری سرکار نے حال ہی میںاینٹی کورپشن پندرھواڑہ منایا ،ملازمین کو ایمانداری و کورپشن کو نا کہنے کا حلف دلایا گیا ،تو کیا ایسے پروگراموںمیںشفافیت لازمی نہیںہے ۔ایسے میںلازم ہو تا ہے کہ بیک ٹو ولیج کے دوران جو جو مسائل ابھارے گئے ،جن معاملات کو حل کیا جانا لازم ہو جاتا ہے ۔ان کو کیا پورا کیا گیا ۔بیک ٹو ولیج پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے ضلع ہیڈز کو پیمانہ مقرر کرنا چاہئے ،کیونکہ ابھی تک کے بیک ٹو ولیج کے چار مراحل کی کارکردگی عوام کی توقعات کے مطابق نہیںرہی ہے ۔ایسے میںپروگراموںسے گائوںکی عوام کو تبھی فائدہ ہو گا جب افسران کی جوابدہی طے کی جائے ،۔جس کا ابھی تک فقدان رہا ہے ۔امید کی جاتی ہے پروگراموںکو عوام کی توقعات کے مطابق ڈھالنے کے لئے اقدامات کئے جائیںگے ۔یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آج بھی ایجوکیشن کے معاملات میںگائووںکی حالت قابل رحم ہے ،سڑک رابطے و طبی سہولیات و بجلی کی زبردست قلت کے ساتھ پینے کے صاف پانی کا فقدان دیکھا جا رہا ہے ۔جبکہ دوسری سہولیات میںبھی خاطر خواہ سہولیات نہیںہو ا ہے ۔اس لئے سرکار کو اس جانب فوری توجہ دینی چاہئے تاکہ عوام کا اعتماد ان پروگراموںپر برقرار رہے ۔