اڑائی کی خستہ حال سڑک کسی حادثے کا سبب نہ بن جائے

نثار گنائی//اڑائی منڈی پونچھ
بدھ کے روز ڈوڈہ میں جس طرح سے بس حادثہ پیش آیا وہ بہت ہی افسوس ناک اور دل کو دہلا دینے والا ہے۔لیکن یوٹی جموں کشمیر میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔اس سے قبل اسی سال 30مئی کو جموں میں ہوئے حادثہ میں 10افراد ہلاک اور 57زخمی ہو گئے تھے۔14ستمبر 2022کوپونچھ میں ہوئے حادثہ میں 11 افراد ہلاک اور 29زخمی ہو گئے تھے۔جبکہ یکم جولائی 2019کو کشتواڑ أسرگواری علاقہ میں ہوئے حادثہ میں 35افراد ہلاک اور 17زخمی ہو گئے تھے۔وہیں 6اکتوبر 2018کو رامبن،کیلا موڑ پر ہوئے بس حادثہ میں 21افراد ہلاک اور 15زخمی ہو گئے تھے۔یہ وہ بڑے حادثات کی لسٹ ہے جو اخباروں کی سرخیاں بنتی ہیں۔ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے حادثہ تقرباً روز ہوتے رہتے ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس طرح کے حادثہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟اس میں کس کی غلطی ہے؟ کون ہے اس کا اصل ذمہ دار؟ دراصل اس کے پیچھے بہت ساری وجوہات کارفرما ہیں۔ایک طرف جہاں ڈراؤرحضرات ذمہ دارمانے جا سکتے ہیں تو وہیں دوسری جانب انتظامہ کی لاپرواہی بھی کم کسوروار نہیں ہے۔اگر ڈراؤر تیز رفتارسے گاڑی چلاتے ہیں تو کئی ایسے علاقہ ہیں جہاں سڑکوں کی خستہ حالت کی وجہ سے حادثے پیش آتے ہیں۔ملک میں جہاں سڑکوں کے جال بچھاکر تمام دیہی علاقوں کو شہروں کے ساتھ جوڑنے اور پرانی سڑکوں کی مزید توسیع کرنے کے کام شد و مد سے جاری و ساری ہیں۔جموں وکشمیر کا خطہ پیر پنچال اور اس کے دیہی علاقوں میں سڑکوں کی حالت بجاے بہتری کے دن بدن خستہ حالی اور بد حالی عوام الناس کے لئے باعث تشویش بنی ہوئی ہے۔
اگر چہ دیہی علاقوں میں بے دریغ زمینوں کی کٹائی کرکے بلاسوچے سمجھے بغیر کسی سروے کے سڑکوں کے نام پر زمینوں کی بربادی کردی گئی ہے۔ نہ ہی سڑکیں اور نہ یہ زمین ہی عوام کے کام کی رہی ہے۔ سڑکوں کے نام پرزمینوں کی کٹائی کے وقت سادہ لوح عوام کو بڑے بڑے خواب دیکھاے جاتے ہیں اور چند عوامی نما ئیدگان جو حقیقت میں دیہی عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوے علاقع کی ترقی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ پھر بھی جن کی کاوشوں اور محنتوں سے درپیش مسائل پر عمل آوری ہوتے ہوتے سالوں نہیں بلکہ کئی دہائیاں گزر جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ نہ ہی سڑکیں نہ زمین ہی باقی رہتی ہے۔ بلکہ اس زمین کی کٹائی پر متعدد بار سڑک حادثات سے انسانی جانوں کے زیاں کا اندیشہ بنارہتاہے۔ خطہ پیر پنچال کا سرحدی ضلع پونچھ جس جس کی تحصیل منڈی جو 90فیصدی پہاڑی علاقع پر محیط ہے۔ ایسی ہی ایک مثال اڑائی گاؤں کی ہے۔ یہ گاؤں سرحدی ضلع پونچھ کے تحصیل منڈی سے 7 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ جو خوبصورت پہاڑوں اور دلکش نظاروں میں اپنی مثال آپ ہے۔ طوطی جبی اور راہ والا جیسے صحت افزہ مقامات گاؤں اڑائی کی خوبصورتی کو مزید نکھارنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے یہ گاؤں سڑک جیسی بنیادی سہولیت سے دوچار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کچھ دہائیوں پہلے اڑائی کٹھہ سے اس سڑک کا کام شروع کیا گیا تھا جو آج تک پائے تکمیل تک نہیں پہنچا ہے۔ اڑائی کٹھہ سے اڑائی محلہ شیخاں تک جو سڑک بنائی گئی ہے وہ اپنے اصل سروے کے سے کئی فٹ دُور نالے کے بالکل قریب پر بنائی گئی ہے۔ جو ہر سال موسمی خرابی اور دریا میں طغیانی آنے کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہے اور عوام کے لیے پریشانیوں کا باعث بنی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ اڑائی گاؤں میں طبعی سنٹر کی کمی ہے۔ اگر رات کے اوقات میں کوئی شخص بیمار ہوجاتا ہے تو اس سے منڈی ہسپتال تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس معاملے میں مقامی بس ڈرائیور مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ اڑائی کٹھہ سے محلہ شیخاں تک چار کلومیٹر سڑک کی حالت انتہائی خستہ ہے۔اس پر جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں جہاں گاڑی چلانا کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔ رواں سال گزشتہ دنوں میں ہوئی طوفانی بارشوں کی وجہ سے رابطہ سڑک مختلف جگہوں سے تباہ ہو گئی تھی تاہم اس کی مرمت کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ مشتاق احمد اور ان کے ہمراہ دیگر ڈرائیوروں نے بتایا کہ کچھ مقامات پر سواریوں کو گاڑی سے نیچے اتر کر کچڑ اور کھڈوں سے گاڑی کو دھکیل کر نکالنا پڑتا ہے جو عام لوگوں اور ڈرائیوروں کے لیے کسی مصیبت سے کم نہ ہے۔اس تعلق سے سماجی کارکن شکیل احمد پرے نے کہا کہ اڑائی ایک پسماندہ علاقہ ہے یہاں کے لوگ انہی پہاڑیوں پر اپنی زندگی کی گزر بسر کرتے ہیں۔ سال 2014 میں بادل پھٹنے سے سڑک کا کافی حصہ بہہ گیا تھا جس کے بعد PMGSY کے زیراہتمام اڑائی کٹھہ تا محلہ شیخاں سڑک کا مرمتی کام شروع کیا گیا تھا جو آج تک نامکمل ہے۔ اگرچہ بارہا انتظامیہ کی نوٹس میں یہ معاملہ لایا گیا مگر سڑک کی خستہ حالی کے جانب کسی نے بھی توجہ نہ دی جس کی وجہ سے شدید بارشوں اور نالے کے پانی کے تیز بہاؤ نے اس سڑک کو بالکل ناکارہ بنا دیا ہے۔ ہر سال سڑک پر ڈنگے لگانے کے لیے مٹیریل ڈال کر عوام کی آنکھوں میں دھول جونکی جاتی ہے جو سڑک پر ہی پڑے پڑے خراب ہو جاتی ہے۔ وہیں سرپنچ محمد اسلم تانترے نے بتایا کہ اڑائی سے چند کلومیٹر کی دوری پر جبی طوطی کا سیاحتی مقام ہے۔ جہاں اکثر موسم گرما میں سیاحوں کی آہوجائی لگی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ پیر سید ھدایت شاہ غازی و پیر سید بہادر شاہ ظفر رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت بھی ہے جہاں ہر سال مقامی ضلع پونچھ و مضافات سے زائرین آتے ہیں۔مگر آغاز سے تین کلومیٹر سڑک اڑائی کٹھہ تا شیخاں کی حالت خستہ ہونے کی وجہ سے انہیں طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہاں آنے والے سیاحوں کو سڑک کی خستہ حالی کی وجہ سے یہاں آنے کے بعد پچھتانا پڑتا ہے۔اور جو ایک بار آتاہے۔ دوسری بارانے کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتا۔ کیونکہ ان لوگوں کو گھنٹوں کی دلخراش مسافت قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کیلئے طے کرنا پڑتی ہے۔ اور یہاں کا ترقیاتی منظر نامہ و سڑک کی خستہ حالی دیکھنے کے بعد پچھتاوا ہوتا ہے۔ انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقع تین پنچایتوں پر مشتمل ہے۔ جس کی پندرہ ہزار سے زائد آبادی ہے۔ اب انتظامیہ اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ کب اس سڑک پر کوئی بڑا حادثہ ہو تب انتظامیہ حرکت میں آئے گی اور سڑک کا مرمتی کام شروع کیا جائے گا۔
ایک مقامی ظفر اقبال کہتے ہیں کہ آج کے دور میں جہاں مہنگائی اپنے عروج پر ہے اور روزگار کے دروازے بھی بند ہیں۔ وہیں ٹرانسپورٹ اور تجارت ہی ایسے ذرائع ہیں جہاں سے بے روزگار نوجوان اپنی روزی روٹی میسر کر سکتا ہے۔ مگر یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب علاقے کی سڑک اچھی ہوگی۔ کسی علاقے یا خطے میں انسان جانا پسند نہیں کرتا جہاں کے لئے رابطہ سڑک میسر نہیں ہوتی یے۔ انہوں نے کہا کہ تحصیل منڈی سے ہائرسکینڈری اسکول اڑائی تک کی رابطہ سڑک گزشتہ کئی سالوں سے خستہ حالی اشکار ہے جس سے عام شہریوں، سرکاری ملازمین اور تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو وقت پر پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ سرکار کی جانب سے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں۔ مگر عملی طور پر دیہی علاقوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع پونچھ کے دیگر علاقوں کی عوام بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے اور مجبوری کی بناپر اؤورلوڈنگ بھی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ چونکہ ان دُوردراز علاقوں میں ٹریفک کی آمدورفت پر قریب سے نگاہ رکھنا اور قدم قدم پر ٹریفک عملہ تعینات کرنا ممکن نہیں اس کا براہ راست بلکہ ناجائز فائدہ ٹرانسپورٹر اور ڈرائیور اٹھا رہے ہیں۔ اورلوڈنگ کی وبا ان کا روز کا معمول بن چکی ہے اور پرانی اور انجر پنجر روزانہ والی گاڑیوں کو دشوار گزار سڑکوں پر دوڑانا ان کی فطرت ثانی بن چکی ہے۔
وہیں اڑائی ملکاں سے تعلق رکھنے والے سرپنچ محمد اسلم ملک نے بتایا کہ اڑائی سڑک اپنے اصل سروے سے کئی فٹ دُور دریا کے بالکل قریب جگہ ہموار کر کے تارکول بچھائی گئی تھی۔ جو اکثر برسات کے ایام میں نظرآب ہو جاتی ہے۔ 2014کے سیلاب میں تو یہ پوری طرح بہہ گئی تھی۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مقامی انتظامیہ یہاں کی زمینی صورتحال سے بخوبی واقف ہے۔چونکہ یہاں کے سرپنچ صاحبان و دیگر سماجی کارکنان اکثر اس معاملے کو متعلقہ محکمہ کے اعلٰی آفیسران کی سامنے پیش کرتے رہے ہیں۔ لیکن نہ جانے کن وجوہات کی بناء پراس طرف عدم توجہی اور لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔وقت کی اہم ضرورت تو یہ ہیکہ اڑائی کٹھا تا محلہ شیخاں روڈ کو اس کے اصل سروے کے مطابق تعمیر کیاجاے۔تاکہ آغاز سے اچھی ہوئی تو منزل مقصود بھی اچھاہوگا۔ بلاک ترقیاتی کونسل ممبر شمیم احمد گنائی کا کہناتھاکہ ہر بار ضلع ترقیاتی کمشنر سے رجوع کیاجاتاہے۔لیکن کوئی خاطر خواں نتیجہ نہیں نکلتا۔ محکمہ کے پاس اتنی رقم نہیں جتنی اس کے کام پر لگ رہی ہے۔،ضلع ترقیاتی کونسل ممبر اور محکمہ سے رابطہ کرنے کی از حد کوشش کی گئی تاہم انہیں کہا فرصت ہے اس غریب عوام آواز یا بات سننے کی؟ تبھی تو عوام کا بھی یہ سوال ہیکہ جب آغاز نہیں تو منزل تک کیسے پہونچاجایگا؟حقیقت میں 2006سے قبل اڑائی کٹھہ میں ایک مشین اس وقت ایاکرتی تھی۔جب انتخابات آتے تھے۔ لیکن جب انتخابات ختم ہوتے تو مشین بیلٹ بکس کے ساتھ واپس چلی جاتی تھی۔ شائید اڑائی کٹھہ کی سڑک کسی مفاد پرستی کا شکار بن چکی ہے۔ اگر اس جانب غور نہیں کیا گیا تو ڈوڈہ جیسا کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے۔ کیا کسی حادثہ کے بعد انتظامہ کو ہوش آئے گا؟