عوام کو جاننے کا حق حاصل

مرکزی سرکار ہو یا ملک کی تمام ریاستی سرکاریںہر ایک سرکار ایمانداری و صاف شفاف سرکار کا دم بھرتی ہیں۔لیکن ایک امر جو عوام میںتشویش کا باعث بنا ہوا ہے وہ ہے سیاسی پارٹیوںکو دیا جا نے والا چندہ ۔جس کے بارے سوائے ایک پارٹی کے باقی تمام آمدنی مخفف رکھتے چلے آرہے ہیں،عوام کا کہنا ہے کہ اگر ایمانداری کا پاٹھ ہر ایک کو پڑھایا جا تا ہے تو خود کو بھی صاف و شفاف دکھنا لازمی ہو جاتا ہے ۔عوام کا کہنا ہے کہ اگر وہ اپنے بینک کھاتے میںایک لاکھ روپے جمع کراتے ہیںتو اس اکونٹ پر نگاہ رکھی جاتی ہے اور بعض اوقات باز پرس بھی کی جاتی ہے ۔ایسا ہونا عوام کے مفاد میںہے لیکن سو ٹکے کا سوال ہے کہ سیاسی پارٹیوںکو ملنے والے چندہ کا سورس کیا ہے،۔چندہ دینے والوںکے نام اور رقومات کا خفیہ رکھا جانا کئی سوال کھڑے کرتا ہے ،یہ لازم ہے کہ جو بھی کام اندر اندر سے کیا جا ئے گا اس پر شک و شکوک پائے جانے لازمی ہیں۔لیکن ملک کی آزادی کے 76سال میںکسی بھی بڑی پارٹی نے ان کو ملنے والے چندے کی تفصیل آن لائن نہ کی ۔بلکہ اس معاملے میںہر ایک پارٹی ننگی ہے ۔بارہا یہ سوال ابھرتا رہا لیکن کسی بھی پارٹی نے اس کو سنجیدگی سے نہ لیا ۔ہو سکتا ہے کہ چندہ دینے والا غلط قسم کی رقوم دیتا ہوگا ۔چندے کا صاف و شفاف ہونا لازمی ہو جاتا ہے کیونکہ حزب اقتدار یا حزب اختلاف کو چندہ دینے والا کا سورس کیا ہے ،کیا یہ سفید روپیہ ہے یا یہ بلیک منی تو نہیںہے،۔اس چندے کو ادا کرنے والے کی نیت کا علم ہو سکتا ہے ،الیکشن کے بعد چندہ دینے والا کا کردار کیا رہا ۔اس چندے کو کہاں استعمال کیا گیا ۔کیونکہ سیاسی پارٹیوںپر ایک دوسرے کو توڑنے کے سنگین الزامات لگائے جاتے ہیں،جن میںبھاری رقوم صرف ہو نے کا احتمال ہو تا ہے ۔ایک صاف ستھری سرکار پر لازم ہو تا ہے کہ وہ خود سے اس کا م کو شروع کر ے تاکہ دوسری جماعتوںپر اس کا دبائو پڑے یا اس بارے بل لایا جا ئے تاکہ ہر جگہ شفافیت دکھائی دے ،عوام میںیہ بھی چہہ مگوئیاںہو رہی ہیںکہ غریب و سادہ لوگ و عام لوگوںکو درس یا پاٹھ تو ایمانداری دیانتداری کا پڑھایا جا تا ہے لیکن خود کو اس زمرے سے باہر رکھنا کیا جائز ہے ۔ملک میںسیاسی جماعتوںکی آمدنی کیا ہے ،اس کا استعمال کہاںہو تا ہے ،اس بارے دیش واسیوںکو جاننے کا حق ہے ۔جس دیش میںایمانداری کا علم جتنا بلند ہو گا ،اتنا ہی یہ ملک ترقی کرسکتا ہے ،جہاںشفافیت و ایما نداری کا فقدان ہو گا ،وہا ں انارکی پیدا ہو نا قدرتی ہے ،ایسا ہی کچھ ہمارے ہمسایہ ملک میںہو رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔