مدھیہ پردیش میں ہے ملک کی سب سے بدعنوان حکومت، یہاں سرکاری ایجنسیاں چھاپہ نہیں مارتیں: راہل گاندھی

کانگریس کے سرکردہ لیڈر راہل گاندھی نے انتخابی ریاستوں میں لگاتار پارٹی امیدواروں کے حق میں تشہیری مہم چلا رہے ہیں۔ آج وہ مدھیہ پردیش کے بھوپال پہنچے جہاں روڈ شو کے ساتھ ساتھ نکڑ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔ راہل گاندھی نے اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکز کی بی جے پی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک میں سب سے بدعنوان حکومت مدھیہ پردیش میں ہے۔ یہاں وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ان کے وزیر گھوٹالے کرتے ہیں، لیکن مودی جی کو یہ دکھائی نہیں دیتا۔ ان گھوٹالے باز وزراء کے یہاں سی بی آئی، ای ڈی یا انکم ٹیکس کی چھاپہ ماری نہیں ہوتی۔‘‘

روڈ شو کے دوران بدھوارا میں راہل گاندھی نے ایک بار پھر نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ نفرت نہیں بلکہ محبت کرنے والوں کا ملک ہے۔ راہل گاندھی کہتے ہیں ’’میں نے بھارت جوڑو یاترا کے دوران کہا تھا کہ میں نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے آیا ہوں۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں ’’اڈانی-امبانی تو مودی کے دوست ہیں۔ ایئرپورٹ، پورٹ، انفراسٹرکچر کے کام، زرعی اسٹوریج کے کام، ہماچل میں سیب سے جڑے کام، سبھی اڈانی کو ہی ملتے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت جہاں بھی ہوتی ہے، یہ دو تین صنعت کار ہی کام کرتے ہیں۔ یہ سارا پیسہ عوام کے ذریعہ ادا کیے گئے ٹیکس سے حاصل ہوتا ہے۔ حکومت کسان، دکاندار، کاروباری اور بے روزگاروں کی جیب سے پیسہ نکال کر ان کی (چنندہ صنعت کاروں کی) جیب میں ڈال دیتی ہے۔‘‘

روڈ شو کے دوران ایک دیگر مقام پر راہل گاندھی نے کہا کہ ’’کچھ لوگ کہتے تھے کہ ہم بی جے پی سے کرناٹک میں لڑے۔ کرناٹک میں بی جے پی لیڈران کہتے تھے کہ بی جے پی جیتے گی، لیکن کانگریس نے انھیں شکست دی۔ ہماچل میں ہرایا بھی ہرایا، اور اب مدھیہ پردیش میں 150 سے زیادہ سیٹ لے کر انھیں ہرانے جا رہے ہیں۔ یہاں حکومت نے بدعنوانی کے سبھی ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ بی جے پی کے وزیر اعلیٰ اور وزراء بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ مہاکال کوریڈور، مڈ ڈے میل، ویاپم جیسا گھوٹالہ کیا، اس سے ایک کروڑ نوجوانوں کو نقصان پہنچا، 40 لوگ ہلاک ہو گئے، لیکن کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔ پٹواری گھوٹالہ بھی کیا۔ یہاں تو ایم بی بی ایس کی سیٹ بھی فروخت ہوتی ہے۔ لیکن نریندر مودی جی شیوراج حکومت کی کوئی جانچ نہیں کرتے۔‘‘