جموں وکشمیر میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات

سری نگر؍؍جموں وکشمیر میں حالیہ ملی ٹینٹ حملوں کے پیش نظر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔بتادیں کہ کشمیر میں حالیہ حملوں اور سدھرا جموں میں آئی ای ڈی کو ناکارہ بنانے کے بعد اتوار کے روز دونوں صوبوں میں ناکوں کا جال بچھایا گیا اور کسی کو بھی بغیر تلاشی کے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار نے اتوارکے روز شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے بتایا کہ شہر کے تمام علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور ناکوں کے جال کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جنگی ساز و سامان سے لیس سیکورٹی اہلکار انتہائی چوکنا ہیں۔موصوف نامہ نگار نے بتایا کہ ناکوں پر مسافر بردار گاڑیوں کی بھی تلاشی لی جاتی ہے اور ان میں سوار مسافروں کی بھی جامہ تلاشی اور ان کے شناختی کارڈ بھی چیک کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کئی مقامات پر راہگیروں کو بھی روک کر ان کی تلاشی اور شناختی کارڈ چیک کئے جاتے ہیں۔نامہ نگار نے بتایا کہ سیول لائنز اور پائین شہر میں اہم چوراہوں پر لگے ناکوں پر گاڑیوں، راہگیروں خاص کر موٹر سائیکل سواروں کو روکا جا رہا ہے اور ان کی جامہ تلاشی اور شناختی کارڈوں کی چیکنگ کی جا رہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ عید گاہ میں پولیس آفیسر پر حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے متعدد افراد کو پوچھ تاچھ کی خاطر گرفتار کیا ہے۔دریں اثنا جموں سدھرا قومی شاہراہ پر سنیچر کی شام کو آئی ای ڈی کی برآمدگی کے بعداہم شاہراوں پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی بڑھائی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اتوار کے روز جموں سری نگر شاہراہ ، سدھرا جموں شاہراہ پر جگہ جگہ پر ناکے لگائے گئے جہاں پر گاڑیوں کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ جموں صوبے میں سیکورٹی فورسز کو مستعد رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں