ماہرین ماحولیات کرہ ارض پر ریکارڈ انتہائی درجوں کے تئیں فکرمند

سڈنی// ماحولیات کے سائنس دانوں کی عالمی ٹیم نے ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کرہ ارض پر زندگی خطرے میں ہے۔ ماہرین کی ٹیم نے کہا کہ سیارے کی 35 اہم علامات میں سے 20 کی نشاندہی اپنے ریکارڈ انتہائی درجوں پر کی گئی ہے۔بائیو سائنس جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح جاری انسانی سرگرمیوں سے زمین پر غیر معمولی اثرات پیدا ہوئے ہیں۔رپورٹ کے بنیادی اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں کوئلے کی سالانہ کھپت 161.5 ایکساجول کی کل وقتی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔2022 اور 2023 کے درمیان سمندر کی تیزابیت، گلیشیئر کی موٹائی اور گرین لینڈ کی برف کی سطح ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئی، جب کہ سطح سمندر 20 سالہ اوسط کے موازنے میں 58.1 ملی میٹر کی اب تک کی کل وقتی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔تحقیقی ٹیم نے استدلال کیا کہ کرہ ارض کی آب و ہوا ‘نامعلوم دائرے’ میں منتقل ہو رہی ہے، جس کا انسانیت کی تاریخ میں کسی نے براہ راست مشاہدہ نہیں کیا ہے۔ 2023 میں آب و ہوا کے کئی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں، جس سے شدید موسم کے خطرے کے حوالے سے بے چینی بڑھ رہی ہے۔