اقتدار میں آنے پر دربار مو کی روایت کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کریں گے: سید محمد الطاف بخاری

سری نگر//جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد اطاف بخاری کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی اقتدار میں آنے پر دربار مو کی قدیم روایت کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کے ‘دربار مو’ کی روایت ختم کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کے مطالبے کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار منگل کو ‘ایکس’ پر اپنے پوسٹ میں کیا۔انہوں نے کہا: ‘جموں وکشمیر اپنی پارٹی عوام کے اس جائز مطالبے کی بھر پور حمایت کرتی ہے جس میں ‘دربار مو’ کے فیصلے کو واپس لینے کی مانگ کی جا رہی ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘یہ بات ریکارڈ کی جائے کہ اپنی پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر لے گی’۔بتادیں کہ جموں و کشمیر کی موجودہ انتظامیہ نے سال 2021 میں قریب 150 برس قدیم در بار مو کی روایت کو ختم کیا تھا۔ اس ششماہی دربار مو روایت کے تحت گرمیوں میں دفاتر گرمائی دارلحکومت سری نگر میں ہوتے تھے جبکہ سردیوں میں دفاتر سرمائی دارلحکومت جموں میں کام کاج شروع کرتے تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس روایت کے خاتمے سے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپیوں کے نقصان سے نجات مل گئی تاہم بعض سیاسی جماعتوں اور لوگوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔جموں وکشمیر میں دربار مو کی یہ روایت مہاراجہ رنبیر سنگھ نے سال 1872 میں ایک شاہی فرمان کے تحت شروع کی تھی۔