ارینا سیکٹر میں سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد سرحدوں پر فوج کی چوکسی بڑھائی گئی

جموں//جموں کے ارینا سیکٹر میں پاکستانی رینجرس کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر فوج کو مستعد رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔بتادیں کہ منگل کی شام کو پاکستانی رینجرس نے ارینا سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو بی ایس ایف جوان زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ذرائع کے مطابق حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر فوج کی چوکسی بڑھائی گئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ ارینا سیکٹر میں پاکستانی رینجرس کی بلا اشتعال فائرنگ کے بعد سرحدوں پر فوج کو مستعد رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ سرحد پر مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر گزر رکھی جارہی ہے اور ملک دشمن عناصر کی طرف سے کسی بھی ناموافق کوشش کو ناکام بنانے کے لئے فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے ساتھ مشترکہ گشت بھی جاری ہے۔دفاعی ذرائع نے بتایاکہ لائن آف کنٹرول میں اگلی چوکی پر تعینات فوجی اہلکار دن رات نظر گزر رکھے ہوئے ہیں تاکہ سرحد پار سے کوئی بھی ایل او سی کو پار نہ کر سکے۔انہوں نے بتایا کہ ہم انتہائی مستعد ہیں کیونکہ ملی ٹینٹوں نے دراندازی کرکے کشمیر میں داخل ہونے کے ارادارے ترک نہیں کئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ وادی میں قیام امن کو یقینی بنانے کے لئے کشمیر کے350 کلومیٹر سرحد پر چوکسی بڑھائی گئی ہیں۔دفاعی ذرائع نے مزید بتایاکہ سرحدوں پر تعینات افواج کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں تاکہ ملک دشمن عناصر کے منصوبوں کو خاک میں ملایا جاسکے۔ان کے مطابق سرحدوں پر تعینات افواج دن رات اپے فرائض خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ منگل دیر رات پاکستانی رینجرس نے ارینا سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بی ایس ایف کے دو جوان جن کی شناخت آلوک ساہا اور سرجیت وشواس کے بطور ہوئی ہے زخمی ہوئے اور انہیں علاج ومعالجہ کی خاطر گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں منتقل کیا گیا۔